Translate

بدھ، 27 مئی، 2015

میرے بچپن کے دن: کچھ کھٹی میٹھی یادیں

پچھلے دنوں فیس بُک کے ایک گروپ  'بزمِ ادب' میں  'ہفتہء اطفال' منایا  گیا جس میں گروپ کے تمام ممبران نے اپنے بچپن کی باتیں شئیر کی اور بچپن میں پڑھی جانے والی کہانیاں ، نظمیں اور کھیلوں کو بھی شئیر کیا۔۔ میں نے بھی اپنی کچھ یادوں کو کریدا اور صفحہء قرطاس پر اُتارا۔ آج کے اس بلاگ میں وہ تمام باتیں ترتیب وار  پوسٹ کر رہی ہوں۔

بچپن کے کھیل:
کھیل تو بہت چھوٹی عمر سے ہی کھیلے جاتے ہیں اور بچّے کو پیدائش پر ہی بہت سے کھلونوں کے تحائف دے دئے جاتے ہیں تو جناب ہمارا بھی سب سے پہلا کھلونا جھُنجنا ہی تھا جسے آپ گھنٹی بھی کہہ سکتے ہیں۔ کھیلوں کا آغاز گھر میں کھیلے جانے والے کھیلوں سے ہوا جو سب سے پہلا کھیل تھا وہ ' گھی ڈبہ' تھا۔   اس کا آغاز تو مجھ سے ہی ہوا  لیکن پھرہم تینوں بھائی بہنوں کا پسندیدہ کھیل بن گیا۔بچّے عموماً اپنی والدہ کو اُس وقت ضرور تنگ کرتے ہیں جب وہ کچن میں ہو اور خاص کر کے روٹی پکا رہی ہو اور ہمارا شمار بھی ایسے بچّوں میں ہوتا تھا ۔  اس کا حل ہمارے والدِ محترم نے کچھ یوں نکالا کہ بچّے کو کندھے پر بٹھا کر گھر میں گھوماتے اور جب ہم رونے لگتے تو امیّ کے پاس  لے جاتے اور کہتے لو میں گھی کا ڈبہ لایا ہوں گھی خرید لو ۔ یہ تو ایک ترکیب تھی بچّے کو چُپ کروانےکی اور ہنسانے کی لیکن یہ ہمارا سب سے پسندیدہ کھیل بن گیا اور پھر ہم باری باری ابّو کے کندھے پر سوار ہوتے اور کہتے گھی لے لو بھائی۔ وہ لمس وہ کندھا کبھی نہ بھولا جو ہمارا سہارا تھا۔
گھر میں امیّ ابّو کے ساتھ کھیلنے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا تھا نہ صرف اُس وقت تک جب تک باہر جانے کی اجازت نہ تھی بلکہ جب تک وہ حیات رہے رات کو کم از کم  ویک اینڈ پر ہمارے گھر میں لُڈو، کیرم بورڈ ، نام چیز جگہ، چور پولیس، چیل اُڑی، میرا وزیر کون؟   وغیرہ باقاعدگی سے کھیلا جاتا تھا اور یہی ہم نے اپنے بچّوں کے ساتھ بھی کھیلا اور اب تک کھیلتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک اور کھیل بھی کھیلا جو تاش تھا مگر ایک وقت میں امّی ابّو کے ساتھ بیٹھ کر۔گھر میں کھیلے جانے والے کھیلوں میں  ایک کھیل گڑیا  گڈے کا کھیل بھی تھا جو بہت شوق سے نہ صرف گھر میں کھیلا جاتا تھا بلکہ دوستوں کےگھروں میں جا کر بھی مہمان مہمان کھیلتے تھے۔ گڑیوں کے کپڑے بنانا،کھلونوں کےبرتنوں میں کھانا کھانا اور کھلانا، گڑیا اور گڈے کی شادی کروانا سب سے بہترین کھیل ہوا کرتا تھا۔
جب باہر کھیلنے جانے کی اجازت ملی تو پھر سب کھیل کھیلے پکرم پکرائی ، پیل دوج، لنگڑی پالا (جس میں ایک ٹانگ اُٹھا کر دام دی جاتی تھی) برف پانی ،کھو کھو، اونچ نیچ، چھپن چھپائی ،گھوڑا جمال کا، کرکٹ جو گھر سے باہربھی کھیلی اور گھر کے اندر امّی ابوّ کے ساتھ بھی کھیلی ۔اس کے علاوہ ریسنگ کا شوق تھا اور مقابلوں میں بھی حصّہ لیا جس کی پریکٹس کے لئے کچھ وارم اپ ایکسرسایئزز کروائی جاتی تھی جو میرے لئے باقاعدہ ایک کھیل تھی اور میں اُسے گھر میں بھی کھیلتی تھی جس میں رسّی کودنا  (اک ساتھ ۲00 مرتبہ سیدھا اور اُلٹا دونوں) اور گیند کو دیوار کی طرف پھینک کر کیچ کرنا مگر مختلف زاویوں اور طریقوں سے یہ میرا بہت پسندیدہ کھیل تھا جو روزانہ اسکول جانے سے قبل اور رات کو سونے سے قبل کھیلا جاتا تھا۔

بچپن کی نظمیں:
بچپن کی سب سے پہلی نطم جو سنی وہ ایک لوری تھی جو گجراتی زبان میں تھی اور وہ اپنی امّی کی زبانی سُنی  اور اُنھوں نے اپنی امّی سے سنی تھی  شائد نسل در نسل یہی لوری سنائی جاتی تھی۔یہ اتنی میٹھی تھی   کہ جب چھوٹے بھائی بہنوں کا اضافہ ہوا گھر میں تو مجھے وہ لوری زبانی یاد ہو گئی اور پھر میں اُن کو جھولا ڈالتے ہوئے گاتی تھی اور اپنے پھر اپنے بچّوں کو بھی یہ لوری سنا کر سُلایا۔ تھوڑی سی گجراتی زبان میں لکھ رہی ہوں لیکن گجراتی سکرپٹ میں نہیں کیونکہ پھر کسی کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔

نندر ادی رے نندر ادی 
آؤ رے میٹھی نندر آدی
(نیند یا رانی نیندیا رانی
آجا میٹھی نیندیا رانی

نندر ادی کہے آوو چھُو ہوں   
گھی نے گور لاوؤ چھُو ہوں
گڑیا  نے کھوراؤں چھو ہوں
ویلی ویلی آوؤ ں چھُو ہوں
گہری گہری آوؤ چھو ہوں

(نیندیا رانی کہےآتی ہوں میں
گھی اور گُڑ لاتی ہوں میں
گڑیا کو کھلاتی ہوں میں
جلدی جلدی آتی ہوں میں
گہری گہری آتی ہوں میں
نندر ادی رے نندر ادی 
آؤ رے میٹھی نندر آدی

نندر ادی کہے آوو چھُو ہوں   
سوٹ نے بوٹ  لاوؤ چھُو ہوں
گڑیا  نے پیراوؤں چھو ہوں
ویلی ویلی آوؤ ں چھُو ہوں
گہری گہری آوؤ چھو ہوں

(نیندیا رانی کہے آتی ہوں میں
 سوٹ اور بوٹ  لاتی ہوں میں
گڑیا کو پہناتی  ہوں میں
جلدی جلدی آتی ہوں میں
گہری گہری آتی ہوں میں)
 اسی طرح ہر بند میں مختلف چیزیں لائی جاتی تھی ۔ یہ لوری بہت بڑی عمر تک امّی سے سنتے رہے  رات میں سونے سے پہلے۔اس کے بعد کتابوں میں بہت سی نظمیں پڑھی اور سُنی  اور پڑھائی اور سنائی بھی ایک اُستاد کی حیثیت سے۔ کچھ خود بھی لکھی اپنی بیٹیوں کے لئے اور اسکول کے بچوں کے لئے ۔ ایک نظم جو خالہ اور امی دونوں سے سنی چھوٹی سی ہے مگر بہت پیاری اس  لئےلکھ رہی ہوں۔ٹانگوں پر جھولا جھولاتے ہوئے سنائی جاتی تھی بچے کو اپنا لاڈ اور پیار دکھانے کےلئے ۔

جھو جھو بالا
واری آوے خالہ
خالہ نا ہاتھ ما تھالا
تھالا مُکیا لاڈوا
لاڈوا کوئی چاکھے نہیں
گڑیا نے کوئی راکھے نہیں
( جھو لا جھلاؤ بچے کو
واری آئے خالہ
خالہ کے ہاتھ میں تھالی
تھالی میں لڈو
لڈو کوئی کھائے نہیں
 گڑیا کو کوئی رکھے نہیں) 
دونوں میں گڑیا کی جگہ بچّے کا نام لیا جاتا تھا اور جب میں نے اپنی بیٹیوں کو سنائی تو یہ جانا کہ اپنا نام سن کر بچّہ کتنا خوش ہوتا ہے اور وہ جان جاتا ہے کہ جو کچھ بھی کہا جا رہا ہے اُس کے لئے ہے۔ اُن کی کھلکھلاہٹ اور مسکراہٹ  زندگی کو پُر سکون کرنے کے لئے کافی ہوتی ہیں۔

بچپن کی کہانیاں:
پہلی کہانی بھی امّی سے سنی اور ہر بچّہ ماں سے ہی پہلی کہانی سنتا ہے چاہے پھر وہ کوئی سی کہانی کیوں نہ ہو۔ ہماری والدین بھی ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے نہ صرف رات کو سوتے ہوئے بلکہ دن کے اوقات میں بھی۔ ابّو سے کہانی سننے کے لئے تو یا رات کا وقت ملتا یا چھٹی والا دن لیکن امّی کو ہم کسی وقت نہیں بخشتے تھے۔ وہ کتنی ہی مصروف کیوں نہ ہو ہمیں کہانی سنانے کے لئے راضی ہوتی ۔ جب وہ کچن میں  کھانا پکا رہی ہوتی اور ہم کھانے کے انتظار میں بھوک کے مارے بیچین ہوتے تو  اُن کے پاس کہانی کا ہتیار ہوتا ہمیں صبر اور سکون سے بٹھانے کے لئے۔ ہم بھائی بہن کچن میں ہی ڈیڑہ دال دیتے اور وہ پکاتے پکاتے ہمیں کہانی سناتی جاتی اور ساتھ ہمارے فضول سے سوالات کے جوابات بھی دیتی جاتی۔ کبھی کبھی جب امّی کپڑے سی رہی ہوتی ہم مشین کے گرد بیٹھ جاتے اور وہ سیتے ہوئے ہمیں کہانی سناتی جاتی۔ ان کہانیوں میں رام سیتا کی کہانی ہمیں کبھی نہ بھولی ۔ امّی کا بچپن ہندوستان میں گزرا اس لئے یہ سب کہانیاں اُنہوں نے یا تو اسکول میں پڑھی تھی یا اپنی امّی سے سنی تھی ۔ اس کے علاوہ بھی راجا مہاراجاؤں کی ڈھیڑوں کہانیاں ہوتی۔ کبھی اپنی زندگی کے واقعات سناتی۔ ہندوستان  میں گزرا اپنا بچپن، اپنے اسکول کی باتیں ، کھیل کود کی باتیں ، اپنے والدین  اور  رشتے داروں کے قصّے اور پھر ہندوستان سے ہجرت کے دوران پیش آنے والے واقعات جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھے اور کچھ اپنوں سے سنے تھے۔ پاکستان پہنچ کر جن تکالیف کا سامنا کرنا پر ا وہ سب کچھ امّی اور ابّو دونوں سے سنا۔ ان واقعات میں سب سے تکلیف دہ کہانی والد کی سنائی ہوئی تھی جو پاکستان آتے ہوئے راستے میں دادا کے انتقال کی وجوہات بنی۔ ہمارے لئے یہ سب واقعات ایک کہانی کی طرح ہی ہوتے تھے اور بہت سبق آموز بھی کیونکہ اس طرح ہم نے اپنے خاندان والوں کو جانا جو اب ہم میں نہیں تھے ۔ 
اپنے بچّوں سے اپنی زندگی کے واقعات ضرور شئیر کرنے چاہئے اس سے اچھا سبق کہیں اور سے نہیں ملتا جو اصل زندگی سے ملتا ہے۔لیکن ان کے علاوہ بھی امّی اور ابّو نے بیشمار کہانیاں سنی اور کہانیاں سننےکا عمل بہت لمبے عرصے تک جاری رہا  اور اگر اس سلسلے میں اُن کہانیوں کا ذکرنہ کرو جو ہمیں ہماری خالہ زاد بہن نے سنائی تھی تو درست نہ ہوگا۔ جی جناب تو ہم نے ڈراؤنی کہانیاں سننے کا آغاز بہت چھوٹی عمر سے کیا جو کہ ہماری کزن یعنی خالہ زاد بہن سُنایا کرتی تھی جس کو سننے کے بعد اکژ راتوں کو ڈر کر اُٹھ جاتے تھے ۔لیکن وہ ہماری  زندگی کے بہترین اور یادگار لمحے تھے ۔
جب پڑھنا شروع کیا تو پھر بہت کچھ پڑھا  تعلیم تربیت، نونہال، پھول ، بچوّں کی دنیاوغیرہ ان میں سے چھلاوے کی کہانی میری ہمیشہ پسندیدہ ہوتی اور اگلی قسط کا انتظار رہتا۔پھر اشتیاق احمد کو پڑھنا شروع کیا تو کچھ اور ہاتھ میں اُٹھانے کو جی ہی نہیں کرتا تھا ۔ میں نے چوتھی جماعت سے اشتیاق احمد کو پڑھا سب کچھ چاہے کوئی سیریز ہو یا خاص نمبر۔ پھر ڈائجسٹ ہاتھ لگے جس کے لئے کبھی پابندی نہیں لگائی امّی نے۔ اخبارِ جہاں تو باقائدگی سے گھر میں آتا تھا۔لائبریری سے کتابیں لینی شروع کی تو ابنِ صفی کو پھر کبھی نہ چھوڑا۔ ساتھ اشتیاق احمد کو بھی پڑھتے رہے۔ لائبریری سے بے شمار کتابیں لے کر پڑھی ہر  موضوع پر۔ایک کہانی جو امّی کی سنائی  تھی وہ لکھ رہی ہو اس پوسٹ کے ساتھ۔

ماں
 ایک گاؤں میں دو میاں بیوی رہتے تھے۔ اُن کے دو بچّے تھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ دونوں اپنے والدیں کے بہت لاڈلے تھے ۔ اُن کی امّی سارا دن اُن کے گھر کے کام کرتی اور اُن کے لئے اچّھے اچھّے کھانے پکاتی۔اُن کے ابّو جنگل میں لکڑیاں کاٹنے جاتے تھے اور پھر لکڑیاں بیچ کر اُن سے گھر کا سامان لے آتے۔ وہ سب بہت خوش تھے۔ ایک دن اُن کی امّی بہت بیمار ہوگئی ۔ ڈاکٹر کی دوا سے بھی آرام نہ آیا اور وہ اللہ کو پیاری ہوگئی۔ بچّے امّی کو یاد کر کے بہت روتے تھے۔ ابّو نے بہت کوشش کی کہ بچّوں کو سنبھالے لیکن اُن کو جنگل جانا بھی ضروری تھا ورنہ گھر کا خرچہ کیسے چلتا۔ پروسی نے اُن سے کہا کہ وہ دوسری شادی کر لے تو بچّے سنبھل جائے گے۔ پھر ابّو نے دوسری شادی کرلی۔ نئی امّی کچھ دن اُن کے ساتھ بہت اچھی رہی پھر کبھی وہ اُن کو کھانا نہ دیتی اور کبھی ڈانٹتی اور مارتی بھی تھی۔ بھائی بڑا تھا اور سمجھدار بھی اس لئے وہ بہن کو ہمیشہ خود چُپ کروا دیتا اور ابّو کو کچھ نہ بتاتا۔ ایک روز نئی امّی اپنے رشتہ داروں کے گھر چلی گئی اور بچّے دونوں بھوکے تھے۔ بہن رونے لگی تو بھائی اُسے امّی کی قبر پر لے گیا۔ وہاں وہ بہت دیر تک روتی رہ اور امّی کو آوازیں دیتی رہی۔امّی کی قبر آنسوؤں سے بھر گئی۔ پھر وہ روزانہ امّی کی قبر پر جانے لگے۔ ایک روز اُنہوں نے دیکھا کہ امّی کی قبر کے اوپر کچھ پھل لگے ہیں۔ بچّے بھوکے تو تھے ہی دونوں نے پھل کھانے شروع کئے وہ بہت میٹھے تھے۔ دونوں خوش ہوکر گھر واپس گئے۔ اب اُن کی نئی امّی کو پریشانی ہونے لگی کہ وہ بچّوں کو تھوڑا سا کھانا دیتی ہے اور کبھی نہیں بھی دیتی تو پھر بچّے اتنے صحت مند کیسے ہو رہے ہیں۔ ایک روز نئی امّی نے بچوّں کا پیچھا کیا اور دیکھا کہ بچّے اپنی ماں کی قبر سے پھل تور کر کھا رہے ہیں ۔ یہ دیکھتے ہیں اُن کا دل موم ہوگیا کہ ایک وہ ماں ہے جو اپنے مرنےکے بعد بھی بچّوں کے لئے رزق دے رہی ہیں اور ایک یہ خود ہے کہ معصوم بچّوں کو بھوکا رکھتی ہیں۔ اُنہوں نے قبر پر جا کر اُن کی امّی سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ وہ اب ان بچّوں کا خوب خیال رکھے گی۔ اس کے بعد وہ ہمیشہ بچّوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آتی تھی۔ اب سب بہت خوش تھے۔

حرفِ آخر!
بچپن کسی کو نہیں بھولتا ہے اور ہر ایک کے بچپن میں کچھ باتیں مشترک ہوتی ہیں یہ ہم نے اس ہفتہء اطفال میں جانی کیونکہ تقریباً تمام لوگوں کےکھیلے جانے والے کھیل ، پڑھی گئی کہانیاں اور نظمیں کافی ملتی جُلتی تھی لیکن ہر ثقافت کا اپنا ایک رنگ ہوتا ہے۔ جیسے میں نے گجراتی کی لوری یہاں لکھی ایسے آپ کے بچپن کی بھی کچھ یادیں ہوگی ۔ کیا آپ اسے شئیر کرنا پسند کریں گے؟ اگر ہاں تو ضرور لکھئے کمینٹ باکس میں ۔

 ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

منگل، 19 مئی، 2015

دارالسکون

دارالسکون سے مراد ایک ایسا گھر ہے جس میں ہم سکون کی زندگی بسر کر سکتے ہیں اور یقیناً وہ گھر سب اپنوں سے مل کر ہی بنتا ہے جیسے والدین اور  بچّے اور پھر اُن کے بچّے یا پوتے پوتیاں  ،نواسے  نواسیاں وغیرہ۔ ایسا گھر جس میں تمام لوگ مل جل کر رہے اور ایک دوسرے کے ہر دکھ درد ، تکلیف اور مصیبتوں میں اُسی طرح شریک ہو جیسے وہ اک دوسرے کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔ ایسا گھر جہاں ہر فرد اپنی اجتماعی زندگی کو نبھاتے ہوئے بھی انفرادی طور پر آزاد اور خود مختار ہو۔ اپنے وقت سونا ، جاگنا، کھانا پینا اور کام کاج کرنے میں  خود مختار ہو۔ ایسا نہیں کہ ایک گھر میں ایک  ساتھ رہتے ہوئے لوگ اپنی زندگیوں میں آزاد اور خود مختار نہیں رہ سکتے ۔ اگر تو گھر کے تمام افراد مل کر ایک دوسرے کی مشاورت سے فیصلے کرے اور تمام کاموں کے اوقات مقرر کریں تو یہ ممکن بھی ہے اور باآسانی ایسی زندگی گزاری جا سکتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے آج کے دور میں ہماری تمام تر توجّہ اپنے آپ پر رہتی ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے والدین یا دادا  دادی جو اب بوڑھے ہو چکے ہیں وہ بھی ہمارے اوقاتِ کار کے مطابق وقت گزارے اور اپنے آپ کو ہمارے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ ایسے وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کی قوتِ برداشت اب پہلے جیسی نہیں رہی ہیں اور وہ ہمارے وقت کے مطابق ہماری طرح زندگی نہیں گزار سکتے ہیں۔

جب ہمارے والدین بوڑھے ہو جاتےہیں تو بلکل ویسے ہی ہو جاتے ہیں جیسے ہم بچپن میں ہوا کرتے تھے۔ جب بھوک لگے کھانا مانگنے لگے، جب جی چاہا سو جائے، جب دل کیا تفریح کی اور جب دل کیا باہر جانے کی ضد کی۔ جب بچّے ایسی ضدیں کرتے ہیں تو والدین اپنی تمام تر مصروفیات کو درگزر کر کے اپنے بچّوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ بّچّے کی دنیا میں آمد تک اُن کی جو بھی مصروفیات ہوتی ہیں اُسے نظر انداز کر کے اپنا سار ا وقت بچّوں کے لئے وقف کرتے ہیں۔ جب بچّہ آدھی رات کو بھوک سے رونا شروع کرتا ہے تو ماں اپنی نیند کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی اس  کاپیٹ بھرنے کے لئے اُٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ رات میں نہ جانے کتنی بار ماں اور باپ دونوں اُٹھ کر اپنے بچّے کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ۔اکثر اوقات ماں کو اپنے بچّے کی پرورش کےلئے اپنے  کیرئیر کو بھی خیرباد کہنا پرتا ہے اور وہ پھر بھی خوش ہوتی ہیں کہ اُس کے بچّے کی پرورش بہتر طور ہو رہی ہے۔جب بچّہ بیمار ہو تو والدین اُس کی تندرستی اور صحت کے لئے اپنے دن رات ایک کر دیتے ہیں وہ نہیں سوچتے کے اتنی رات تک کیوں جاگوں صبح آفس بھی جانا ہے۔ جب بچّے سیر کو جانے کی ضد کرتے ہیں تو والدین نہیں سوچتے کہ ایک دن تو چھٹی کا ملا ہے کیوں نہ آرام کروں یا اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزاروں بلکہ وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اپنے بچّوں کے ساتھ چھٹی کا دن گزارے اور اس سے بڑھ کر اُن کے لئے کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ لیکن  جب یہی والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں جنہوں نے اپنی حیثیت کے مطابق دنیا کی تمام تر نعمتوں سے مالا مال کیا  ، اچھی تعلیم  دلائی جس کی وجہ سے آج بچّہ ایک اعلیٰ مقام پر فائز ہے اور اتنا مصروف ہے کہ اُسے اب یہ دیکھنے کا وقت ہی نہیں ہے کہ والدین کس حال  میں ہیں۔   اُسے اپنے دوستوں میں وقت گزارنا زیادہ اچھا لگتا ہے، اپنی مرضی سے اپنے وقت پر کھانا  اور سونا اچھا لگتا ہے یہ خیال نہیں آتا کہ کم از کم دن میں ایک وقت رات کا کھانا ہی ساتھ بیٹھ کر کھا لیا جائے والدین کی مرضی سے اُن کے سونے سے پہلے گھر آیا جائے تاکہ کچھ دیر اُن کے ساتھ وقت گزارا جائے اور کبھی کسی چھٹی کے دن اُنھیں بھی ساتھ لے کر جایا جائے۔

اکثر والدین کبھی شکایت نہیں کرتے ہیں اور اپنے آپ کو بچّوں اور اُن کے بچّوں کےوقت کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ لیکن اگر تو کوئی کبھی شکایت کر بیٹھے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ والدین اُن کی ترقّی کی  راہ میں رکاوٹ بنےرہے ہیں اور اُنھیں آزادی میسر نہیں ہیں۔  ایسے وقت میں وہی والدین جو اُن کا بوجھ کاندھوں پر اُٹھا کر گھومتے رہے تھے  بچّوں کو بوجھ لگنے لگتے ہیں اور وہ اُنھیں دارالسکون میں چھوڑ آتے ہیں۔دارالسکون سے مراد ایسا گھر جہاں سکوں میسر آئے  تو وہ والدین جنھوں نے اپنی ساری حیات اپنے بچّوں کے لئے تیاگ دی وہ اب اُن پر بوجھ ہے اس لئے غیروں کے حوالے کر دئے جاتے ہیں۔ کچھ کو پاگل یا نفسیاتی مریض قرار دے دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنا حق نہ ملنے پر بچّوں کی طرح لڑنے اور جھگڑنے لگتے ہیں یا پھر رونے لگتے ہیں۔ وہ نفسیاتی مریض نہیں ہوتے ہیں لیکن جب اُنھیں اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ ضرور نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔

پہلے تو مشرق میں دارالسکون کے نام سے کوئی واقف نہ تھا لیکن اب ہر ملک اور شہر میں ایسے گھر آباد ہو چکے ہیں جن میں  لوگ اپنے والدین اور دادا دادی کو چھوڑ جاتے ہیں ۔ پچھلے دنوں  ایک گروپ کے ساتھ ایسے ہی دارالسکون میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں پر بہت سے لوگوں سے مل بیٹھ کر باتیں کرنے کا موقع ملا۔ ہر فرد کی اپنی ایک الگ کہانی تھی جو کچھ اُن کی زبان سے ادا ہوئی تو کچھ آنکھوں اور آنسوؤں سے۔ اتنا سارا درد دل میں لئے بھی یہ لوگ ایک دوسرے کے لئے جان چھڑکتے ہوئے نظر آئے کیونکہ اب ان کے رشتے دار بھی یہ ہی لوگ ہیں اور دوست اور دکھ درد کے ساتھی بھی۔ہم جیسے لوگوں کو دیکھ کر سب کے چہرے کھل جاتے ہیں اور بعض لوگ تو کہہ بیٹھتے ہیں کہ آپ لوگ آجایا کرے ہمارے گھر سے تو کوئی نہیں آتا ہے۔ بہت سی این جی اوز اور نوجوانوں کے ٹولے یہاں آتے ہیں اور تمام تہوار منائے جاتے ہیں چاہے وہ ایسٹر ہو، ہولی ہو یا عید ہو۔ ویلنٹائن ڈے ہو یا مدرز ڈے ہو۔ مختلف لوگ آکر مختلف قسم کی ایکٹیویٹیز کا انتظام کرتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو اکیلے پن سےنجات دلائی جا سکے۔

میرا اس ادارے میں پچھلے دو ماہ میں تین مرتبہ جانا ہوا اور تینوں مرتبہ ہم نے مختلف سرگرمیاں منعقد کی ۔ جن میں وہاں موجود لوگوں کی سالگرہ منانا، لافنگ تھیراپی، آرٹ اینڈ کرافٹ ایکٹیویٹی اور مدرز ڈے وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں میں تقریباً تمام لوگوں نےبڑھ چڑھ کر حصّہ لیا اور بہت خوش ہوئے۔سینئر سیٹیزنز یعنی بوڑھے افراد کو بھی زندگی کو بھر پور طریقے سے جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ہم لوگوں کو لیکن فرق صرف یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی  زندگی میں یہ خوشیاں خود سے لانے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہیں ۔ وہ عمر کے ساتھ اپنی خود اعتمادی کھو بیٹھتے ہیں اور کچھ بھی کرنے سے گھبراتے ہیں۔ اُنھیں ہر قدم پر ہماری اُسی طرح ضرورت ہوتی ہے جیسے بچپن میں ہمیں اُن کی ضرورت ہوتی تھی۔ وہ ہم سے کچھ نہیں مانگتے ہیں صرف تھورا سا وقت درکار ہوتا ہے اُنھیں خوش رہنے کے لئے اور محبت کے دو بول۔

کیا آپ کے گھر میں آپ کے والدین آپ کے ساتھ رہتے ہیں ؟ کیا آپ اُنھیں اپنا وقت دیتے ہیں؟  کیا آپ کبھی ایسے ادارے میں گئے ہیں ؟ اگر نہیں تو جائے اور سب سے پہلے اپنے والدین کو وہ وقت دیجئے جو آپ پر اُن کا قرض ہے  اور اگر ممکن ہو تو ایسے اداروں میں وقت گزار کر لوگوں کے چہروں پر کھلی مسکراہٹوں کو سمیٹ لیجئے کیونکہ آپ کے بڑھاپے میں یہی قیمتی لمحات آپ کا سرمایہ حیات بنے گے۔ اس دنیا میں اگر سب سے قیمتی تحفّہ ہم کسی کو دینا چاہتےہیں تو وہ ہمارا   وقت اور علم ہے جس کے ذریعے ہم  لوگوں کی زندگی میں بہتری اور مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں ۔ اپنے وقت کا صحیح استعمال کیجئے اور اپنے علم سے لوگوں میں وقت اور علم کی اہمیت کو اُجاگر کیجئے۔
 ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

منگل، 28 اپریل، 2015

دوست حصّہ چہارم: توازن رکھئے

کسی بھی چیز کی زیادتی یا کمی تقصان دہ ہوتی ہے۔  اس لئے ہر  کام میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے مثلاّ کھانے پینے میں توازن رکھنا صحت کے لئے انتہائی ضروری ہیں ۔اس کےلئےمتوازن غذا کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوتا ہے ورنہ صحت کے خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اسی طرح وقت کو گزارنے کے لئے بھی معمولات کا تعین ضروری ہے۔ کھیل کا وقت ، پڑھائی کا وقت ، کام کا وقت یا آرام کا وقت ورنہ زندگی بے ترتیب اور پریشان کن ہو جاتی ہے۔  ہمارے مذہب اسلام نے بھی ہمیں دنیاوی اور دینی کاموں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی تلقین کی ہے۔ عبادات کے ساتھ ساتھ دنیا کے کام کاج اور دنیا والوں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

جس طرح ہم دنیا کے تمام کاموں میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح اپنے رویّوں میں بھی توازن قائم رکھنا بے حد ضروری ہے۔ دوست ضرور بنائے مگر اُن سے میل ملاپ میں توازن نہ کھونے دے۔ ہم اکثر اوقات جانے انجاے میں لوگوں کو اپنی زندگی میں شامل کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر اتنا وقت میسر نہیں آتا کہ سب کے ساتھ رابطے میں رہے جس سے اُن کے دلوں میں خلش پیدا ہوتی ہے اور وہ ہم سے ناراض ہوتے ہیں۔ ایسے ہی کچھ لوگ دوست بنانے میں بہت زیادہ احتیاط برتتے ہیں یہاں تک کہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں پر بھی بھروسا نہیں کرتے ہیں اور لئے دئے رہتے ہیں جس سے اطراف کے لوگ اُنھیں مغرور سمجھتے ہیں۔ اکثر اوقات ہم لوگوں سے بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں لیکن جب وہ ہماری توقعات پر پورے نہیں اُترتے تو ہم دُکھی اور پریشان ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اُن کی غلطی ہے اور اُنہوں نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔ جب کہ یہ ہماری اپنی غلطی ہوتی ہے کہ ہم اپنی ضرورت اور اپنے احساس کے تحت اُن سے توقعات وابستہ کرتے ہیں یہ سوچے سمجھے بنا ء کے اُن کے لئے یہ سب کرنا ممکن بھی ہے یا نہیں۔

کسی سے بھی محبت کرنے سے پہلے اپنے آپ سے محبت کرنا بےحد ضروری ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان صرف اپنی ضرورتوں اور احساسات کا خیال کرے اور اپنے دوستوں کی مجبوریوں اور احساسات کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے۔ ضروری نہیں کہ اگر تو ہم میل ملاپ اور آنا جانا  زیادہ پسند کرتے ہیں تو ہمارے دوست کو بھی وہی پسند ہو۔ ہر ایک انسان کا زندگی گزارنے کا اپنا ایک نظریہ ہوتا ہے اور اچھا اور سچّا دوست وہی ہے جو آپ کے نظریہ سے اتفاق نہ رکھتے ہوئے بھی اُس کا احترام کرے۔  ہمیشہ اپنے دوستوں کے ساتھ مخلص رہنے کے لئے یہ بے حد ضروری ہے کہ کسی بھی معاملے میں صرف اپنی مرضی نہ  برتی جائے بلکہ اپنے دوست کے احساسات کو سمجھتے ہوئے اس کی مرضی کا بھی اُتنا ہی احترام کی جائے جتنا اپنی مرضی کا کرتے ہیں۔

دوستی میں توازن رکھنا بے حد ضروری ہے ورنہ تو بہت سے اختلافات کا سامنا کرنا پرتا ہے اور ناراضگیوں کو بھُگتنا پرتا ہے۔ آج کا ہر دوسرا فرد "سپیس" وقفہ یا فاصلہ چاہتا ہے۔  لوگوں کی زندگی میں بے جا مداخلت چاہے وہ ہمارے دوست ہو یا رشتہ دار ، اکثر مہنگی پرتی ہے بعض اوقات ہمیں اپنی دوستی سے ہی ہاتھ دھونا پرتا ہے۔ دوستوں سے ہمدردی ضرور رکھئے ، اُن کی ضرورتوں کا خیال رکھے ، اُن کی پریشانیوں سے با خبر رہے اور جہاں تک ممکن ہو اُن کی مدد بھی کریں لیکن جس موڑ پر محسوس کریں کے آپ کی مدد  اُنھیں مداخلت محسوس ہو رہی ہے اور وہ آپ سے ناخوش ہے تو اپنے آپ کو وہی روک دیں ۔ دوستی میں جزبات ضرور کارفرما ہوتے ہیں لیکن   زیادہ جزباتی پن بھی اکثر جُدائی کا باعث بن جاتا ہے۔  دوست کو وقت دیجئے  اس مشکل سے نکلنے کا اور آپ کے پاس لوٹنے کا لیکن اس 'سپیس' کو اتنا  طول بھی نہ دیا جانا چاہئے کہ رابطہ ہی منقطہ ہو جائے اور وہ سمجھے آپ اُ س کی پریشانیوں میں اُسے اکیلا چھوڑ کر رفو چکر ہو گئے ۔ 

آخری بات!
 دوستی ضرور کیجئے اور نبھائے بھی لیکن متوازن طریقے سے۔ نہ خود کسی پر بوجھ بنے اور نہ ہی کسی کو اپنے آپ پر بوجھ ڈالنے دیں۔  زندگی میں ہمارے تعلقات تو بہت سے لوگوں سے ہوتے ہیں اور کچھ بہت قریب بھی آجاتے ہیں لیکن ہمارے سب سے قریب ہمارے اپنے گھر والے ہوتے ہیں اس لئے لوگوں سے دوستی ضرور نبھائے مگر خیال رکھئے کہ اس کی خاطر آپ کے اپنے آپ سے دور نہ ہوجائے اور ساتھ ساتھ آپ کو اپنے لئے بھی وقت میسر ہو جس میں آپ وہ کام کر سکے جو آپ کے دل کو بھاتے ہو اور جس سے آپ سکون حاصل کر سکتے ہوں چاہے پھر وہ کتابیں پڑھنا ہو، کھیل ہو، تفریحی مقامات کی سیر ہو یا پھر کوئی رضاکارانہ کام ہو۔ زندگی کے ہر میدان میں توازن رکھنا نہایت ضروری ہے۔
 ثمینہ طارق
مندرجہ ذیل حصّؤں کا مطالعہ  نیچے دئے گئے لنکس پر کر سکتے ہیں۔
جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

غزل: تجھ سنگ بیتا ہر لمحہ حاصلِ سفر لگتا ہے

آج پرانی ای میلز چیک کرتے ہوئے ایک فائل ہاتھ لگی جس کو میں کمپوٹر کی خرابی کی وجہ سے ای میل میں سیو کر کے بھول چکی تھی۔ اس میں بہت سی نظمیں اور غزلیں جو اُن دنوں لکھنے کا شوق سوار تھا وہ رومن میں لکھی ہوئی تھی۔ اُن میں سے ایک غزل اُردو میں تحریر کرکے شئیر کر رہی ہوں جو میں جانتی ہوں نہ وزن میں ہے نہ ہی بحر میں درست ہوگی۔ مگر اگلے وقتوں کی ایک کوشش آپ سب کی نظر۔

تجھ سنگ بیتا ہر لمحہ حاصلِ سفر لگتا ہے
 باقی کا سارا سفر تنہا ، بے خبر لگتا ہے

اِک پل کو تیری دید کی آرزو تھی ہمیں
 وہی پل کیوں بے اعتبار اس قدر لگتا ہے

تیری یادوں کا سایہ ساتھ رہے گا ہمیشہ
 یہ سایہ،اپنی تنہائیوں کا ہمسفر لگتا ہے

تیری بولتی نگاہوں کو جس دم دیکھاتھا
 وہی منظر ہر منظر سے اب معتبر لگتا ہے

تپتے صحرا کی رہگزر ٹھنڈی چھاؤں لگےہے
ساتھ تیرا مجھے اب، سایہ دار شجر لگتا ہے

شمعِ حیات کی لوح چاہے تو بُجھ جائے اب
 مجھ کو تو اپنا یہ سفر اب سفل لگتا ہے


ثمینہ طارق

جمعرات، 19 مارچ، 2015

تجزیہ کتاب: بچپن کا دسمبر۔۔۔۔ہاشم ندیم




کتاب: بچپن کا دسمبر
مصنف: ہاشم ندیم
صفحات:۳۲۰

انتساب: عالیہ کے نام۔۔۔جن کی وجہ سے میں آج تک اپنے بچپن کے دسمبر کو جی رہا ہوں۔ 

پچھلے د نوں  میرے زیرِ مطالعہ ہاشم ندیم کی کتاب بچپن کا دسمبر رہی جو کہ پچھلے کئی ماہ سے شدید مصروفیت کے باعث مکمل نہیں ہو پا رہی تھی ۔ وقفوں سے پڑھنے کے باوجود بھی اس کا ربط نہیں ٹوٹتا  تھا، جس کی پہلی وجہ  تو  کتاب  کا بے حد دلچسپ ہونا ہے اور دوسری وجہ اس کی تقسیم ہے۔ اس کتاب کو تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر دور کو مزید موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے جو بزاتِ خود ایک کہانی کی صورت میں تحریر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں میری دلچسپی وقفوں سے پڑھنے کے بعد بھی کم ہونے نہیں پاتی  تھی۔ جب اور جیسے وقت میسر ہوتا ہے ایک یا دو موضوعات پڑھ لیتی تھی۔

 اس کتاب کا طرزِ بیان آپ بیتی کی صورت ہے  جس کا آغاز  مصنف نے کتاب کے عنوان یعنی دسمبر کے موضوع پر لکھی ایک بہت خوبصورت  نظم سے کیا  ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے اپنے کردار عباد خان عرف عادی کی بچپن سے لے کر جوانی کی روداد کو نہایت لطیف پیرائے میں بیان کیا ہے ۔ عادی کی زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے، ایک اُس کے بچپن کا دور۔۔۔۔دوسرا  دور کیڈٹ کالج میں تعلیم و تربیت کا دور اور تیسرا دور کیڈٹ کالج سے واپسی کا دور۔ ۔۔اس کتاب کی دلچسپی اس کے موضوعات کی وجہ سے قائم رہتی ہے جس میں ابتداء اور انتہا کا عنصر پایا جاتا ہے مثلاً پہلی سہیلی ، پہلا اسکول ، پہلا سجدہ ، پہلا الوداع، آخری نشتر، آخری کفارہ، آخری بھرم ، آخری الوداع   وغیرہ۔ عادی کے علاوہ اس کا اہم کردار 'وجیہ ' کا ہے جسے نازک، حساس ، شفیق اور محبت کرنے والی ہر دل عزیز شخصیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔اس کتاب کا محور 'یاد' ہے کیونکہ اس میں مرکزی کردار اپنی تمام یادوں کو اکٹھا کرتا ہوا زندگی کےمختلف درجات کو بیان کرتا ہے۔جملوں کی ساخت نہایت سادہ الفاظ پر مبنی جس کے باعث قاری کو کہیں بھی اُکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔

پہلے دور میں بچپن کی معصوم شرارتوں  اور منصوبہ بندیوں کا ذکر اتنی خوبصورتی اور سادگی سے کیا گیا ہے کہ اس کو پڑھتے ہوئے اپنی ہر پہلی چیز یاد آنے لگتی ہے ۔اس دور کی سب سے خوبصورت بات 'دوستی' کا احساس ہے جو تحریر کو شگفتگی عطا  کرتا  ہے۔ دوسرے دور میں عادی کی تربیت کے ساتھ ساتھ اس کے پختہ  ارادوں  اور مضبوط طرزِ عمل کا بیان کرتے ہوئے محبت کے نازک جزبات کا بیان متاثر کن ہے۔ تیسرے دور میں دوستی اور محبت کی تجدید  قربانی کے ذریعے کرتی تحریر  جزبات اور فیصلوں کے درمیان توازن قائم کرنے کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ رشتوں کی پاکیزگی اور مضبوطی کو بیان کرتی ہے۔کتاب کا اختتام بھی ہاشم ندیم کی ایک خوبصورت نظم سے  ہوتا ہے۔ خوبصورت جزبوں اور احساسات لئے یہ تحریر شروع سے لے کر آخر تک قاری کو اپنے سے بندے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔اس کتاب کی ایک خوبی اس کی خوبصورت منظر نگاری ہے ۔ اسے پڑھتے ہوئےا یسا  محسوس ہوتا ہے جیسے کہ کوئی فلم آنکھوں کےسامنے رواں دواں ہو۔
یوں تو اس کتاب سے بہت سے اقتباسات یہاں شئیر کئے جا سکتے ہیں لیکن اس وقت ابتدائی نظم کے کچھ اشعار اور اختتامی نظم کے ساتھ صرف آخری دور کا ایک اقتباس شئیر کر رہی ہوں جس میں پوری کتاب کا خلاصہ موجود ہے۔  

ابتدائی نظم کے اشعار:
ہاں مجھے یاد ہے
بچپن کا وہ دسمبر
ٹھٹھرتی ڈھلتی شاموں میں
آنگن کی دیوارس سے سرکتی دھوپ
جلتے ہوئےکوئلے     کی مہک
اور میرے پھٹے ہوئے ہوئے گالوں پر 
لکیریں بناتے 
وہ جمے ہوئے آنسو۔۔۔۔۔۔

"آدی۔۔۔ دنیا میں کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں بات یا ملاقات کی مجبوری نہیں ہوتی۔ وہ انسان کی ہر بات اور اُس کی ہر ملاقات میں ہمیشہ شامل رہتے ہیں۔۔۔۔مانتے ہو نا کہ لفظ اور تصویر ہی سب کچھ نہیں ہوتے۔ جہاں یہ سب کچھ ختم ہوتا ہے وہاں سے تصّور کا رشتہ شروع ہوتا ہے۔"

اختتامی نظم:
رُخصت ہوا تو ہاتھ ملا کر بھی نہیں گیا
وہ کیوںگیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا
یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا
   جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا 
شائد وہ مل ہی جائے            
مگر جستجو ہےشرط                 
وہ اپنے نقشِ پا کو مٹا کر نہیں گیا
ہر بار مجھ کو چھوڑ گیا اضطراب میں
لوٹے گا کب ۔۔؟      
کبھی وہ بتا کر نہیں گیا   
رہنے دیا نہ اُس نے کسی کام کا مجھے
اور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہ گیا

ثمینہ طارق

جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

اتوار، 1 مارچ، 2015

سالگرہ مبارک




آج مورخہ یکم مارچ  ۲۰۱۵ کو میرے پسندیدہ  مصنف جناب مستنصر حسین تارڑ کا ۷۶ واں یومِ ولادت منایا جا رہا ہے۔ میری جانب سے ایک ادنیٰ سا تحفہ اس نظم کی صورت ایک نزرانہء عقیدت۔

سالگرہ مبارک!
صبح کے اُجالوں میں
آنکھوں میں  خواب پرونے والے
اے  مانوس اجنبی!      
سالِ نو کی پہلی کرنیں
تمھاری حیات کی ہر ساعت کو
اس طرح منوّر کر دیں
کہ تمھاری ہستی کا ہر پہلو
اس کی روشنی میں
آشکار ہو جائے
اور!
خوشیوں کا احساس
تمھارے رگ و پے میں
 کچھ اس طرح اُتر جائے
کہ تمھاری مسکراہٹوں سے
تمھارے اپنے ہر پل شاد رہے
آمین!!

 ثمینہ طارق

جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

جمعرات، 26 فروری، 2015

مستنصر حسین تارڑ ریڈرز ورلڈ اور تکیہ تارڑ

آج کے افراتفری کے دور میں عام خیال یہ کیا جاتا ہے کہ لوگوں کو کتابیں پڑھنے کا شوق نہیں رہا اور اگر جنہیں ہے بھی تو وہ کتابیں خرید کر نہیں پڑھتے۔ کتابیں خرید کر پڑھنے کا رواج بے شک اب بھی کچھ کم ہے کیونکہ آج ہمارے ہاتھ میں  موجود ڈیوائس میں ہی ہم تمام کتابیں ڈاؤنلوڈ کر کے پڑھ سکتے ہیں  لیکن پڑھنے کا رجھان بڑھتا جا رہا ہے پھر بے شک وہ کوئی نئی کتاب خرید کر پڑھنا ہو یا پھر پُرانی کتابوں میں سے اپنی پسند کی کتابیں خریدنا ہو یا پھر لائبریری اور دوستوں سے لے کر پڑھنا اور اس کا ثبوت لٹریچر فیسٹیولز اور بُک فئیرز میں لوگوں کا بے تحاشہ ہجوم فراہم کرتا ہے۔

کتابوں سے محبت کرنے والے لوگ صرف اُس میں موجود لفظوں سے ہی نہیں بلکہ اُس کی خوشبو اور لمس سے بھی عشق رکھتے ہیں اور اُن کی تسکین کتاب کو ہاتھ میں لےکرپڑھنے سے ہی ہوتی ہے۔ایسے افرادزیادہ تر اپنے پسندیدہ اور  مخصوص مصنفین کو ہی پڑھتے ہیں اور نہ صرف اُنہیں پڑھتے ہیں بلکہ اُن سے عشق رکھتے ہیں اور اُنھیں اپنا مرشد سمجھتے ہیں۔ایسے ہی  کتابوں کے کچھ عشاق نے فیس بک پر'مستنصر حسین تارڑ ریڈرز ورلڈ  'کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا  جو کہ ہمارے ملک کے مایہ ناز مصنف مستنصر حسین تارڑ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے وجود میں آیا تھا۔ اس کے  بانی کینیڈا میں مقیم محمد عاطف فرید ہیں اور ایڈمینز میں تہمینہ صابر ، سمیرا انجم ،جمیل عباسی ، نسرین غوری شامل ہیں ۔ یہی نہیں اس  گروپ کی خاص بات یہ ہےکہ اس میں تارڑ صاحب کی بیگم محترمہ میمونہ تارڑ صاحبہ ،بھائی مبشر حسین تارڑ صاحب  اور صاحبزادے سلجوق تارڑ بھی شامل ہیں ۔  یہ ایک ایسی دنیا ہے جس  نے تارڑ صاحب سے عشق رکھنے والوں کا آپس میں ملاپ کروایا اور نہ صرف یہ بلکہ تارڑ صاحب سے ملاقات کے سلسلہ کی بھی ابتداء کی۔
ریڈرز ورلڈ میں شامل ہونے والے لوگ ایک فیملی کی صورت اختیار کرتےجا رہے ہیں جو ساتھ مل کر بہت سی سرگرمیوں اور  تقاریب  کا انعقاد کرتے ہیں۔جن میں تارڑ صاحب سے ملاقات ایک اہم تقریب ہوتی ہیں۔ تارڑ صاحب پاکستان کےجس شہر میں بھی کسی کانفرنس یا فیسٹیول میں شرکت کے لئے جاتے ہیں ریڈرز ورلڈ کے ایڈمن اور ممبران مل کر اُن سے ملاقات کا کوئی نہ کوئی ذریعہ دریافت کر لیتے ہیں اور تارڑ صاحب اتنے مہربان اور مشفق ہیں کہ ہو ان کو کبھی نہیں ٹالتے اور سب سے مل کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ایسی ملاقاتوں میں ممبران تارڑ صاحب کی کتابوں میں سے اقتباسات پڑھتے ہیں اور اُن سے سوالات پوچھتے ہیں جن کے جوابات وہ خندہ پیشانی سے دیتے ہیں اور بلکل ایک دوستانہ اور گھریلو ماحول ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک تقریب کا ذکر  میں اپنے بلاگ  طویل سفر کے بعد ایک خوشبو بھری ملاقات، مستنصر حسین تارڑ صاحب کے ساتھمیں کر چکی ہوں۔ تارڑ صاحب نے چونکہ زیادہ ترسفرنامے لکھے ہیں تو ان کے سفرناموں کو پڑھ کر بے شمار لوگ  سفر کرکے اُن کے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے اُن مقامات تک پہنچتے ہیں اور اب ریڈرز ورلڈ کے بہت سے ممبران مل کر ایسے سفر پر نکلتے ہیں ۔اس موضوع پر ایک نظم       تمھارے کہے لفظبھی لکھ چکی ہوں۔

یکم مارچ ۲۰۱۳ کو یومِ مستنصر قرار دیا گیا اوراب ہر سال یکم مارچ کو یومِ مستنصر منایا جاتا ہے۔  یکم مارچ ۲۰۱۴کو  تارڑ صاحب کی ۷۵ ویں سالگرہ منائی گئی اور ۲۰۱۴ کے سال کو' تارڑ صاحب کا سال 'قرار دیا گیا اور اس سلسلے میں ریڈرز ورلڈ نے بہت سی تقریبات  کا انعقاد کیا۔جس میں کریٹیو رائٹنگ ورکشاپ،  لاہور کے اولڈ سٹی کی سیر اور تارڑ صاحب سے ملاقات وغیرہ۔ لیکن ریڈرز ورلڈ کی ایک  نہایت عمدہ کاوش ' تکیہ تارڑ' ہے جو کہ ریڈرز ورلڈ کے تمام ممبران کے لئے تسکین اور تشفی کا کام کرتی ہے۔

'تکیہ' بنیادی طور پر بیٹھنے کی جگہ کو کہا جاتا ہے اور پنجاب میں خصوصاً اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں بیٹھ کر قصّے کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ اس محفل کے انعقاد کے لئے صرف پُر سکون ماحول میں بیٹھنے کی جگہ ، چند کتابیں اور ایسے دوستوں کی ضرورت ہوتی ہیں جو کتابوں سے شغف رکھتے ہو۔  'تکیہ تارڑ' سے مراد ایسی محفل ہیں جس میں تارڑ صاحب کو پڑھنے والے اور ان سے چاہت رکھنے والے جو اپنے آپ کو متاثرِ تارڑ کہلانا پسند  کرتے ہیں، اکٹھے ہو کر تارڑ صاحب کی کتابوں میں سے  اپنی پسند اور ذوق کے مطابق اقتباسات پڑھتے ہیں اور ان پر تبادلہ خیال بھی کیا جاتا ہے۔

تارڑ صاحب اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں:
 "پچھلے بیس برس سے ہر سویر ماڈل ٹاؤن پارک میرے لیے ان زمانوں کی کرپشن، بے ایمانی اور دہشت گردی سے وقتی فرار کی ایک پناہ گاہ رہا ہے۔ وہاں نہ صرف بھانت بھانت کے پرندے چہکتے ہیں بلک عجیب و غریب خصلتوں اور عادتوں کے انسان بھی سیر کرتے پائے جاتے ہیں۔ مثلاً وہاں سیر کے بعد جو اجتماع ہوتا ہے اور جسے ایک زمانے میں ’’تکیہ تارڑ‘‘ کا نام دیا گیا تھا اگرچہ ان دنوں وہی تکیہ تارڑ کو ہوا دینے لگا ہے وہاں نہ صرف نہایت متمول صنعتکار، ریٹائرڈ بینکر، انجینئر، مذہب سے شغف رکھنے والے اور مذہب سے باغی براجمان ہوتے ہیں بلکہ ادب اور شاعری سے والہانہ محبت کرنے والے اور ٹاٹ کے سوداگر بھی رونق افروز ہوتے ہیں۔۔۔ یہ سب لوگ بنیادی طور پر پر خلوص اور محبت کرنے والے ہیں"

ریڈرز ورلڈ کے بہت سے ممبران تارڑ صاحب سے ملاقات کی غرض سے مادل ٹاؤن کے اس پارک میں صبح سویرے پہنچ جاتے ہیں اور وہاں اس تکیہ تارڑ میں بھی شریک ہوتے ہیں ۔ یہی دیکھ کر ایڈمینز نے ریڈرز ورلڈ کے ممبران کو ایک ایسا پلیٹ فورم فراہم کرنا چاہا جس میں  ممبران کم از کم مہینے میں ایک بار مل بیٹھ کر اپنے پسندیدہ مصنف ، ڈرامہ نگار، میزبان،کالم نگار، کوہ نوردسفرنامہ نگار،۔آوارہ گرد( جیسا تارڑ صاحب خود کو کہلوانا پسند کرتے ہیں ) جناب مستنصر حسین تارڑ کی کتب پڑھے اور اس پر نہ صرف تبادلہ خیال کرے بلکہ اس تقریب کی رپورٹ بھی تحریری صورت میں ایونٹ پیج پر پوسٹ کرے جو کہ 'تکیہ تارڑ' کے نام سے تشکیل دیا گیا ہے۔

'تکیہ تارڑ 'کو منعقد کرنے کے لئے کسی خاص مقام تجویز نہیں کیا گیا ہے  اور نہ ہی کوئی خاص شہریا ملک۔ متاثرینِ تارڑ میں سے جب جو چاہے اور جہاں چاہے اور جس طرح چاہے اس کا انعقاد کر سکتا ہیں۔  اب تک جتنے بھی تکیہ تارڑ منعقد ہوئے وہ مختلف مقامات اور مختلف طریقوں سے منعقد کئے گئے۔ کچھ ممبران نے ایک پارک کو منتخب کیا اور اُس میں بیٹھ کر کتابوں سے لطف اندوز ہوئے تو کچھ نے اپنے گھر میں دوستوں اور ممبران کو بلا کر اس محفل کو سجایا۔ کچھ نے  سکائپ پراپنے دوستوں کے ساتھ آن لائن اس محفل کا انعقاد کیا تو کچھ نے متاثرین تارڑ جو تارڑ صاحب کے سفر ناموں کو پڑھکر خود بھی سفر پر نکل کھڑے ہوتے ہیں ، سفر کے دوران بس کی چھت پر ہی اس محفل کو منعقد کیا اور کچھ نے ان جگہوں پر پہنچ کر تارڑ صاحب کی کتابوں میں سے اُن جگہوں کے متعلق اقتباسات پڑھ کر اپنے سفر کو یادگار بنایا تو کچھ نے نائٹ کیمپنگ کر کے لالٹین کی روشنی میں بھی ان کتابوں کو اپنا ہمسفر کیا ۔اساتزہ کے ایک گروپ نے اپنے اسکول میں فارغ وقت میں 'تکیہ تارڑ' منعقد کیا جو بہت شاندار طریقے سے انجام پایا۔متاثرینِ تارڑ نہ صرف تکیہ تارڑ منعقد کرتے ہیں اور اس پر تبادلہ خیال سے لطف اندوز ہوتےہیں بلکہ اپنی ان تقریبات یعنی تکیہ تارڑ کا پورا احوال بھی بمع تصویروں کے تحریر کرتے ہیں۔ ایسی ہی کچھ تصویروں کا ایک کولاج میں یہاں پوسٹ کر رہی ہوں جس سے آپ کو ان کی دیوانگی اور کتابوں سے محبت کا اندازہ ہو جائے گا۔


یکم مارچ۲۰۱۵ کو تارڑ صاحب کی ۷۶ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے اور اس کی تقریب میں بھی ریڈرز ورلڈ کے ممبران پاکستان کے تمام شہروں سے شرکت کریں گے۔ اس سلسلے میں ریڈرز ورلڈ کی ایک ممبر نورین تبسم نے تجویز پیش کی کہ تارڑ صاحب کوفروری کا پورا مہینہ ان کے لفظوں کا نزرانہ پیش کیا جائے نورین لکھتی ہیں " یوم مستنصر حسین تارڑ تک روزانہ اس دوست کے لئے ،اس کے اپنے الفاظ سے بہتر کوئ تحفہ نہیں جو تنقید و توصیف سے بےنیاز ہمیشہ دل کی باتیں کہتا ہے ۔ ہم نے یکم مارچ سے سال ۲۰۱۴ اُس کے نام کیا۔ یہ ہماری طرف سے ایک ادنٰی کاوش تھی۔ اب یکم مارچ۲۰۱۵ تک صرف فروری کے ۲۸ روز درمیان میں ہیں۔ ان اٹھائیس (۲۸)روز میں ہم نے ہر روز اس کو اس کے لفظ کا تحفہ دینا ہے"
 ریڈرز ورلد کی دیوار (wall) پر ممبران تارڑ صاحب کی کتب میں سے اقتباسات لکھ کر پوسٹ کرتے ہیں تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ ان سب کے اپنے دلوں کا حال بھی لوگوں تک پہنچایا جائے اُن کے اپنے لفظوں کی صورت تو ایسے ہی کچھ متاثرینِ تارڑ کے تاثرات میں  جو انہوں نے 'تکیہ تارڑ' کی وال پر لکھیں ذیل میں  درج کر رہی ہوں۔

شاہ جی لکھتے ہیں:
"قائد کا ایک اشارہ ،حاضر حاضر لہو ہمارا''،اور یوں ہاکس بے کے ساحل کے نظاروں کے قریب ہم نے سر تارڑ کی ''سنو لیک''اور ''کالاش'' کے نظاروں کےساتھ ''دیس ہوئے پردیس میں ''سے پرانی کراچی کے ٹراموں والی بندر روڈ کے نظارے کئے اور خوب کئے ،ہفتہ کی شام پانچ بجے سے شروع ہونی والی ''تکیہ تارڑ ''کی یہ محفل اس لحاظ سے باقی تکیہ محفلوں سے ممتاز کہلانے کا استحقاق رکھتی ہے کہ یہ محفل رات ساڑھے تین بجے تک چلتی رہی ۔"

فریال عثمان خان جو کہ تارڑ صاحب کے لفظوں کو پڑھتے ہوئے خود بھی ٹریکر بن چکی ہیں لکھتی ہیں:
"سبھی نے اپنے اقتباس پڑھ ڈالے۔کچھ مزے کے قصے سناتے رہے، کچھ حسب حال جو گزری سر کی کتابیں پڑھ کر وہ سناتے رہے۔ان میں کسی کی قلبی واردات کا حال پوشیدہ تھا کسی کی زندگی کا رخ کیسے بدل گیا اور کوئی کیسے برف سفید جنگل کی تنہائی کا اسیر ہو گیا سر کے ساتھ ساتھ ۔"

فرح وقاص خان لکھتی ہیں:
"پاکستان کے شمالی علاقے قدرتی حسن سے مالا لال تو ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کس کافر کو انکار ہے، لیکن جس ہستی نے ان نظاروں کی زبان ایک عام قاری کے لیئے قابل فہم بنائی وہ بلا شبہ تارڑ صاحب ہیں۔ سو یہ نشست تارڑ صاحب کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیئے رکھی گئی ہے۔"

سید عرفان احمد لکھتے ہیں:
"مستنصر صاحب کی شخصیت، اُن سے پہلی ملاقاتیں، اُن کے ساتھ کے واقعات اور باتیں، اُن کے سنائے ہوئے واقعات، اور اُن کی کتابیں ۔۔۔ جس کے پاس جو کچھ تھا، اُس نے درختوں کے اس جُھنڈ کی ٹھنڈی چھاؤں کی طرح پھیلا دیا۔"

رانا عثمان نے تارڑ صاحب سے ماڈل ٹاؤن کے پارک میں ملاقات کا حال لکھتے ہوئے لکھا:
دُھند نے ماڈل ٹاؤن پارک کو ایسے ُچھپا رکھا تھا کہ جیسے وہ کوئی گوہر نایاب ہو لاہور شہر میں ....گوہر نایاب تو ہونا تھا کہ جس پارک کو تارڑ جیسا لکھاری رونق بخشتا ہو اسے گوہر نایاب ہونا ہی تھا سارے شہر کی دھند تارڑ صاحب کے لئےاس روز ماڈل ٹاؤن میں اتر آئی تھی کہ بلاشبہ جانتی تھی کہ دھندآلود منظر اس لکھاری کو کتنا بھاتا ہے۔


علی کامی تکیہ تارڑ کے احوال کا اختتام کرتے ہوئے لکھتے ہیں

"مجموعی طور پر ایک شاندار شام اپنے اختتام کو پہنچی بے شک تارڑ سر تکئیہ تارڑ میں خُود موجود نہیں ہوتے لیکن لوگ اس محفل میں شریک ہوتے ہیں وہ بذاتِ خُود تارڑ ہوتے ہیں کہ اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں اپنے لیے وقت نہ ہو وہاں کسی کے نام پر ایک خاندان کی طرح مختلف لوگوں کا اکٹھے ہونا بلاشُبہ بہت بڑی بات ہے۔"-

محمّد عمیر ساقی لکھتے ہیں:
" نومبر کو پنڈی میں ہونے والے تکیہ تارڑ کی اچانک منسوخی کے باعث میں نے اور فرخ شہزاد نے طے کیا کہ ہم اپنے جنگل نائٹ کیمپ میں ایک مختصر سا تکیہ تارڑ بھی کر لیں۔ یہ طے پانا تھا کہ باقی سامان کے ساتھ ساتھ تارڑ سب کی کچھ کتابیں بھی بیگ میں رکھیں۔ فرخ بھائی نے مختلف کتابوں سے اقتباس پڑھے لالٹین کی روشنی میں۔"

زاہد عامر لکھتے ہیں:
"یوں تو تکیہ تارڑ کا انعقاد مختلف اوقات میں مختلف جگہوں پہ جاری ہے مگر کراچی کے کنٹری سائیڈ chalet 
میں اچانک تکیہ تارڑ کا سمیرا انجم کی طرف سے بطرز منادی کچھ نرالہ ہی تھا.. فون کی گھنٹیاں بجنے لگیں.. ایس ایم ایس کے بنڈل بکھرنے لگے اور ان میں بس ایک ہی اعلان تھا کہ 'سجا ہے تکیہ اور سب کو ہے جانا' "

"میں اور فیضان نے نے کتاب منتخب کی 'منہ ول کعبے شریف ' صفحات تھے احرام باندھنے کے عمل اور اس کے تقاضوں کے بارے. پڑھتے پڑھتے مجھ پر واقعی ایک مختلف کیفیت طاری تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ موسیقی کا بے ہنگم شور کہیں دب گیا ہے۔ مجہھے لگا کہ اس کلب کے تمام درخت ، پتے ، ہمیں سن رہے ہوں۔ پانی میں اک سکوت ہو۔ اسکی گہرائی میں بھی یہ آواز پہنچ رہی ہو۔ میں نے فیضان قادری کو کہا کہ بخدا دو مرتبہ یہ احرام بآندھ کر بھی میں اس کے باندھنے کا صیح طریقہ اور مقصد نہ سمجھ سکا جو مجہھے ایک غیر مولوی نے سمجھا دیا اور پھر ہم اپنے حصے کا اقتباس پڑھ کر کشتی سے اتر آئے. یقین مانیے کولمبس بھی اپنی کشتی سے اترتے ایسی خوشی نہیں ہوئی ہو گی جو ہم دونوں کو میسر آئی تھی. "

سمیرا انجم جنہوں نے ہاجرہ ریحان کے ساتھ مل کر آن لائن تکیہ تارڑ کیا وہ کچھ یوں لکھتی ہیں:
آن لائن تکیہ تارڑ ساہیوال سے کراچی:  
"تکیہ تارڑ" کا یہ بھی ایک انداز ہے۔ آج ساہوال اور کراچی میں بیک وقت اس کا انعقاد ہوا۔۔ جس میں ساہوال سے آنسہ سمیرا انجم اور کراچی سے محترمہ حاجرہ ریحان نے شرکت کی۔سمیرا "بہاؤ" میں بہتی آئی اور حاجرہ نے " خس و خاشاک زمانے" کو ساتھ لے کر چلنے کی سعی کی۔۔۔ یہ تکیہ دو گھنٹے اور بیس منٹ تک جاری رہا جس میں ایک کے بعد ایک "بہاؤ" کی لہروں پر سمیرا نے بہنے کی کوشش کی اور حاجرہ نے بہت اچھے انداز سے کچھ "خس و خاشاک زمانے" چھیڑے اور ان پہ دونوں نے مل کے ایک طویل سفر کی۔ مختصر یہ کہ آواز پہ توجہ ہونے سے ہم دونوں ہی ناولوں کے پس منظر میں کھو گئے اور یہ بہت اچھا تجربہ رہا آپ بھی کیجئے گا۔

علی عمر جنہوں نے ساہیوال میں 'تکیہ تارڑ' کا انعقاد کیا وہ لکھتے ہیں:
"اور یہ تکیہ تارڑ اِس لئے ہے کہ تارڑ صاحب کو پڑھنے والے اور اُن سے چاہت رکھنے والے جن کو متاثریِن تارڑ کا نام دیا جاتا ہے.. اکٹھے ہوتے ہیں اور اُن کے قصے کہانیاں ایک دوسرے کو سنائی اور اُن پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے.. اِس کےعلاوہ تارڑ صاحب سے متعلقہ معلومات بھی ایک دوسرے سے شئیر کی جاتی ہیں.."
"اور یہ تکیہ تارڑ ساھیوال اِس لئیے ہے کہ یہ ساھیوال کے ممبران کی نشست ہے. ہر شہر میں اپنا اپنا تکیہ تارڑ ہوتا ہے.
.اِس ایونٹ کی سب سے خاص بات.. سب ممبران کو تارڑ صاحب کے تہنیتی پیغام کی ایک ایک کاپی, ریڈر ورلڈ انتظامیہ کی طرف سے ریڈر ورلڈ کا مونو گرام اور کیلنڈر دیا گیا"..

نسرین غوری لکھتی ہیں:

"پچھلے تکیہ تارڑ کے اختتام پر ثوبیہ اور عثمان نے اگلا تکیہ تارڑ اپنے گھر رکھنے کی دعوت دی جو ہم نے قبول کرلی۔ 
سو آج ہم اپنے وعدے کی تکمیل کے لئے ثوبیہ اورعثمان کے گھر موجود تھے ۔پہلے تکیہ تارڑ کے موقعے پر فرحت بخاری نے یہ تجویز دی تھی کہ کیوں نہ ہم تارڑ صاحب کی ایک کتاب منتخب کرکے اس سے اقتباسات پڑھیں اور اس پر ڈسکشن کریں۔ لہذہ اس تجویز کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ثوبیہ اور عثمان کے ارادہ حج کے حوالے سے چاچا جی کے سفرنامہ حج "منہ ول کعبے شریف" کا انتخاب کیا گیا تھا۔ "

کتاب سے محبت رکھنے والے اس کا حق ضرور ادا کرتے ہیں اور لفظوں کی کہکشاں میں اس لکھاری کے دل تک پہنچنےکی کوشش ضرور کرتے ہیں جس نے انہیں ان لفظوں کا تحفہ بخشا ہو اور پھر لکھاری اگر 'مستنصر حسین تارڑ 'جیسا ہو جو نہایت مشفق، مہربان اور محبت کرنے والا ہو تو پھر اُس سے عشق ہونا لازم ہے۔ تکیہ تارڑ نے کتاب پڑھنے کے رُجھان میں اضافہ کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے لئے ریڈرز ورلڈ کے ایڈمن مبارک باد کے مستحق ہے جنہوں نے لوگوں  میں کتاب کا شعور پیدا کیا۔ ریڈرز ورلڈ کے ممبران نہ صرف تارڑ صاحب کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں بلکہ فیس بُک پر بزمِ ادب کے نام سے ایک اور گروپ بھی بنایا گیا ہے جس میں مختلف کتابوں سے اقتباسات، شاعری ، طنزومزح اور تبصرے بھی شئیر کئے جاتے ہیں اور اُن پر تبادلہ خیال بھی کیا جاتا ہے۔ساتھ ممبران کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے لئے بھی مواقع فراہم کئے جاتے ہیں اور اُن کی تحریروں کو بھی بزم میں شامل کیا جاتا ہے۔

کیا آپ کتاب  پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں؟ کیا آپ کے اِرد گرد کے لوگ کتاب پڑھنے کے شوقین ہیں؟ اگر ہے تو پھر ایسے 'تکیہ ' کو منعقد کیجئے اور اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر کوئی بھی کتاب پڑھئے اور ایک دوسرے کو سنائے اور اگر آپ کے حلقہء احباب میں ایسے لوگ شامل نہیں تو اپنے دوستوں کو اپنے گھر بلائے اور اُنہیں 'تکیہ' سے متعارف کروائے اور کتاب کے ذوق کواپنے اطراف کے لوگوں میں پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیجئے۔
فیس بُک پر تارڑ صاحب کے آفیشیل پیج اور گروپ  موجود ہیں اور اُن کے نام کی گوگل کمیونٹی بھی موجود ہیں جن میں آپ شامل ہو سکتے ہیں ۔ ان کے لنک نیچے دئے گئے ہیں۔

اس بلاگ کے لئے میں ریڈرزورلڈ کے ایڈمن سمیرا انجم  کی ممنون ہوں جنہوں نے مجھے ریڈرز ورلڈ سے مواد اور تصوریں لینے کی اجازت دی اور ریڈرز ورلڈ کی ایک ممبر ہونے پر بے حد مطمئن اور خوش ہوں۔

ثمینہ طارق

جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔