Translate

بدھ، 16 جولائی، 2014

وہ بچّہ کیسے معتبر ہوگا


وہ بچّہ کیسے معتبر ہوگا
درد سے جس کا سینہ خوگر ہوگا 

پانی پر نقش بنا کر
اپنے ہاتھوں سے مٹاتا ہے
کبھی کاغز پر منظر کھینچ کر
پانی میں اُس کو ڈبوتا ہے
وہ کیوں کر ان نقوش میں
ان مناظر میں
رنگ بھر پائے گا
مفلسی کی چادر تلے
جس کا اپنا چہرہ      
بے رنگ ہوگا
اس کی تو آنکھ کا ہر منظر ہی
بدرنگ ہوگا
وہ بچّہ کیسے معتبر ہوگا
درد سے جس کا سینہ خوگر ہوگا

کبھی اپنے جذبوں کو
لفظوں میں پرو کر تولتا ہے
کبھی لفظوں کی گہرائی میں خود اُتر کر
اپنے جذبوں کو ڈبوتا ہے
سارے لفظ مل کر بھی
اس کے اندر کو نہیں کھولتے
اُس درد کو نہیں ٹٹولتے
جو کہ
اُس کی آنکھ کا صرف
ایک آنسو بولتا ہوگا
وہ بچّہ کیسے معتبر ہوگا
درد سے جس کا سینہ خوگر ہوگا 

یہ نظم  میں نے ۲۰۰۵ میں کشمیر میں آنے والے زلزلے کے بعد لکھی۔ اُن دنوں میں ایک کمیونٹی اسکول سے وابستہ تھی اور بہت سے ایسے بچّے رابطے میں تھے جن کا معیارِ زندگی اسقدر بدتر تھا کہ وہ مفلسی اور محرومی کی انتہا پر تھے۔ ہمارا کمیونٹی سینٹر ایسے بچُوں کی  مفت تعلیم و تربیت کے لئے کام کر رہا تھا ۔ اسی سلسلے میں کچھ ورکشاپ منعقد کئے گئے تھے جن میں بچّو ں کو مختلف سرگرمیاں کرواتے ہوئے اُن کا تفصیلی مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم ہوا اور ایک سوچ مسلسل ذہن میں رہی کہ یہ بچّے آخر کس طرح اپنا مستقبل سنوار پائے گے جن کے پاس نہ صرف  تعلیمی سہولتوں کا فقدان  ہے بلکہ جنہیں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔  بہت سے ادارے  کوشش تو کر تے ہیں کہ انہیں بہترین تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ اُن کی زندگی کی بنیادی ضروریات کو بھی پورا کیا جائے لیکن ان بچوں کو نفسیاتی مدد کی بھی بے انتہا ضرورت ہوتی ہیں جو صرف محبت اور شفقت سے ہی فراہم کی جاسکتی ہے۔

انہی دنوں ۵ اکتوبر کو رمضان کے مہینے میں ہی  پاکستانی تاریخ کاایک  بڑا زلزلہ وقوع پزیر ہوا ۔ صبح جیسے ہی ٹی وی کھولا تو خبروں میں یہ سُن کرلرزہ طاری ہو گیا کہ زلزلہ سے بہت سے بچّے متاثر ہوئے ہیں کیونکہ وہ اسکول میں تھے اور اسکول کی عمارات کچی تھی وہ سب بچّے منوں مٹی تلے دب گئے- اس زلزلے نے جہاں لاکھوں لوگوں کی جانیں لی وہیں پر بے شمار لوگ معزور ہوگئے  جن میں بے شمار بچّے شامل تھے۔ ایک سوچ جو اُن بچوں کو دیکھ کر دل میں اُبھری وہ یہی تھی کہ ہم ان بچوں کی مفلسی کو دیکھ کر اسقدر افسردہ  ہوتے ہیں اب یہ بچّے جو اتنے بڑے حادثے سے گزرے ہیں اورنہ صرف اپنے ماں باپ اور رشتے داروں کو بلکہ  اپنے جسم کے اعضاء تک کھو بیٹھے ہیں آخر کس طرح اس دنیا میں اپنا مقام بنا پائے گے۔ اسی طرح جب ۲۰۱۰ میں سیلاب آیا تو بے شمار بچّے اپنوں سے بچھڑ گئے ، اپنے گھر بار، بہن بھائی اور ماں باپ کو کھوبیٹھے۔ کتنی بیماریوں کا شکار ہوئے اور پھر تھر میں قحط کا شکار ہونے والے بچے جنہیں   نہ تو خوراک مہیا تھی اور نہ ہی رہنے کا ٹھکانا۔ ان تمام قدرتی آفات میں تمام لوگ متاثر ہوتے ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ شکار بچّے ہوتے ہیں وہ نہ خود کو سنبھالنے کے قابل ہوتے ہیں نہ ہی ان آفات کو اور ان کے اثرات کو سمجھنے کے۔


آج اپنے اطراف میں نظر گھماؤ تو ہر طرف ایسی آفات موجود ہیں جو کہ بچّوں سے اُن کے جینے کا حق چھین رہی ہے اور افسوس تو یہ ہے کہ وہ صرف قدرتی آفات نہیں ہیں بلکہ انسانوں کے اپنے پیدا کردہ مسائل ہیں جن سے سب سے زیادہ متاثر بچّے ہوتے ہیں۔ چاہے وہ جنگ ہو یا دہشت گردی ہو بچّے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔شام ہو، عراق ہو یا فلسطین ہر طرف بے شمار بچّے اپنی جانوں کو کھو چکے ہیں اوربے شمار معزور ہو چکے ہیں۔کشمیر ہو یا وزیرستان یا دنیا کا کوئی بھی حصّہ جہاں دہشت گردی ہو رہی ہے وہاں بچّے متاثر ہو رہے ہیں اور ایسے بچّے  کس طرح زندگی کی ڈور کو کھینچ کر چل سکتے ہیں۔ جب ہم نے اسکول میں آنے والے غریب بچوں کا تجزیہ کیا تو ہمیں یہ جان کر بے حد دُکھ ہوا تھا کہ کوشش کے باوجود یہ بچّے نفسیاتی طور پر ایک پُر سکون اور پُر آسائش زندگی بسر کرنے والے بچّے کی طرح نہیں ہو سکتے ہیں۔

 تو سوچئے یہ جو بچے ان تمام آفات کی نظر ہو رہے ہیں ، جو دھماکوں میں نہ صرف اپنے گھر بار اور خاندان کو کھو بیٹھتے ہیں بلکہ اپنے ہی جسم کے اعضاء کو کھو کر ساری زندگی معذوری میں گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں وہ  کسطرح اپنی زندگی کو نارمل رکھ پائے گے۔ ہمیشہ ایک کمی کا شکار رہے گے اور اس کے زمّہ دار ہم بڑے ہیں کیونکہ اس جنگ و جدل کے محرک ہم ہی ہے جنگ بچّے نہیں کرتے مگر متاثر بچّے ہی ہوتے ہیں۔

آج ہمارے ملک کے ایک مایہ ناز مصنف مستنصر حسین تارڑ صاحب کے ایک انڑویو کا ایک حصْہ دیکھا جس میں اُنہو ں نے ایسے ہی بچّوں کے بارے میں بات کی ہے تو یہ نظم یاد آئی اور یہ سب تحریر ہوا اس لیے اُن کے انٹرویوں کا لنک دے رہی ہوں آپ بلاگ پڑھے تو یہ لنک ضرور دیکھئے گا۔


ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔


جمعرات، 3 جولائی، 2014

انا

انا کی جنگ بڑی کٹھن ہوتی ہے
اس راہ میں بڑی جلن ہوتی ہے
اس پر چلتے ہوئے
کبھی دل تڑپتا ہے تو
کبھی روح مچلتی ہے
اس کی جیت میں بھی کہیں
ہار چھپی ہوتی ہے
انا کی جنگ بڑی کٹھن ہوتی ہے

انا اور خودی کے درمیاں
اک باریک سی لکیر ہوتی ہے
آنسوؤں سے بھری
 اس کی تقدیر ہوتی ہے
خودی کو بچاتے ہوئے
اکثربڑی تکلیف ہوتی ہے
اور اس کو بھول جانے میں بھی
اپنی ہستی کی تحقیر ہوتی ہے
انا کی جنگ بڑی کٹھن ہوتی

ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

جمعرات، 19 جون، 2014

ذکر حصّہ سوئم

القرآن

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا  ۖۚ  (۲۵/۷۶)
ترجمہ: "اور تُو اپنے پروردِگار کے نام کا ذکر صبح اور شام کرتا رہ۔"

ذکر  کا مفہوم و معنی:

"ذکر " لفط اذکار یا تزکرہ سےاخز کیا گیا ہے۔جس کے لفظی معنی یاد کرنا ، زبان پر جاری کرنا ، ثنا خوانی ، دعاؤں اور تسبیحاتکا ورد کرنا شامل ہے جبکہ اصطلاحی معنوں میں زہن اور سوچ میں مسلسل اللہ کی یاد  کا رہنا اور اللہ کو ہمیشہ اپنے ساتھ محسوس کرنا ہے۔

ذکر کی اقسام

ذکر  کی  تین اقسام ہیں:

۱- ذکرِ لسانی:

وہ ذکر جو زبان سے کیا جائے۔ یعنی کہ اللہ کے نام کا زبان سے  ورد کرنا اور اسے کے قرب کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ اس ذکر میں وقت پر عبادت کرنا  مثلاً نماز پڑھنا، تسبیحات پڑھنا،  درود شریف کا ورد کرنا، دعائیں پڑھنا  اور اسم اللہ  (اللہ کے ناموں )کی تسبیح کرنا شامل ہے۔

۲-ذکرِقلبی:

 وہ ذکر جو دل میں کیا جائے۔ یعنی خدا کی یاد کو اپنے دل میں مسلسل رکھنا اور اپنے ہر کام کو کرتےہوئے یہ یقین رکھنا کہ ربِ کریم  ہر وقت ہر جگہ ہمارے ساتھ ہے اور وہ ہمارے دلوں کے حال سے واقف ہے-فرض عبادات کے علاوہ بھی اللہ کا ذکر اور تسبیح کرتے رہنا اور کبھی بھی اُس کی یاد سے غافل نہ ہونا۔

۳-ذکرِ عملّی:

 وہ ذکر جو افعال سے کیا جائے۔ یعنی کہ اپنے ہر عمل میں اللہ کی رضا کو شامل کرنا اور اس کو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرنا۔تمام کاموں کو سرانجام دیتے ہوئے   اللہ کی یاد کو دل میں بسائے رکھنا اور یقین رکھنا کہ وہ ہمارے ساتھ ہے  اور ہمارا مددگار ہے ۔


ذکر کا بنیادی مفہوم یاد کرنا ہی ہے جیسے ہم اپنی تکلیف و پریشانی میں اپنوں کو یاد کرتے ہیں۔ یا پھر ہمارا کوئی اپنا ہم سے دور ہویا اس دنیائے فانی سے رخصت ہو جائےتو ہم اکژاُن کو یاد کرتے ہے اور محفلوں میں اُس کا ذکر کرتے رہتے ہیں یا پھر اکیلے میں اُس کی باتوں کو یاد کر کے اپنے دل کو اطمینان اور سکون پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ کا ذکر ہم فرض عبادات کی صورت میں کرتے رہتے ہیں نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ،  حج وغیرہ۔ غرض ان عبادات کی صورت  ذکر کی تمام قسمیں ہماری زندگی  میں شامل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ اک مخصوص دائرہ میں رہ کر ایک ضابطے اور نظام کے تحت کی جانے والی عبادات ہیں ۔ ایک انسان جب صرف ان عبادات سے سکون نہیں پا سکتا ہےتو پھر وہ درود شریف اور دعاؤں کا ورد، قرانِ پاک کی تلاوت،اسمِ اللہ کا ورد  اور دتسبیحات کا سہارا لیتا ہے ۔ اس کے علاوہ وہ اپنی زندگی کو اسوہء حسنہ کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا ہے اور تمام معا شرتی فرائض کی انجام دہی میں اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے۔اگر ان تمام کے باوجود وہ سکونِ قلب سے محروم ہے تو جان لے کہ اُس کی عبادات میں ابھی وہ مقام نہیں آیا کہ وہ  اپنے رب کو اپنا دوست بنا لے۔

ذکر ایک خاص قسم کی عبادت ہے جو کہ روحانی ہے اور فرض عبادات سے کچھ  آگے کا عمل ہے ۔ جس کی ابتداء ذکرِ لسانی سے ہوتی ہیں ۔اللہ کا ذکر تما م فرض عبادات کے علاوہ بھی کرتے رہنا، اُٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، دُکھ میں سُکھ میں، گھر میں دفتر میں کسی بھی کام کو سر انجام دیتے ہوئے اللہ کا ذکر کرنا۔  اسم اللہ میں سے کسی کا بھی ورد مسلسل  یا وقفے وقفے سے دل میں جاری رکھنا یا پھر صر ف یا اللہ کا ورد کرنا ۔   چونکہ ہم ہر وقت بلند آواز میں ہر جگہ کام کے دوران یہ ورد  نہیں کرپاتے ہیں اس لیے یہ ذکر دلوں میں کیا جاتا ہےلیکن اگر تو یہ ورد صرف لسانی ہےچاہے و ہ  دل میں ہو تو اطمینان کا باعث نہیں بن سکتا ہے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ کو ہمیشہ اپنے ساتھ حاضر وناظر جان کر اُس کی یاد سے دل کو منور کیا جائے۔یہ مان لیا جائے کہ وہ ذاتِ پاک ہر وقت ہمارے ساتھ موجود ہے اور ہم جہاں بھی جس حالت میں بھی اسے پکارے گے وہ ضرور ہماری مدد فرمائے گا۔ جب ہم زبان سے اس کو پکارتے ہیں اور دل سے اسے اپنے ساتھ محسوس کرتے ہیں تو خودبخود ہمارا ہر عمل اُس کی رضا کے لئےہوتا جاتا ہے اور ہمارا ہر عمل ، ہمارا ہر عضو اُس ذاتِ پاک کے ذکر میں شامل ہوجاتا ہے۔

اللہ کے قرب کا یہ یقین جس ذکر سے پیدا ہوتا ہے  وہ صرف اللہ کے ذکر کو زبان سے ادا کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس ذکر سے زبان میں ایسی مٹھاس کا  گھل جاناہے کہ جس کے بعد انسان کا لہجہ خود بخود شیریں ہو جاتا ہے اور ہو کسی سے بھی تلخ کلامی نہیں کرتا۔ یہ قرب صرف دل میں اللہ کے نام کا ورد کرنے سے نہیں ملتا ہے بلکہ اللہ کو ہر وقت اپنےساتھ محسوس کرنے سے ملتا ہے اور جو اللہ کو ہر وقت  اپنے ساتھ محسوس کر لے وہ پھر کبھی بھی کسی بھی قسم کے خوف میں مبتلا نہیں ہوتا ہے کیونکہ اُسے یہ یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ اللہ اُس کا مددگار ہے۔وہ صبر اور شکرگزاری سے زندگی گزارتا ہے۔ یہ قرب حاصل کرنے کے لئے صرف اپنے ہر عمل کو اللہ کے احکامات کے مطابق صرف اس لئے  گزارنا  کافی نہیں   ہے کہ اُس کے آخرت کے عذاب سے بچا جائے یا جنت کاحصول ممکن ہو بلکہ اپنے دلوں میں اللہ کی محبت کابیج بونا ضروری ہے اور اپنے ہر عمل میں اُس کے رضا کو اس لئے شامل کیا جائے کہ اُس کی محبت میسر آجائے اور اس کے لئےہمارا ہر عضو اُس کے ذکر سے منوّر ہو نا ضروری ہے۔ہماری سوچ اور روح کا محور اللہ کی محبت قرار پائے۔

قرانِ پاک میں ارشادِ باری تعالٰی ہے
ترجمہ :"سن لو کہ اللہ کے دوستوں کے لیے کوئی خوف ہے اور نہ کوئی اندیشہ۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔ان کے لیے خوشخبری ہے ،دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔" (سورۃ یونس ۶۲-۶۴)

اطمینانِ قلب اُن لوگو ں کو حاصل ہوتا ہے جو اللہ کے دوست ہے اور اللہ کا دوست وہی ہے جو اپنے ایمان کا ثبوت تقوٰی سے دےسکتےہیں اور اللہ کی یا د اُن کی حیات کا احاطہ اس طرح کر لیتی ہے کہ وہ مشکلات میں صبر اور آسانیوں میں شکر کا دامن تھامے رکھتے ہیں اور اپنی روحوں کو اپنے محبوب رب کی یاد سے غافل  نہیں ہونے دیتے۔اپنی روحوں کو ذکر اللہ سے آباد کریں نہ صرف جسم، زبان اور دل کو ۔ انشاءاللہ تعا لٰی اطمینان اور سکون کی کیفیت سے ہمکنار رہیں گے۔

 ثمینہ طارق

ذکر حصّہ دوئم


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

جمعرات، 12 جون، 2014

ذکر حصّہ دوئم


القرآن:

اللہ کی قربت:
ترجمہ: "اور جب میرے بندے تجھ سے میری نسبت سوال کریں ( تو ان سے کہہ دو کہ) یقیناً میں ( اُن کے) نزدیک ہی ہوں۔ مجھ سے جب کوئی دعا مانگتا ہے قبول کرتا ہوں، پس ان کو چاہیئے کہ وہ میرا کہا مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ سیدھی راہ پا جائیں۔" (۱۸۶/۲)

تکلیف میں اللہ کی یاد:
ترجمہ: " اور جس وقت کسی انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس نے اپنے پہلو پر لیٹے ہوئے یا کھڑے ہوئے ہمیں پُکارا۔ پھر جب ہم نے اس کی تکلییف کو اس سے دور کیا تو وہ (اس طرح ) گزر گیا کہ اس تکلیف کے لئے جو اُسے پہنچی تھی  اُس نے ہمیں پُکارا ہی نہ تھا۔اسی طرح زیادتی کرنے والوں کے لیے جو عمل وہ کیا کرتے تھے، زینت دے دیے گئے۔" (۱۲/۱۰)

صرف خواہشات    کا پورا نہ ہونا ہی ہماری بے چینی کا باعث نہیں بنتا ہے بلکہ  پے در پے آنے والی پریشانیاں  اور تکالیف بھی ہمیں جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر کے چڑچڑا بنا دیتی ہے۔زندگی کے مسائل مسلسل اور نہ ختم ہونے والے ہوتے ہیں لیکن اس سے کس طرح نمٹا جائے یہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔جب ہم کسی بھی قسم کی مشکل یا پریشانی کا شکار ہوتے ہیں تو ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہمارا کوئی اپنا ہمارے پاس ہو جس سے ہم اپنے دل کا حال بیان کر سکے اور جس کے سامنے ہم آنسو بہا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لے۔ کوئی ایسی ہستی میسر آجائے تو اُس کے تسلّی میں کہے چند الفاظ ہی ہماری تقویت کا باعث بنتے ہیں اور ہم  پُر سکون ہو جاتے ہیں۔لیکن   ہماری پریشانیاں اور تکالیف ایسی بھی ہوتی ہےجن کا حل ہمارے دوستوں اور قرابت داروں کے پاس بھی نہیں ہوتا ہے اور ایک وقت تک تو ہم اُن کی حوصلہ افزائی سے پُر سکون رہتے ہیں مگر پھر سے بے چینی اور خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں ایسے وقت میں ہمارا واحد  سہارا ربِ کریم کی ذات ہوتی ہیں اور ہم اپنا دُکھ اور درد اُس کے سامنے کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔

بیماری، حادثہ، نقصان یا لڑائی جھگڑا  یہ وہ تمام کیفیات ہے جو ہمیں خود غرض یا مہربان بناتی ہیں یا تو ان کے ذریعے ہمارے دلوں کی مٹی نرم ہو جاتی ہیں یا پھر ہم اور بھی غصّیلے اور بے چین ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ ان تکالیف اور پریشانیوں سے گھبرا جاتے ہیں وہ غصّے اور پریشانی میں اپنی تمام تر مشکلات کا ذمّہ دار اللہ کی ذات کو سمجھ بیٹھتے ہیں اور  اُس سے ناراض ہو کر شکوہ شکایت کرنے لگتے ہیں کہ آخر ساری مشکلات اور تکالیف اُنہی کے لئے کیوں ہیں ؟ اللہ اُن کی دعائیں کیوں نہیں سُنتا ہے؟ وہ لوگ ایک ایسے بچے کی طرح کبھی روکر کبھی چلّا کر اللہ سے جواب طلب کرتے ہیں جو ماں کی بے توجہی کا شکار ہو کر روتا یا چلّاتا ہے کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ ماں جو اُس سے اتنا پیار کرتی ہے وہ اُس کی طرف سے کبھی غافل نہیں ہوتی ہے اسی طرح ربِ کریم کی ذات نہایت مہربان ہے وہ ہم سے کیسے غافل ہو سکتا ہے اور جو لوگ اپنے دلوں کی مٹی کو نرم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ دُعا کا راستہ اپنا تے ہیں اور صبر اور عاجزی کے ساتھ اپنے رب سے اپنی مشکلات کا حل مانگتے ہیں اور اُس پر یقین اور بھروسہ اُنہیں  اپنے رب کی طرف اس طرح مائل کر دیتا ہے کہ وہ اپنا سارا درد صرف اُس کے سامنے بیان کرتے ہیں اور اُس سے گفتگو کرتے ہیں ۔وہ ربِّ کریم سے اور قریب تر ہو جاتے ہیں اور اُنہیں  یقین ہوتا ہے کہ دیر سویر ہی سہی اُن کی دعا قبولیت کا اذن پائے گی اور وہ اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑ کر پُر سکون ہوجاتے ہیں۔


طریقہ کوئی بھی ہو غصّے میں شکایت کرنا یا عاجزی سے دعا کرنا دونوں ہی صورتوں میں ہمارا رابطہ ہمارے رب سے جُڑ جاتا ہے اور ہم اپنی پریشانی اور دُکھ کو اُس کے سامنے کھول کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ جو لوگ اللہ سے رابطہ قائم کر لیتے ہیں اُنہیں پھر لوگوں کی ہمدردی کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ چاہے وہ شکایت کی صورت ہی ہو وہ اپنے رب سے گفتگو کر کے اُس سے قرابت پاتے ہیں کیونکہ شکایت بھی اُسی سے کی جاتی ہیں جس کی محبت پر یقین ہو کہ وہ ہمارا درد محسوس کر کے ہماری مدد کرے گا۔ دونوں ہی صورتوں میں انسان اللہ سے رابطے میں رہتا ہے اور اپنی تکالیف کو اُس کے سپرد کرکے اُس کے سامنے آنسو بہا کر اپنے دل کو پُر سکون اور آزاد کر لیتا ہیں۔ وہ مسلسل اللہ کا ذکر کرتا رہتا ہے اُس کا نام لے کر اُسے پُکارتا رہتا ہے۔

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ وہ اپنے بندے کی شہ رگ سے بھی ذیادہ قریب ہے۔ جب بھی بندہ اس سے دعا مانگتا ہے تو وہ اس کی دعا  قبول کر لیتا ہے  جب بھی اُسے یاد کرتا ہےتو وہ بھی اُسے یاد کرتا ہے۔لیکن ہم اتنے نا شکرے ہیں کہ جب ہماری دعائیں قبول ہو جاتی ہیں اور ہماری تکالیف دور کرکے ہمیں آسانیاں مہیا کی جاتی ہیں تو ہم پھر سے اپنی مادّیت پرستی کا شکار ہو کر اپنے رب سے دور ہو جاتےہیں اور اُس کو یاد کرنا بھول کر اپنی روزمرّہ کی زندگی کی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر سے آباد کرکے پُرسکون اور خوشحال زندگی اپنائے ۔ وقت اور حالات کیسے ہی کیوں نہ ہو اپنے رب پر اپنا بھروسہ قائم رکھے اور اُسی سے مدد مانگے۔رب کا مسلسل ذکر ہی دلوں کےسکوں کا باعث بنتا ہے۔
(جاری ہے)

 ثمینہ طارق

ذکر حصّہ اوّل

ذکر حصّہ سوئم



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

منگل، 10 جون، 2014

ذکر حصّہ اوّل


القرآن:

      ألا بِذِكْرِ اللهِ تَطمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعہ  ۲۸)

ترجمہ:  بے شک اللہ کے ذکر سے ہی قلوب کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے۔

انسان کی خواہشات لامحدود ہیں۔ ایک کے بعد ایک ایسے سر اُٹھاتی ہیں کہ انسان کو خبر ہی نہیں ہوتی اور وہ اس کو پوری کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتا ہیں۔ اکثر اوقات انسان کو ان خواہشات کو پورا کرنےمیں بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پرتا ہے  اور اس وقت وہ صرف یہ محسوس کرتا ہے کہ اُس کے آس پاس کے لوگ ،  اقرباء ا   ور دوست  ان خواہشات کو بہت آسانی سے پورا کر لیتے ہیں  لیکن ان کی تکمیل کے لئے صرف اُسے ہی تگ و دو کرنی پرتی ہیں ۔ یہاں تک کہ کبھی کبھی وہ اپنی تمام تر قوتِ ارادی اپنی ایک معمولی سی خواہش کو پورا کرنے میں صرف کر دیتا ہیں لیکن  وہ اس عمل میں ناکام رہتا ہیں جس کی اہم  وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے سے اوپر والوں کو دیکھ کر اپنا موازنہ اُن سے کرنے کی کوشش میں جُتے رہتے ہیں جس کے باعث اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلا کئےرہتے ہیں ۔ اور پھر صرف ایک ہی راستہ باقی رہتا ہے کہ اپنی اس خواہش یا آرزو کو پورا کرنے کے لئے وہ اپنے رب کے آگے سر بسجود ہوجائے۔

ہم اکثر چھوٹی چھوٹی خواہشات کے پیچھے  بھاگتے رہتے ہیں جن کا پورا   ہونا یا نہ ہونا   ہماری زندگی میں وقتی طور پر تو اہمیت کا حامل  تو ہوتا ہے لیکن اس کے دُور رس مفادات کچھ نہیں ہوتے ہیں اور  اس کے پورا نہ ہونے سے ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے ۔ چونکہ ہم اپنی خواہش اور ضرورت میں فرق نہیں کر پاتے ہیں اس لئے ان وقتی خواہشات کو اپنی ضرورت سمجھ کر اس کے پیچھے اسطرح بھاگتے چلے جاتے ہیں کہ ہمیں پھر اچھے برے کی تمیز ہی نہیں رہتی۔ ان میں کچھ خواہشات تو بہت معمولی سی ہوتی ہے جنہیں ہم اپنا جینا مرنا سمجھ بیٹھتے ہیں مثلاً کوئی چیز خریدنا، کہیں آنا جانا  یا کسی کو اپنا بنانا جیسی خواہشات شامل ہیں۔ اگرتو خواہش  پوری نہ ہو تو ہم رب کی جانب رجوع کرتے ہیں اور اگر پھر بھی پوری نہ ہو تو رب سے ناراض ہونا جیسے ہم اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں اور پھر شکوے شکایت کا دفتر کھول کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن اگر تو خواہش پوری ہوجائے تو ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہتی اور ایسے وقت میں ہم  اپنے رب کا شکر ادا کرنا بھول جاتے ہیں ۔ اگر تو ہم اپنے سے اُوپر دیکھنے کے بجائے تھوڑا نیچے کی جانب دیکھنا شروع کر دیں تو اُن کی تکالیف اور پریشانیاں  دیکھ کر شائد اپنے آپ کو بہت بہترین حالت میں پائے گے۔

انسان چونکہ لاتعداد خواہشات کے گھیرے میں ہوتا ہے اگر تو وہ ان خواہشات کو اپنا تابع کر لے تو کسی بھی قسم کی مشکل اور پریشانی سے بچ جاتا ہے اور اپنی زندگی کوشکر، صبرا ور سکون سے گزارتا ہے  لیکن اگر وہ  خود ان خواہشات کا تابع ہو جائے اور انھیں پورا نہ کر پائے تو پھراس کی زندگی میں صرف رنج باقی رہ جاتا ہے اور اُس کا دل مضطرب رہتا ہےجس کےباعث وہ جھنجلاہٹ اور پریشانی کا شکار ہو جاتا  ہے ۔ اس جھنجھلاہٹ  اور بے چینی کا سب سے مؤثرعلاج ذکر ہے اور اگر اس ذکر کے دوران ہماری آنکھ پُرنم ہوجائے  تو ہم سکون کی ایسی  لذت سے آشنا ہو جاتےہیں جس کا کوئی نعم البدل نہیں کیونکہ رب سے بہترین دوست کوئی ہو نہیں سکتا اور جس کو یہ دوست میسر آجائے اُسےکسی دوسرے کی تلاش نہیں رہتی۔
( جاری ہے)

ثمینہ طارق


ذکر حصّہ سوئم



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

جمعہ، 16 مئی، 2014

لمحہء موجود

وقت بدلتا ہے اور  وقت کے ساتھ حالات بھی بدل جاتے ہیں۔جو کل تھا وہ آج نہیں ہے اور جو آج ہے وہ کل نہیں رہے گا۔ ماضی یاد بن کر رہتا ہے تو  مستقبل خواب  بن کر۔ کبھی دونو ں اک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں اور نہ ہی کسی ایک کو بھی قید کیا جا سکتا ہے۔ ہماری گرفت میں جو ہے وہ صر ف لمحہء موجود ہی ہے۔ وہ لمحہ جسے ہم ابھی جی رہے ہیں ، جسے ہم ابھی گزار رہے ہیں۔جس میں ہم سانس لے رہے ہیں  اور جو ہمارے وجود کو زندگی کی سچائی کا یقین بخش رہا ہے کہ ہم ابھی حیات ہے اور سب کچھ اُس وقت تک ہمارے اختیار میں ہیں جب تک سانس چل رہی ہے اور لمحہء موجود ہمارے اختیار میں ہیں۔

یہی لمحہء موجود ہماری حیات کو روشن رکھتا ہے اور ہمیں جینے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے اور آنے والے کل سے پُر اُمید رکھتا ہے۔ یہی لمحہء موجود ہے جو ہمیں گزرے کل کی آزمائشوں سے سب سیکھنے میں مدد کرتا ہے کیونکہ گزرا کل صرف یاد  بن کر رہ جاتا ہے اور اگر یادیں حسیں ہو تو آنے والا ہر لمحہ روشن اور خوشگوار ہوتا ہے جبکہ یادوں میں صرف درد ہو تو  آنے والا ہر لمحہ درد سے پُر ہوتا ہے۔ پھر چاہے لمحہء موجود میں ہم خوشی سے ہمکنار ہی کیوں نہ ہو ماضی ہمارے حواسوں پر چھایا رہتا ہے اور جینا مشکل کر دیتا ہے تو کیوں نہ اس لمحہ ء موجود کو اپنی گرفت میں کرکے اسے یقینی طور پر پُر مسرت بنائے کہ یہ مستقبل میں ماضی کی حسیں یاد کے طور پر ہمارے ساتھ رہے نہ کہ دکھ اور درد کی علامت بن کر۔

وقت اور حالات کبھی بھی کسی بھی موڑ پر بدل سکتے ہیں ا ور یہ ہماری مادی اشیاء پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ ہمارے پاس جو آج ہے وہ کل نہیں رہے گا یہاں تک کہ ہمارے رشتے بھی۔ وقت کے ساتھ ہم اپنے بہت سے پیارے رشتوں کو گنوا دیتے ہیں کبھی اپنی کسی غلطی یا کوتاہی کی بنا پر اور کبھی موت کے ہیبت ناک وار سے مجبور ہوکر۔ زندگی کے کسی لمحے کی کوئی خبر نہیں ہم خود بھی آج ہے اور شائد کل نہ ہو۔پیچھے جو رہتا ہے وہ یادوں کی صورت رہتا ہے اس لئیے اپنے آج کو محسوس کریں اور اس کی اہمیت سے آگاہ ہو کر ان قیمتی لمحات کو اتنا خوبصورت بنائے کہ آنے والے کل میں وہ آپ کا حسیں سہارا بنے یا  آپ کے بعد آپ کے اپنوں کو سہارا دے سکے۔یادیں ہی ہمارا قیمتی سرمایہ ہے جو کوئی ہم سے نہیں چھین سکتا ہے لیکن ان یادوں کو خوبصورت بنانے کے لئے آج کو اپنی گرفت میں لینا پرے گا۔ لمحہء موجود کو بھر پور انداز میں جینا پرے گا۔نہ کل کچھ تھا نہ کل کچھ ہوگا۔ جو کچھ ہے وہ اسی لمحہء موجود میں پوشیدہ ہے۔ جو تھام لیا تو سب کچھ پا لیا اور جو چھوڑ دیا تو سب کچھ کھو دیا۔

ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔