Translate

جمعہ، 21 فروری، 2014

میری ڈائری کا تازہ ورق

۱۸-۲-۲۰۱۴
آج
میرے سر پر سایہ کئے آسمان سے
ایک  اور تارا
ٹوٹ کر گر گیا!!
شفقت، محبت، توجّہ اور اپنائیت کا وہ احساس جو والدین کی وفات کے بعد بھی مجھ سے جدا نہ ہوا وہ اب جدا ہو گیا۔  میرے سب سے بڑے ماموں جان جو میری والدہ کے لئے بھی والد کی طرح قابلِ احترام تھے ہم سے جدا ہو گئے۔ اللہ انہیں اپنی جواہرِ رحمت میں جگہ عطا فرمایئے اور اُن کے درجات بلند فرمائے۔ آمین!
ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

منگل، 18 فروری، 2014

ذکر------- اقتباس

جھنجھلاہٹ اور بے چینی کا سب سے مؤثرعلاج ذکر ہے اور اگر اس ذکر کے دوران ہماری آنکھ پُرنم ہوجائے  تو ہم سکون کی ایسی  لذت سے آشنا ہو جاتےہیںجس کا کوئی نعم البدل نہیں کیونکہ رب سے بہترین دوست کوئی ہو نہیں سکتا اور جس کو یہ دوست میسر آجائے اُسےکسی دوسرے کی تلاش نہیں رہتی۔

  ثمینہ طارق

ہفتہ، 28 دسمبر، 2013

خواب


خواب بے ضرر ہوتے ہیں
کبھی کسی خواہش تو کبھی کسی آرزو کے
زیرِ اثر ہوتے ہیں
کبھی اُمید تو کبھی خوشی کے
پیمبر ہوتے ہیں
جانے کیوں لوگ ان کو
سنجوتے ہوئے   ڈرتے ہیں
خواب معتبر ہوتے ہیں
یہ اُنہی دلوں کو روشن کرتے ہیں
جو ایماں اور یقین سےمنوّر ہوتے ہیں

        ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

جمعرات، 26 دسمبر، 2013

انسان

              


      انسان
کبھی بکتے تھے یا
تحفتاً دئے جاتے تھے
لیکن اب صرف
مار دئے جاتے ہیں!!

       ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

منگل، 24 دسمبر، 2013

زندگی

میری ڈائری سے اک ورق۔۔۔ ایک یاد 
'زندگی'
زندگی باغ کی طرح ہے جہاں پھولوں کے ساتھ ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں اور گرمی، سردی، خزاں، بہار سارے موسم اس باغ کو سہنے پرتے ہیں۔ باغ کے جیسا حوصلہ رکھئے اور سب کچھ خاموشی سے صرف سہنے کے بجائے ان سے لطف اندوز ہونے کا فن بھی سیکھئے تاکہ کوئی بھی موسم آپ سے ناراض ہو کر نہ گزرے۔خود بھی خوش رہئے اور سب کو خوش رکھئے۔


ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

وقت - اقتباس


یہ سچ ہے کہ وقت ہر زخم کا مرہم بن جاتا ہے۔ کوئی بھی زخم کتنا ہی گہرا کیوں نہ   ہو وقت کا بہاؤ اسے بہا لے جاتا ہے۔  لیکن کچھ زخم ایسے  بھی  ہوتے ہیں جو وقت کے دھارے میں بہہ کر بہل تو  جاتے ہیں اور  وقت کا مرہم کچھ دیر کو تو  انہیں خشک کر دیتا ہے ۔مگر آہستہ آہستہ اُس پروقت کی کھڑند جم جاتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ سخت ہو جاتی ہے. پھر جب اسی بے رحم وقت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہم ایسے زخموں کو کھرچے لگتے ہیں تو اُن  سے دوبارہ لہو رسنے لگتا ہے اور وہ زخم ہمارے دل کا ناسور بن جاتے ہیں۔

 ثمینہ طارق

جمعہ، 8 نومبر، 2013

سفر شرط ہے!! مکمل

سفر شرط ہے!! حصہ اوّل 
سفر شرط ہے!! سفر جسمانی ہو یا زہنی، سفر خیال کا ہو یا پھر روح کا- خیال کی پرواز پر سوچ کا سفر روح کی منزل پر پہنچنے میں مددگار  ثابت ہوتا ہے اور روح کا سفر مشکل ترین سفر ہونے کے باوجود تسکین کا باعث بنتا ہے اس سے ہمارا پورا وجود معطر ہو جاتا ہے  اور ےیہ سفر خوشبو کا سفر کہلاتا ہے- http://saminatariq.blogspot.com/2013/07/blog-post.html
 
سفرشرط ہے!! حصّہ دوئم      
سچ کے تلاش کے سفر کی نہ ہی ابتداء انسان کے اختیار میں ہیں اور نہ ہی انتہا –  رب جسے چاہے اس سفر پر لگا دے اور جسے چاہے تھکا دے – اُس کے اِذن کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں- اُسے پانا یا نہ پانا  دور کی بات ہیں لیکن اس سفر کی اپنی ہی ایک لزت ہے اور جو اس لزت سے آشنا  ہو جائے وہ پھر سفر کی کٹھنائیوں سے گھبرا کر سفر منقطع نہیں کرتا بلکہ اس کی خوشبو سے اپنی روح کو معطر کرتا ہے اور سفر جاری رکھتا ہے- http://saminatariq.blogspot.com/2013/07/blog-post_14.htm 

 سفر شرط ہے!! حصّہ سوئم 

سچ کا بیان لفظوں میں ممکن ہی نہیں- اس کا صرف تجربہ کیا جا سکتا ہے جو اس کی طلب رکھتا ہے وہ  کوشاں رہتا ہے اور کبھی نہ کبھی جواہرات کے اس ڈھیر سے وہ موتی پا ہی لیتا ہے جو اُس کی حیات کو تابندہ کرتا ہے-http://saminatariq.blogspot.com/2013/08/blog-post_3.html

سفر شرط ہے!! حصّہ چہارم


جیسا کہ کسی بھی منزل کا تعین کرتے وقت ہم سفر پر جانے کے لئے ضروری سامان کا بندوبست کرتے ہیں اور خاص خیال رکھتے ہیں کہ کوئی چیز غلطی سے بھی نہ بھول جائے ورنہ سفر میں مشکلات سے  ہمکنار ہونا پڑے گا  اور ہم سفر کی لذتوں سے محظوظ ہونے سے رہ جائے گے اور منزل پر پہنچ کر مطمئن نہ ہوگے۔ اسی طرح روح کے اس سفر پر نکلنے سے پہلے بھی ہمیں زادِ راہ تیّار کرنا پرتا ہے۔  اپنے دلوں کی مٹی کو نم کرنا پرتا ہے، صبر ، محبت ، رحمدلی اور حلیمی کا چولا اوڑھنا  پرتا ہے۔ اپنے آپ کو اُس ذاتِ پاک کی تخلیقات کے ساتھ ساتھ اُس کی مخلوق کے عشق میں بھی ڈبونا پرتا ہے۔ جب کہیں جا کر منزل پر روح کو تسکین میسر آتی ہے۔لیکن اس تسکین سے مستفید ہونے کے لئے بھی۔۔۔۔۔۔ سفر شرط ہے!!




ثمینہ طارق