Translate

منگل، 11 نومبر، 2014

ماں

بنیادی طور پر ماں کا لفط ایک ایسی ہستی کے لئے استعمال ہوتا ہے جو ہمیں جنم دیتی ہے۔ ماں کا لفظ چاہےکسی بھی زبان میں کسی بھی طرح ادا کیا جائے اُس میں قدرتی مٹھاس اور محبت کا لمس محسوس کیا جا سکتا ہے۔ جیسےماں ، امّاں ، امّی ، ماما، ممّا ، اُمّی وغیرہ۔ ہر لفط میں شیرینی قدرتی طور پر موجود ہے اور تمام ہی الفاط اسقدر آسانی سے ادا کئے جاسکتے ہیں کہ ایک بچّہ جب بولنا شروع کرتا ہے تو پہلے ماں کو ہی پُکارتا ہے ۔یہ شائد  اس لئے کہ' مم'  صرف ہونٹوں کے جُڑنے سے ہی ادا ہو جاتا ہے اور یہی لفظ بچّے کی ز بان پر سب سے پہلے آتا ہے جو بلآخرممّی یا امّی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
انسان اس دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے جس وجود میں سانس لیتا ہے اور جہاں اُس کی جسمانی اور زہنی تشکیل مکمل ہوتی ہے وہ وجود اُس کی ماں کا ہے۔ایک بچّہ اپنی ماں کے شکم سے اسطرح جُڑا ہوتا ہے کہ اُس کے وجود کی گواہی سب سے پہلے اُس کی ماں ہی دیتی ہے اور وہ ہی ایک ایسی ہستی ہے جو اپنے بچّے کو اُس وقت سے ہی محسوس کرتی ہیں جب وہ صرف ایک خلئے کی صورت اُس کے شکم میں ٹہرتا ہے۔ ماں اور بچّے کے وجود ایک دوسرے سے جُڑے ہوتے ہیں اس لئے جب بچّہ اس دُنیا میں آجاتا ہےتب بھی ماں ہی سب سے پہلے اُس کی تکلیف اور خوشی  کو محسوس کر سکتی ہے۔
یوں تو دونوں ہی والدین اپنی جانب سے بچّوں کی پرورش میں مکمل کردار ادا کرتے ہیں لیکن پھر بھی بچّہ قدرتی طور پر ماں کے قریب ہوتا ہے۔آج کے دور میں بے شک بچّوں کو  آیاؤں اورنرسریوں کے حوالے کر دیا جاتا ہو لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کے بچّہ ماں کے دل سے جدا ہوتا ہے۔ اس دور کی مشکلات کے باعث اکثر مائیں مجبور ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کو کسی اور کے حوالے کر کے کام پر جائے مگر وہ ہر لمحہ  اُن کےلئے متفکر رہتی ہیں۔یہ ممکن ہی نہیں کہ ماں اپنے بّچے کی تکلیف کو محسوس نہ کر سکے۔ بچّے چاہے کتنے ہی  بڑے ہو جائے ماں کو وہ ویسے ہی ننھے منے لگتے ہیں جن کو اُنگلی پکڑ کر چلنا سیکھایا، اچھے بُرے کی تمیز سیکھائی ، جن کی بیماری میں رات رات بھر جاگ کر گزاری ۔اسی لئے اکثر مائیں اپنے بچّو ں کو اُس وقت تک ٹوکتی رہتی ہےجب کہ وہ زندگی کے سرد و گرم لمحات میں جینا سیکھ چکے ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ  خود والدین بن چکے ہوتے ہیں۔ ماں ہمیشہ اپنی اولاد کی تکلیف سے خوفزدہ ہ رہتی ہے اور چاہتی ہے کہ اُس کی اولاد کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔اکثر بچّے ایسی روک ٹوک سے خفا ہوتے ہیں وہ اُس وقت تک اس محبت کو نہیں سمجھ پاتے ہیں جب تک وہ خود والدین نہ بن جائے اور اپنی اولاد کی  محبت میں خود  اسقدر مبتلا نہ ہوجائے۔
ہر بچّے کی طرح میرا تعلق بھی میری ماں سے بہت گہرا تھا۔ ہم تین بھائی بہن ہیں جن میں میں سب سے بڑی ہونے کے ناطے والدین کے بہت قریب رہی اور نہ صرف قریب بلکہ زندگی کے اچھے بُرے تمام معاملات میں اُن کی ہمراز اور مددگار بھی رہی۔ مجھ سے چھوٹی ایک بہن اور اُس سے چھوٹا ایک بھائی ہے۔ اُن دونوں نے بھی  وقت پرنے پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائی اور والدین کا سہارا بنے۔ ہم تینوں بھائی بہنوں میں سے کبھی کسی کو یہ نہ لگا کہ ماں ،بابا کسی ایک سے زیادہ محبت کرتے ہیں یا کسی ایک کو زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔ ہمارے والدین نے سب کو اپنی جگہ اہمیت دی اور ایک سی محبت اور شفقت سے نوازا۔ ہم سب بھائی بہن ماں کے زیادہ قریب رہے اور یہ ایک فطری عمل ہے جس کا ذکرمیں اوپر کر چکی ہوں۔ماں کی زندگی میں مجھے کبھی بھی کسی دوست کی ضرورت نہ محسوس ہوئی وہ میری سب سے پہلی اور بہترین دوست تھی۔ زندگی میں کبھی امّی سے کچھ نہیں چھپایا اس کی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ وہی تو تھی جس سے سب کچھ شئیر کرنا اچھا لگتا تھا اور ہر مشکل گھڑی میں وہی راہ دکھاتی اور ہر خوشی میں وہی سب سے زیادہ خوش ہوتی تھی۔  جیسا کہ میں اپنے بلاگ..کوئی تنہا نہیں ہوتا...              میں تحریر کر چکی ہوں :

"میری بہترین دوست صرف میری ماں تھی اور وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ بیٹا میں تمہارے  ساتھ ہوں، تم خود کو کبھی تنہا نہیں سمجھنا اور ایسا ہی تھا امی کے ہوتے ہوئے مجھے کبھی کسی دوست کی تمنا نہیں رہی کیونکہ وہ واحد ہستی تھیں جن سے میں نے ہمیشہ بچپن سے لے کر اُس وقت تک جب تک میں خود ماں نہ بن گئی سب کچھ بِلا جھجھک شیئر کیا۔ کوئی دُکھ کوئی خوشی، کوئی پریشانی ایسی نہ تھی جو مجھے امّی سے شیئر کرنے میں جھجھک محسوس ہوتی اور جب امّی کا انتقال ہوا تو اس کے بعد بھی جب میں خود کو تنہا محسوس کرتی تو امی سے باتیں کرتی، گھنٹوں آنکھیں بند کر کے بیٹھی رہتی اور مجھے محسوس ہوتا کہ وہ اب بھی میرے پاس ہیں اور میری ساری باتیں سُن رہی ہیں، مجھے ہمیشہ تسلی رہی کہ میں اکیلی نہیں ہوں۔ اکثر سوچتی ایسا کیوں ہوتا ہے، وہ ساتھ نہ ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ میرے ساتھ کیوں ہوتی ہیں۔ آج میری بیٹیاں بھی مجھ سے اتنی ہی قریب ہیں، اور کہتی ہیں 'امی آپ ہماری بیسٹ فرینڈ ہیں۔' تو خیال کی پرواز اس بات کو چھوتی ہے کہ ماں ہی ایسی ہستی ہے جو ہم سے سب سے ذیادہ محبت کرتی ہے شاید اِسی لئے وہ ہماری سب سے اچھی دوست ہوتی ہے اور ہمیشہ اُسکی دعاؤں کا سایہ ہم پر رہتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ظاہر میں بھی ہمارے ساتھ ہوں۔"

میری ماں ایک عظیم ہستی تھی اور صرف میری ہی نہیں ساری مائیں ہی ایسی ہوتی ہیں۔ میری شادی کے فوراً  بعد باباکو کینسر جیسے موزی مرض نے آگھیرا مگر یہ میری ماں کی ہی ہمت اور حوصلہ تھا کہ اُس نہ صرف میرے بابا کی ہمت بندھائے رکھی بلکہ ہم سب بھائی بہنوں کے لئے بھی ایک مضبوط سہارا بن کر رہی۔والد کی وفات کےوقت بھائی بہن بہت چھوٹے ہونے کے باوجود کام کرنے پر مجبور تھے مگر ماں نےکسی لمحے ساتھ نہ چھوڑا  معاشی طور پر بھی اور اخلاقی طور پر بھی وہ ہمیشہ ایک مضبوط سہارے کی صورت سب کے ساتھ کھڑی رہی ۔ سب کو سہارا دیتے اس نے کبھی بھی اپنا کوئی دُکھ درد ہم سےنہ بانٹا ہمیشہ یہی کہتی کہ میں خوش ہوں تم سب کو خوش دیکھ کر۔ میری بیٹیوں میں تو جیسے اُن کی جان تھی۔ بہت لاڈ اور پیار سے رکھا۔ ہمیں خوشیاں بانٹتی ہوئی وہ نہ جانے کب اور کیسے کینسر کا شکار ہو گئی اور بابا کے انتقال کے چار سال بعد ہی ہم سب کو ڈھیر سارے غم دے کر ہم سے جُدا ہوگئی۔
جب وہ بیمار تھی تو ہم سب اُن کے پاس تھے یہ بھی اللہ کا ہم پر کرم رہا کہ اُس نے ہمیں اپنے والدین کی خدمت کا موقع عطا کیا۔ماں سے جدا ہونا ایک عزاب ہی تو لگتا ہے۔ اس کو یقین میں لانا بہت ہی مشکل ہے کہ اب وہ ہستی ہمارے ساتھ نہیں ہے جس کے وجود کا ہم حصہ رہ چکے ہیں اور جو ہماری رگوں میں زندگی بن کر رہتی تھی۔بابا کی وفات کے بعد ماں کا ساتھ تھا ، جب کبھی بابا کی کمی محسوس ہوتی تو ماں کی مسکراہٹ اور اُس کی محبت اطمینانِ قلب کا باعث بنتی۔ لیکن ماں کے بعد صرف ہم تین بہن بھائی ہی ایکدوسرے کے ساتھ رہے۔کبھی کبھی تو یوں لگتا کہ شفقت اور محبت کا تمام تر کوٹا اللہ نے صرف ماں کی ہستی سے جوڑے رکھا تھا جس کے بعد ہمارے سروں سے دعاؤں کا سایہ اُٹھ گیا۔ لیکن جب جب زندگی میں اچھا وقت دیکھا،اپنے بھائی بہنوں کی خوشیاں دیکھی اور پھر اپنے بچّوں کی ترقی اور خوشی دیکھی تو اس کا یقین پختہ ہوگیا کہ ماں کا سایہ دُعاؤں کی صورت ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ وہ چاہے ہمارے درمیاں ظاہری طور پر موجود ہو یا نہ ہو ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوتی ہے اور اسی کی دُعاؤں کی بدولت ہم اس دینا میں سرخرو ہوتے ہیں۔اس طرح ماں کا وجود خُدا کے قریب لانے میں بھی مدگار بن گیا۔ خدا پر یقین بھی اُس یقین سے جُڑا تھا جو ماں کو خُدا پر تھا اور اسی یقین نے ہم تینوں کو بھی ایک دوسرے سےبھی  جُڑے  رہنے پر مجبور کیا۔ ہم میں سے کسی کی زندگی میں کوئی خوشی کا لمحہ ہو یا دُکھ کا ہم ہمیشہ ساتھ ہوتے ہیں ۔ دنیا داری اور مصروفیت ہمارے دلوں کو جُدا کرنے میں ہمیشہ ناکام رہی ہے اور اس کی وجہ صرف امّی کی محبت ہے جس نے ہم سب کو اپنی دعاؤں کے حصار میں  باندھ رکھا ہے۔
آج ہماری امّی کو ہم سے جُدا ہوئے  ۲۲ سال بیت چُکے ہے لیکن اُن کے ساتھ بیتا ہر لمحہ نظروں میں سمایا ہوا ہے۔ جب کبھی پریشان ہوتی ہوں تو اُن کی خوشبواپنے اردگرد محسوس ہونے لگتی ہے اور آنکھ میں آئے آنسو مسکراہٹ میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ آج بھی اکشر رات کو نیند میں اپنے ماتھے پر اُن کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے آنکھ کھل جاتی ہے اور پھر گھنٹوں میں اُن سے باتیں کرتی ہوں۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اس کیفیت میں اگر کوئی مجھے دیکھے تو شاید پاگل ہی سمجھے مگر میرے سب اپنےجانتے ہیں کہ میری ماں جسمانی طور سے میرے ساتھ نہ ہوتے ہوئے بھی میرے پاس ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
دعا:
رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا ۾ (بنی اسرائیل۔۲۴)
ترجمہ: اے میرے پروردگار! جس طرح میرے والدین نے مجھے چھوٹے سے کو پالا ہے اور (میرے حال پر رحم کرتے رہے ہیں) اس طرح تو بھی ان پر (اپنا) رحم کر۔ آمین!
بلاگ پڑھنے والے تمام لوگوں سے  اپنےوالدین کی مغفرت کے لئے دعاؤں کی طلبگار
 ثمینہ طارق

جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔


جمعہ، 7 نومبر، 2014

زندگی (نظم)


کہیں تو!

جزبات سے لبریز لفظ بھی

ان سنے کر دیئے جاتے ہیں

اور کہیں!

ان کہے لفظ سُنائی دے جاتے ہیں


 کہیں تو!

برسوں تک سینچے خواب بھی

بے ثمر قرار پاتے ہیں

اور کہیں!

ان دیکھے خواب تعبیر پا جاتے ہیں



کہیں تو!

میلوں کا سفر طے کرنےپر بھی

راستہ نہیں کٹتا فاصلہ نہیں گھٹتا

اور کہیں!

لمحہ بھر میں لوگ اپنے بن جاتے ہیں
 ثمینہ طارق

جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔


بدھ، 29 اکتوبر، 2014

پردہ

زندگی پردہ کرتی ہے 
اور موت    
ہر پردہ اتار پھینکتی ہے 
چاہے وہ اپنے چہرے پر ہو 
     یا اپنوں کے !! 


ثمینہ طارق

جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

ہفتہ، 25 اکتوبر، 2014

تمھارے کہے لفظ


(مستنصر حسین تارڑ صاحب کے نام نزرانہ عقیدت)


تمھارے کہے لفظ

منظر بنتے ہیں
آنکھوں کے رستے
دل میں اُترتے ہیں
اور پھر 
وہیں بس جاتے ہیں 
ان منظروں کی تلاش میں
نہ جانےکتنے قلب 
مضطرب رہتے ہیں
اورنہ جانے کتنی روحیں 
بے چین رہتی ہیں
ہر لفظ قدم قدم پر 
اپنا اک نشان چھوڑ جاتا ہے
جس کی کھوج میں
بے شُمار لوگ
سفر پر نکل کھڑے ہوتے ہیں
ان لفظوں سے پھوٹتی روشنی میں
اپنی منزلوں کا تعین کرتے ہیں 
اور جب یہ منطر
اُن کی نگاہوں کو چھوتے ہیں
تو یہ مضطرب قلب اور
یہ بے چین روحیں 
وہیں سر بسجود ہو جاتی ہیں
دل شاد ہوتے ہیں اور
اور دعاؤں کے پھول کھلتے ہیں
یارب!
ان لفظوں کو تراشنے والےمحسن کو
عمرِ دراز عطا کر اور
اپنی امان میں رکھ
 (آمین)

ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

جمعرات، 23 اکتوبر، 2014

طویل سفر کے بعد ایک خوشبو بھری ملاقات، مستنصر حسین تارڑ صاحب کے ساتھ


طویل سفر ؟ جی جناب میں نے ایک طویل سفر طے کیا ہے اُس شخصیت کے ساتھ جس سے ملاقات کا شرف حال ہی میں میسر آیا اور وہ شخصیت ہے ہمارے ملک کے مایہ ناز مصنف سفرنامہ نگار، کالمنسٹ، ناول نگار، ڈرامہ نویس، اداکار اور مارننگ شو کے بانی اور اینکر پرسن اور ٹریکر۔ ارے ارے یہ نہ سمجھئے گا کہ میں نے اتنے سارے لوگوں کا ذکر کر دیا ہے ۔ یہ تمام صفات ایک ہی شخصیت سے جُڑی ہیں اور وہ ہیں مستنصر حسین تارڑ۔

تارڑ صاحب کو ایک مصنف کی حیثیت میں تو بہت بعد میں جانا لیکن میرا اور مجھ جیسے بہت سے لوگوں کا سفر اُن کے ساتھ ٹی وی سے جڑا ہے۔  میرا یہ سفر' ایک حقیقت ایک فسانہ' سے شروع ہوا اور امجد کا کردار ایک آئیدیل کی صورت احتیار کر گیا۔ اُن دنوں والدین کی بھر پور ڈانٹ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے رات گئے تک اس سلسلے کو دیکھنے کے لئے جاگنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا اور اس کی وجہ صرف امجد کی باتیں سننا تھا۔ آہستہ آہستہ اس سفر میں وہ تمام ڈرامے شامل ہوئے جو  تارڑ صاحب نے لکھے یا جن میں انہوں نے کردار ادا کئے۔  اُن میں سے کچھ تو اتوار کی صبح کی نشریات میں نشرِ مکرر کی صورت دیکھے۔ ۱۹۸۸ میں جب تارڑ صاحب نے صبح کی نشریات کی میزبانی کا آغاز کیا تو میں روزانہ اسکول جانے سے پہلے  اُن کی مسکراہٹ  دیکھ کر اور اُن  کی آواز سن کر نکلتی تھی ۔ ارے یہ نہ سمجھئے گا کہ اُس وقت میں اسکول  میں پڑھنے والی ایک بچّی تھی۔  نہیں جناب اُس وقت میں  ۲۱ سال کی  ضرور تھی مگر ایک  شادی  شدہ  خاتون اور ایک بیٹی کی ماں  ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اُستانی بھی تھی  اس لئے صبح کی نشریات دیکھ کر اسکول جانا  میرا معمول تھا اور اس نشریات کے ذریعے تارڑ صاحب کا ساتھ   اُس وقت   تک  رہا جب تک انہوں نے اس نشریات کی میزبانی کی تقریباً سات سال تک  ۔  پہلے اکیلے دیکھا کرتی تھی اور پھر بیٹی کے ساتھ۔ٹی وی کا ساتھ شادی آن لائن کے وقت بھی رہا جس کو دیکھنے کے لئے بہت پاپڑ بیلنے پرتے اور بمشکل ہی ریمورٹ ہاتھ آتا۔ خیر یہ تو تھا ٹی      وی کا  سفر لیکن  اخبارِ جہاں میں اُن کے کالم باقائدگی سے پڑھنے شروع کئے۔ کوشش کے باوجود کتابوں تک رسائی ممکن نہ ہوئی ۔ میرا تعلق کسی بھی طرح  کے ادبی یا تعلیم یافتہ  گھرانے سے نہ تھا۔ والدہ کوکتابیں پڑھنے کا بے حد شوق تھا لیکن وہ بھی لائبریری سے لے کر پڑھنے کی حد تک اور جس لائبریری تک میری پہنچ تھی وہاں سب کچھ پڑھنے کو ملا مگر تارڑ صاحب کی کوئی کتاب میسر نہ آئی ۔عرصہ دراز تک اُن کی تصانیف سے محروم رہی۔آخر کار تارڑ صاحب کو   انٹرنیٹ  پر پڑھنا شروع کیا اور  سب سے پہلے ' پیار کا پہلا شہر' پڑھی جسے مسلسل تین بار پڑھا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا اور میں نے کئی کتابیں پڑھ ڈالی ۔  جن میں قربتِ مرگ میں محبت، غارِ حرا میں ایک رات، شمشال بے مشال، سفر شمال کے اور بہت کچھ اور اس وقت راکھ زیرِ مطالعہ ہے اور ساتھ ساتھ لاہور سے یارقند بھی۔

تارڑ صاحب کی کوئی بھی کتاب ہو وہ ناول ہو یا سفر نامہ  اس میں یہ خاصیت موجود ہے کہ وہ قاری کو اپنے سے باندھے رکھتی ہیں۔ جب تک مکمل نہ پڑھ لی جائےچین نہیں آتا ۔ اُن کے سفر نامے کی منظر کشی ایسی ہے کہ قاری کتاب ہاتھ میں لے کر اُن تمام جگہوں کی سیر کر لیتا ہے جس کے بارے میں تارڑ صاحب نے تحریر کیا ہے اور مدت تک اُن لفظوں کے سحر سے نہیں نکل پاتا ہے جو منظروں کی صورت نگاہوں میں گردش کرتے ہیں۔ ان سفر ناموں کو پڑھکر  لوگ اُن جگہوں کو دیکھنے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور ایک نئی لذت سے آشنا ہوتے  ہیں  اور جن کے لئے سفر  کرنا ممکن نہیں ہوتا  وہ ان لفظوں میں خود کو ڈبو کر اس سفر کی لذت پا لیتے ہیں۔ابھی بھی تارڑ صاحب کو بہت کم پڑھا ہے لیکن سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا ۔ انشاءاللہ

اسی دوران میں  فیس بک پر تارڑ صاحب کےگروپ میں شامل ہوئی جو 'مستنصر حسین تارڑ ریڈرز ورلد 'کے نام سے موجود ہیں اور پھر ایک نئی دنیا سے روشناس ہوئی۔ریڈرز ورلڈ کے بانی  محمد عاطف فرید ہیں اور ایڈمینز میں تہمینہ صابر ، سمیرا انجم ،جمیل عباسی ، نسرین غوری شامل ہیں ۔ یہی نہیں اس  گروپ کی خاص بات یہ ہےکہ اس میں تارڑ صاحب کی بیگم محترمہ میمونہ تارڑ  صاحبہ اور اُن کے بھائی مبشر حسین تارڑ صاحب  نہ صرف شامل ہے بلکہ تمام سرگرمیوں میں فعال کردار بھی ادا کرتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جس  نے تارڑ صاحب سے عشق رکھنے والوں کا ملاپ کروایا اور نہ صرف یہ بلکہ تارڑ صاحب سے ملاقات کے سلسلہ کی بھی ابتداء کی۔ ہمارے معاشرے میں  عام لوگوں کے لئے کسی بھی سیلیبریٹی سےملاقات کا تصور یا تو ممکن ہی نہیں ہو پاتا ہے یا پھر اس کے لئے پاپڑ بیلنے پرتے ہیں ۔ عموماسیلیبریٹیز صرف بڑی بڑی تقریبات میں ہی جانا پسند کرتے ہیں اور عام لوگوں سے اُن کا رویہ کچھ قابلِ ذکر نہیں ہوتا ہے ۔ لیکن مستنصر حسین تارڑ  ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جن کو غرور چھو کر نہیں گزرا۔ وہ تمام پاکستا ن کے لوگوں کے چاچا جی ہے جو صبح کی نشریات میں اُن کو دیکھ کر بڑے ہوئے ہیں اور اس نام سے پکارے جانے میں اُنہیں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔
ریڈرز ورلڈ کی جانب سے پہلی ملاقات کا انتظام ۲۲ ستمبر ۲۰۱۲ کو لاہور جیمخانہ میں کیا گیا۔جس میں لوگوں کی بھر پور شرکت نے  تارڑ صاحب سے ان کی محبت کا منہ بولتا ثبوت دیا وہیں تارڑ صاحب کی مہربان  شخصیت نے لوگوں کے دلوں میں اُن کی قدر اور مقام کو اور بلند کردیا۔ اس کے بعد بھی ریڈرز ورلڈ کی جانب سے کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں تقریبات کا انعقاد  کیا گیا۔ لیکن کچھ ذاتی وجوہات کی بناء پر میں اس میں سے کسی میں بھی شرکت نہ کرپائی۔ان  تقریبات میں شریک نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں اپنے آپ کو اُس وقت تک تارڑ صاحب کی فین  تصور نہ کرتی تھی جب تک میرے بک شیلف میں انکی کتابیں موجود نہ تھی  اور میں اُن لوگوں کے سامنے اپنے آپ بہت ہی کمتر محسوس کرتی تھی جو تارڑ صاحب سےنہ صرف  نہایت عقیدت رکھتے ہیں اور اُن کی ہر کتاب خرید کر پڑھتے ہیں بلکہ اُنہیں اپنا مرشد مانتے ہیں۔ لیکن الحمداللہ آج میرے بک شیلف میں ان کی بہت سی کتابیں موجود ہیں اور اس میں روزبرو اضافہ ہو رہا ہے۔
 یکم مارچ ۲۰۱۴  کو یومِ مستنصر قرار دیا گیا اور اس سال تارڑ صاحب کی ۷۵  ویں سالگرہ کی تقریب کا بھی انعقاد ہوا۔سال ۲۰۱۴  کو تارڑ صاحب کا سال قرار دیا گیا ہے اور اس سال میں مختلف تقریبات اور سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ بروز اتوار ۱۹ اکتوبر ۲۰۱۴ کو کراچی میں ایک تقریب منعقد کی گئی جو تارڑ صاحب کی نئی کتاب ' لاہور سے یارقند ' کی تقریبِ رونمائی تھی ایسی ہی ایک تقریب لا ہور میں بھی منعقد ہو چکی تھی ۔ اس تقریب میں شرکت کے لئے میں نے اپنے تمام کاموں کو پسِ پشت ڈال رکھا تھا  تاکہ اس میں شرکت ممکن ہو اور آخر کار میرا یہ خواب پورا ہوا اور مجھے تارڑصاحب سے ملنے کا موقع فراہم ہوا بلکہ بلمشافہ بات چیت کرنے اور کتاب پر دستخط کروانے کا موقع بھی فراہم ہوا جس کے لئے میں ریڈرز ورلڈ کی نہایت ممنون ہوں۔
یہ چونکہ میری تارڑ صاحب سے پہلی ملاقات تھی اور کسی ایسی تقریب میں شرکت کئے کافی عرصہ گزر چکا تھا اس لئے تھوڑی بہت گھبراہٹ بھی تھی ۔ شدید خواہش کے باوجود مائک لے کر وہ نظم جو میں نے تارڑ صاحب کے لئے لکھی تھی اُن کے سامنے پڑھنے کی ہمت نہ جُتا پائی ۔ حالانکہ تارڑ صاحب کا انداز نہایت مشفقانہ اور مہربان تھا اور وہ سب نہایت شگفتہ انداز میں بات چیت کر رہے تھے تقریب کا ماحول بلکل  گھر کی کسی تقریب جیسا تھا ۔ بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو تارڑ صاحب کی کتابوں کو پڑھ کر سفر کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے  اور اُن کے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئےاُن مقامات تک پہنچ چکے تھے جہاں ہم نے صرف تارڑ صاحب کے لفظوں کی صورت سفر کیا ہے۔ نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ دوستانہ ماحول میں تقریب  کا انعقاد  ریڈرز ورلڈ کی کامیابی اور تارڑ صاحب کی محبت کا واضح ثبوت پیش کرتی ہیں۔
بُک سائننگ کے وقت تک میں اپنی ہمت مجتمع کر چکی تھی اور اُس وقت تارڑ صاحب سے اچھے سے بات کرنے کا موقع ملا اور میں نے اُنہیں بتایا کہ میرا سفر آپ  کے ساتھ  'ایک حقیقت ایک فسانہ ' سے ہے ۔ میں نے آپ کی بہت زیادہ کتابیں نہیں پڑھی لیکن جو بھی پڑھی وہ کم از کم تین بار ضرور پڑھی۔ایک بات جو میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ جب کبھی زندگی میں تارڑ صاحب سے ملاقات کا موقع نصیب ہوا تو اُن سے ضرور کہوں گی اللہ کے فضل سے وہ کہہ پائی کہ " سر آپ کے سفر ناموں کو پڑھ کر، آپ کے لفظوں کی روشنی میں بہت سے لوگ سفر کرتے ہیں اور اُن منزلوں تک پہنچ کر سر شار ہوتے ہیں لیکن غارِ حرا میں ایک رات پڑھنے کے بعد سے میں محسوس کر رہی ہوں کہ ایسا سفر تو ممکن ہے مگر  وہاں  ایسا وقت گزارنا پھر شائد کسی کے لئے ممکن نہ ہو اس لئے یہ سفر تو صرف آپ کی اس کتاب کو پڑھ کر ہی کیا جاسکتا ہے ۔" اس پر تارڑ صاحب نے بھر پور مسکراہٹ کے ساتھ کہا ہاں یہ تو درست ہے  اور یہ ایک مسکراہٹ میرے لئے زندگی بھر کا سرمایہ بن گئی  کیونکہ اتنا طویل سفر میں نے صرف اس مسکراہٹ کے لئے ہی طے کیا تھا جسے میں نے صرف ٹی وی کے شیشے کے پیچھے سے یا بھر تصویروں میں ہی دیکھا تھا۔ یہ ملاقات میری زندگی کا ایک اہم پڑاؤ ہے جس کی یادیں تاحیات میرے ساتھ رہے گی  مگر اس میں ایک کمی سی رہ گئی جو کبھی نہ کبھی ضرور پوری ہوگی اور وہ ہے تارڑ صاحب کی بیگم میمونہ جی سے ملاقات۔کیونکہ تارڑ صاحب کی مسکراہٹ میمونہ جی کی مسکراہٹ کےبغیر ادھوری رہتی ہے۔ میں نے تارڑ صاحب سے اپنی زندگی میں دو نہایت اہم چیزیں سیکھی جس کا ذکر نہ کرنا کسی امانت میں خیانت کی طرح ہوگا۔
۱-چاہے وقت اور حالات کیسے بھی ہو ہمیشہ اس کا مقابلہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہوئے یقین  اور مسکراہٹ کے ساتھ کرنا اور اس بات پر یقین رکھنا کہ آپ کے نصیب میں جو کچھ لکھا ہے وہ ضرور ملے گا۔
۲-ہر چھوٹی یا بڑی خوشی  اور کامیابی کے لئے اپنے رب کا شکر گزار رہنا کبھی بھی کسی مقام پر غرور نہ کرنا اور اسے اپنے رب کا تحفہ سمجھنا نہ کہ اپنا حق اور اپنی خصوصیت۔
حرفِ آخر!
یہ تحریر خوشبو کے سفر کی زینت اس لئے بنی کہ میرا یہ سفر واقع ایک خوشبو کا سفر تھا جس کی منزل  ایسی خوشبوؤں میں رچی بسی تھی کہ اس کی مہک تاحیات میری ہمسفر رہے گی ۔
 ثمینہ طارق










جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔




اتوار، 5 اکتوبر، 2014

عید

تو چلو پھر سے عید کرتے ہیں
      مگر سنو!
   اب کی بار اپنی 
  بیتابیوں، پریشانیوں اور حسرتوں 
   کو قربان کرتے ہیں
اور ساتھ نفرتوں کو قربان کرکے
کچھ محبتوں کے بیج بوتے ہیں
  کہ شاید اگلی بار
کوئی چہرہ غمگین نہ رہے
کوئی آنکھ پُر نم نہ رہے
تو چلو پھر سے عید کرتے ہیں 
     مگر سنو! 
  اب کی بار
دنیا کی محبت قربان کرتے ہیں
اور اپنے رب سے
محبت کی تجدید کرتے ہیں
اب کی بار اپنے نفس کو 
   قربان کرکے
اُس کی اُمت سے محبت کرتے ہیں
تو چلو پھر سے عید کرتے ہیں!!

ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔


آپ کیسے لکھتے ہیں؟


جی جناب آپ کیسے لکھتے ہیں؟ یہ سوال ہے  اُن تمام لکھاریوں سے جو لفظوں کے کھلاڑی ہیں اور اس کھیل میں مہارت رکھتے ہیں۔ نہیں جی ہم نے یہ بلکل نہیں پوچھا کہ اپ دائیں ہاتھ سے لکھتے ہیں یا بائیں سے، کاپی میں لکھتے ہیں یا کاغذ کے ٹکڑوں پر، قلم کونسا استعمال کرتے ہیں اور کسطرح یعنی کہ آپ قلم کو قلم کی طرح استعمال کرتے ہیں یا چھُڑی کانٹوں کی طرح پکڑتے ہیں۔ صفحات کو کالا کرتے ہیں یا  نیلا ، پیلا، ہرا، سرخ  یا پھر کوئی اور منفرد رنگ دیتے ہیں اپنی تحریر کو جو اسے منفرد بنادے۔

سوال پھر اپنی جگہ کھڑا ہے کہ آپ کیسے لکھتے ہیں؟ کہیں آپ کاغذ  اور قلم کےروایتی انداز کو ترک کرکے آگےتو نہیں  نکل چکے ہیں کہ شائد اب لفظوں کے اس کھیل میں ان کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ کہیں آپ اپنی تحریروں کے لئے کی بورڈ اور کمپوٹر اسکرین کا استعمال تو نہیں کرتے ہیں؟ چلے یوں ہی سہی کہ یہ نیا دور ہے اور اب پرانی چیزوں کی وقعت نہیں رہی مگر کیا آپ اپنی عزیز ترین تحریروں  کے پرنٹ آؤٹ نکال کر اپنے پاس سنبھال کر رکھتے ہیں یا  صرف ٹیکنالوجی پر بھروسہ کئے بیٹھے ہیں؟ جناب اگر ایسا ہے تو کہیں کسی دن آپ کی یہ مشین آپ کے ساتھ ویسا ہی دھوکا نہ کرے جیسا ہمارے ساتھ کر چکی ہے اور  آپ کی تمام جان سے پیاری تخلیقات کا ماتم نہ کروالیں  آپ سے۔ تو سوچئے زرا !

تو جناب آپ کیسے لکھتے ؟ ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں لفظوں  کو جملوں میں ڈھال کر تحریر  کی صورت دینا ایک تخلیقی عمل ہے اور ایک لکھاری چاہے وہ  لفظوں کا کھلاڑی ہی کیوں نہ ہو اپنی ہر تخلیق کو اپنے وجود کا حصّہ سمجھتا ہے اور اُس کو وجود میں لاتے ہوئے اُسی کرب سے گزرتا ہے جس سے ایک ماں اپنے بچّے کو جنم دیتے ہوئے گزرتی ہے۔ (کچھ اپنا تجربہ بھی رہا اور کچھ آج کل پڑھے جانے والے افسانوں کا بھی اثر رہا )  J
تو جناب اس تخلیق کو وجود میں لانے کے لئے آپ کیا انتظام کرتے ہیں ؟ آپ کسطرح لکھتے ہیں؟

چلئے اپنا طریقہ آپ کے گوش گزار کرتے ہیں۔ ہم نے کبھی کسی بھی موضوع کو باقاعدہ سوچ کر کبھی لکھنے کی کوشش نہیں کی  بلکہ جب کبھی کوئی خیال ذہن میں وارد ہوا  اُسے قلم کی مدد سے کاغذکے سپرد کر دیا ۔ بیشک وہ کاغذ کا کوئی فالتو سا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو یا اخبار کا کوئی ٹکڑا جس میں تھوری سی جگہ مل جائے لکھنے کی۔ قلم کی تلاش کبھی دشواری نہ بنی کیونکہ اکثر وہ ہمیں اپنے بالوں ہی میں دستیاب ہو جاتا ہے ۔ ایک اُستاد جو ٹہرے۔ تو جناب جب کبھی فرصت میسر آتی ان ٹکڑوں میں لکھی تحریروں کو ڈائری کی نظر کر دیا جاتا  مگر وہ کبھی جوں کا توں نہ اُترا۔ کبھی ہاتھ لمبے ہوگئے تو کبھی پاؤں چھوٹے ، کبھی ناک کٹ گئی تو کبھی کان غائب ہو گئے۔خیر یہ طریقہ اسکول اور کالج کے زمانےمیں تو بہت کام آیا تقریری اور تحریری مقابلوں میں حصّہ لیتے تو ان تحریروں میں سے اچھا خاصہ مواد حاصل ہو جاتا اور ہم با آسانی اپنا مضمون مکمل کر لیتے۔

خیر یہ تو طالبِ علمی کا دور تھا لیکن جیسے ہی عملی زندگی میں قدم رکھا تو  ہمیں خیر خبر ہوگئی کہ کچن میں کام کرتے ہوئے ، روتے ہوئے بچّوں کو مناتے ہوئے ، کپڑے دھوتے یا جھاڑ پونچھ کرتے ہوئے  جو  خیالات بلا اجازت وارد ہوتے رہتے ہیں اُنہیں کاغذ کے سپرد کرنا آسان کام نہیں اور جب تک ہم کاغذاور قلم کی تلاش میں کامیاب ہوتے تب تک وہ نوادرات ہماری بے رخی پا کر  یکلخت  ایسے غائب ہوتے جیسے گدھے کے سر سے سنگھ اور پھر کتنی ہی زور آزمائی کیوں نہ کر لیں  وہ مان کر ہی نہ دیتے۔ آخر کار ہم نے ایک رف پیڈ اور ایک قلم اپنے ساتھ رکھنا شروع کردی جہاں  جاتے ساتھ لے جاتے اور پھر لوگوں کی قہر آلود نگاہوں کا نشانہ بنتے رہتے اور ایک وقت ایسا بھی آیا سب چھوڑ چھاڑ کر بیٹھ گئے اب ہماری بے رخی کے باعث لفظوں نے ہمارے خیالات کا ساتھ دینا  ترک کردیا تھا۔

تو جناب یہ تو تھا ہمارا لکھنے لکھانےکا طریقہ جس نےہمیں اکثر رسوا کیا کیونکہ ادب کی کئی اصناف میں مسلسل مشق ایک لازمی جزو ہے جس سے ہم  جی چراتے رہے مثلاً شاعری کی تو غزل لکھنے کا شوق چرایا ، لکھی بھی اور اصلاح بھی کروائی لیکن جاری نہ رکھ سکے اور آخر کار نظم لکھنے پر ہی اکتفا کیا۔ اسی طرح  آج کل افسانہ لکھنے کا شوق چرایا ہے لیکن اس کے اسلوب سے بھی نا واقف ٹہرے سو شائد یہ بھی چند روزہ شوق ہے اور ہم پھر سے اپنے مضامین کی طر ف راغب ہو جائے گے۔ ہمیں تو فقط اپنے اردگرد بکھرے درد کو تحریر کرنا ہے اور اس کے لئے ہماری کہانیاں ، مضامین اور بلاگ ہی بھلے۔ فقط اپنے حصّے کا کاغذ تو بھرتے چلے۔

جی جناب ہمارےخیال میں ہر وہ شخص جسے خدا نے قلم کی طاقت عطا کی ہے اُسے اس کا حق ادا کرنا چاہئے اور اپنے خیالات کو  لفظوں کی ڈور میں ضرور باندھنا چاہئے ۔ کچھ بھی لکھئے اپنے اردگرد بکھرے واقعات لکھئے ، درد لکھئے، آنسو لکھئے، خوشی لکھئے، خوشبو لکھئے ۔ کچھ نہیں تو اپنی ڈائری لکھئے جس میں دفتر کا کام لکھے یا کچن کا کام مگر لکھئے ضرور۔ لکھے اور لکھتے رہئے اور نہ صرف لکھئے بلکہ لوگوں سے شیئر بھی کیجئے لکھنے کو کوئی فورم میسر نہیں تو اپنا بلاگ بنایئے اور اس پر وہ سب لکھئے جو آپ کا دل کرے لیکن خیال رہے کہ ایسا کچھ نہ لکھے کہ دلوں میں قدورتیں اور نفرتیں جنم لیں۔ محبت لکھئے ، محبت بانٹیں اور محبت کیجئے۔ پہلے اپنے آپ سے اور پھر اپنے اطراف میں رہنے والوں سے اور دیکھے یہ محبّت آپ کے لئے ایک ایسا در کھول دے گی جس میں داخل ہو کروہ کچھ مل جاتا ہے کہ پھر کسی کی تلاش نہیں رہتی ہے۔ جی جناب یہ در ہے ربِّ کریم کی محبّت کا در ۔ اُسے دوست بنا لیں پھر کسی دوست کی ضرورت نہیں رہتی۔
تو جناب! اب تو بتایئے آپ کیسے لکھتے ہیں ؟  J

ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔