Translate

اتوار، 5 اکتوبر، 2014

عید

تو چلو پھر سے عید کرتے ہیں
      مگر سنو!
   اب کی بار اپنی 
  بیتابیوں، پریشانیوں اور حسرتوں 
   کو قربان کرتے ہیں
اور ساتھ نفرتوں کو قربان کرکے
کچھ محبتوں کے بیج بوتے ہیں
  کہ شاید اگلی بار
کوئی چہرہ غمگین نہ رہے
کوئی آنکھ پُر نم نہ رہے
تو چلو پھر سے عید کرتے ہیں 
     مگر سنو! 
  اب کی بار
دنیا کی محبت قربان کرتے ہیں
اور اپنے رب سے
محبت کی تجدید کرتے ہیں
اب کی بار اپنے نفس کو 
   قربان کرکے
اُس کی اُمت سے محبت کرتے ہیں
تو چلو پھر سے عید کرتے ہیں!!

ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔


آپ کیسے لکھتے ہیں؟


جی جناب آپ کیسے لکھتے ہیں؟ یہ سوال ہے  اُن تمام لکھاریوں سے جو لفظوں کے کھلاڑی ہیں اور اس کھیل میں مہارت رکھتے ہیں۔ نہیں جی ہم نے یہ بلکل نہیں پوچھا کہ اپ دائیں ہاتھ سے لکھتے ہیں یا بائیں سے، کاپی میں لکھتے ہیں یا کاغذ کے ٹکڑوں پر، قلم کونسا استعمال کرتے ہیں اور کسطرح یعنی کہ آپ قلم کو قلم کی طرح استعمال کرتے ہیں یا چھُڑی کانٹوں کی طرح پکڑتے ہیں۔ صفحات کو کالا کرتے ہیں یا  نیلا ، پیلا، ہرا، سرخ  یا پھر کوئی اور منفرد رنگ دیتے ہیں اپنی تحریر کو جو اسے منفرد بنادے۔

سوال پھر اپنی جگہ کھڑا ہے کہ آپ کیسے لکھتے ہیں؟ کہیں آپ کاغذ  اور قلم کےروایتی انداز کو ترک کرکے آگےتو نہیں  نکل چکے ہیں کہ شائد اب لفظوں کے اس کھیل میں ان کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ کہیں آپ اپنی تحریروں کے لئے کی بورڈ اور کمپوٹر اسکرین کا استعمال تو نہیں کرتے ہیں؟ چلے یوں ہی سہی کہ یہ نیا دور ہے اور اب پرانی چیزوں کی وقعت نہیں رہی مگر کیا آپ اپنی عزیز ترین تحریروں  کے پرنٹ آؤٹ نکال کر اپنے پاس سنبھال کر رکھتے ہیں یا  صرف ٹیکنالوجی پر بھروسہ کئے بیٹھے ہیں؟ جناب اگر ایسا ہے تو کہیں کسی دن آپ کی یہ مشین آپ کے ساتھ ویسا ہی دھوکا نہ کرے جیسا ہمارے ساتھ کر چکی ہے اور  آپ کی تمام جان سے پیاری تخلیقات کا ماتم نہ کروالیں  آپ سے۔ تو سوچئے زرا !

تو جناب آپ کیسے لکھتے ؟ ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں لفظوں  کو جملوں میں ڈھال کر تحریر  کی صورت دینا ایک تخلیقی عمل ہے اور ایک لکھاری چاہے وہ  لفظوں کا کھلاڑی ہی کیوں نہ ہو اپنی ہر تخلیق کو اپنے وجود کا حصّہ سمجھتا ہے اور اُس کو وجود میں لاتے ہوئے اُسی کرب سے گزرتا ہے جس سے ایک ماں اپنے بچّے کو جنم دیتے ہوئے گزرتی ہے۔ (کچھ اپنا تجربہ بھی رہا اور کچھ آج کل پڑھے جانے والے افسانوں کا بھی اثر رہا )  J
تو جناب اس تخلیق کو وجود میں لانے کے لئے آپ کیا انتظام کرتے ہیں ؟ آپ کسطرح لکھتے ہیں؟

چلئے اپنا طریقہ آپ کے گوش گزار کرتے ہیں۔ ہم نے کبھی کسی بھی موضوع کو باقاعدہ سوچ کر کبھی لکھنے کی کوشش نہیں کی  بلکہ جب کبھی کوئی خیال ذہن میں وارد ہوا  اُسے قلم کی مدد سے کاغذکے سپرد کر دیا ۔ بیشک وہ کاغذ کا کوئی فالتو سا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو یا اخبار کا کوئی ٹکڑا جس میں تھوری سی جگہ مل جائے لکھنے کی۔ قلم کی تلاش کبھی دشواری نہ بنی کیونکہ اکثر وہ ہمیں اپنے بالوں ہی میں دستیاب ہو جاتا ہے ۔ ایک اُستاد جو ٹہرے۔ تو جناب جب کبھی فرصت میسر آتی ان ٹکڑوں میں لکھی تحریروں کو ڈائری کی نظر کر دیا جاتا  مگر وہ کبھی جوں کا توں نہ اُترا۔ کبھی ہاتھ لمبے ہوگئے تو کبھی پاؤں چھوٹے ، کبھی ناک کٹ گئی تو کبھی کان غائب ہو گئے۔خیر یہ طریقہ اسکول اور کالج کے زمانےمیں تو بہت کام آیا تقریری اور تحریری مقابلوں میں حصّہ لیتے تو ان تحریروں میں سے اچھا خاصہ مواد حاصل ہو جاتا اور ہم با آسانی اپنا مضمون مکمل کر لیتے۔

خیر یہ تو طالبِ علمی کا دور تھا لیکن جیسے ہی عملی زندگی میں قدم رکھا تو  ہمیں خیر خبر ہوگئی کہ کچن میں کام کرتے ہوئے ، روتے ہوئے بچّوں کو مناتے ہوئے ، کپڑے دھوتے یا جھاڑ پونچھ کرتے ہوئے  جو  خیالات بلا اجازت وارد ہوتے رہتے ہیں اُنہیں کاغذ کے سپرد کرنا آسان کام نہیں اور جب تک ہم کاغذاور قلم کی تلاش میں کامیاب ہوتے تب تک وہ نوادرات ہماری بے رخی پا کر  یکلخت  ایسے غائب ہوتے جیسے گدھے کے سر سے سنگھ اور پھر کتنی ہی زور آزمائی کیوں نہ کر لیں  وہ مان کر ہی نہ دیتے۔ آخر کار ہم نے ایک رف پیڈ اور ایک قلم اپنے ساتھ رکھنا شروع کردی جہاں  جاتے ساتھ لے جاتے اور پھر لوگوں کی قہر آلود نگاہوں کا نشانہ بنتے رہتے اور ایک وقت ایسا بھی آیا سب چھوڑ چھاڑ کر بیٹھ گئے اب ہماری بے رخی کے باعث لفظوں نے ہمارے خیالات کا ساتھ دینا  ترک کردیا تھا۔

تو جناب یہ تو تھا ہمارا لکھنے لکھانےکا طریقہ جس نےہمیں اکثر رسوا کیا کیونکہ ادب کی کئی اصناف میں مسلسل مشق ایک لازمی جزو ہے جس سے ہم  جی چراتے رہے مثلاً شاعری کی تو غزل لکھنے کا شوق چرایا ، لکھی بھی اور اصلاح بھی کروائی لیکن جاری نہ رکھ سکے اور آخر کار نظم لکھنے پر ہی اکتفا کیا۔ اسی طرح  آج کل افسانہ لکھنے کا شوق چرایا ہے لیکن اس کے اسلوب سے بھی نا واقف ٹہرے سو شائد یہ بھی چند روزہ شوق ہے اور ہم پھر سے اپنے مضامین کی طر ف راغب ہو جائے گے۔ ہمیں تو فقط اپنے اردگرد بکھرے درد کو تحریر کرنا ہے اور اس کے لئے ہماری کہانیاں ، مضامین اور بلاگ ہی بھلے۔ فقط اپنے حصّے کا کاغذ تو بھرتے چلے۔

جی جناب ہمارےخیال میں ہر وہ شخص جسے خدا نے قلم کی طاقت عطا کی ہے اُسے اس کا حق ادا کرنا چاہئے اور اپنے خیالات کو  لفظوں کی ڈور میں ضرور باندھنا چاہئے ۔ کچھ بھی لکھئے اپنے اردگرد بکھرے واقعات لکھئے ، درد لکھئے، آنسو لکھئے، خوشی لکھئے، خوشبو لکھئے ۔ کچھ نہیں تو اپنی ڈائری لکھئے جس میں دفتر کا کام لکھے یا کچن کا کام مگر لکھئے ضرور۔ لکھے اور لکھتے رہئے اور نہ صرف لکھئے بلکہ لوگوں سے شیئر بھی کیجئے لکھنے کو کوئی فورم میسر نہیں تو اپنا بلاگ بنایئے اور اس پر وہ سب لکھئے جو آپ کا دل کرے لیکن خیال رہے کہ ایسا کچھ نہ لکھے کہ دلوں میں قدورتیں اور نفرتیں جنم لیں۔ محبت لکھئے ، محبت بانٹیں اور محبت کیجئے۔ پہلے اپنے آپ سے اور پھر اپنے اطراف میں رہنے والوں سے اور دیکھے یہ محبّت آپ کے لئے ایک ایسا در کھول دے گی جس میں داخل ہو کروہ کچھ مل جاتا ہے کہ پھر کسی کی تلاش نہیں رہتی ہے۔ جی جناب یہ در ہے ربِّ کریم کی محبّت کا در ۔ اُسے دوست بنا لیں پھر کسی دوست کی ضرورت نہیں رہتی۔
تو جناب! اب تو بتایئے آپ کیسے لکھتے ہیں ؟  J

ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

منگل، 19 اگست، 2014

تروینی

' رات پشمینے کی' گلزار صاحب  کی یہ کتاب کچھ عرصہ قبل منعقد ہونے والے ایک کتابی میلے سے خریدی تھی اور سرسری سا پڑھ کر رکھ دیا۔ کل یعنی  ۱۸ اگست کو گلزار صاحب کی ۸۰ ویں سالگرہ تھی، فیس بک کے ایک گروپ میں اس حوالے سے     کچھ نظمیں شامل کرنے کے لئےاس کتاب کو دوبارہ پڑھا تو اس میں شاعری کی اک نئی صنف ' تروینی 'سے متعارف ہوئی ۔ گلزار صاحب کےالفاظ میں تروینی کا تعارف حاضر ہے۔ 

"تروینی نہ تو مثلث ہے، نہ ہائیکو، نہ تین مصرعوں میں کہی ایک نظم۔ ان تینوں ' فارمز' میں ایک خیال اور ایک امیج کا تسلسل ملتا ہے۔ لیکن 'تروینی' کا فرق اس کے مزاج کا فرق ہے۔ تیسرا مصرعہ پہلے دو مصرعوں کے مفہوم کو کبھی نکھار دیتا ہے، کبھی اضافہ کرتا ہے، یا کبھی ان پر کمینٹ کرتا ہے۔ ' تروینی' نام اس لیے دیا گیا تھا کہ سنگم پر تین ندیاں ملتی ہیں۔ گنگا، جمنا اور سرسوتی۔گنگا اور جمنا کے دھارے سطح پر نظر آتے ہیں ، لیکن سرسوتی جو ٹیکسیلا سے بہہ کر آتی تھی، وہ زمین دور ہو چکی ہے ۔ تروینی کے تیسرے مصرعے کا کام سرسوتی دکھانا ہے  جو پہلے دو مصرعوں سے چھپی ہوئی ہے۔"

اسی کتاب میں چھپی تروینی سے میرا انتخاب: 
**************************************
وہ میرے ساتھ ہی تھا دور تک ، مگر اک دن
جو مڑ کر دیکھا تو وہ دوست میرے ساتھ نہ تھا

پھٹی ہو جیب تو کچھ سکّے کھو بھی جاتے ہیں
***********************************
کچھ مرے یار تھے رہتے مرے ساتھ ہمیشہ
کوئی آیا تھا، انھیں لے کے گیا، پھر نہیں لوٹے

شیلف سے نکلی کتابوں کی جگہ خالی پڑی ہے
***********************************
وہ جس سے سانس کا رشتہ بندھا ہوا تھا مرا
دبا کے دانت تلے، سانس کاٹ دی اس نے

کسی پتنگ کا مانجا، محلّے بھر میں لٹا!
***********************************
اس تیز دھوب میں بھی اکیلا نہیں تھا میں
اس تیز دھوب میں بھی اکیلا نہیں تھا میں

تنہا ترے خیال نے رہنے نہیں دی!
*********************************** 
کوئی صورت بھی مجھے پوری نظر آتی نہیں
آنکھ کے شیشے مرے چٹخے ہوئے ہیں کب سے

ٹکروں ٹکروں میں سبھی لوگ ملے مجھ سے
***********************************
تیری صورت جو بھری رہتی ہے آنکھوں میں سدا
اجنبی لوگ بھی پہچانے سے لگتے  ہیں  مجھے 

تیرے رشتے میں تو دنیا ہی پرولی میں نے!
************************************
اک اک یاد اٹھاؤ اور پلکوں سے پونچھ کے واپس رکھ دو
اشک نہیں یہ آنکھ میں رکھے ، قیمتی قیمتی شیشے ہیں!

طاق سے گر کے قیمتی چیزیں ٹوٹ بھی جایا کرتی ہیں
*************************************
آؤ سارے پہن لیں آئینے
سارے دیکھیں گے اپنا ہی چہرہ

سب کو سارے حسیں لگیں گے یہاں
************************************
عجیب کپڑا دیا ہے مجھے سلانے کو
کہ طول کھینچوں اگر،ارض چُھوٹ جاتا ہے

اُدھرنے سینے ہی میں عمر کٹ گئی ساری
***********************************
جس سے بھی پوچھا ٹھکانہ اس کا
اک پتہ اور بتا جاتا ہے

یا وہ بے گھر ہے، یا ہرجائی ہے
***********************************
زمین گھومتی ہے گِرد آفتاب کے
زمیں کےگِرد گھومتا ہے چاند رات دن

ہیں تین ہم! ہماری فیملی ہے تین کی
***********************************
لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا
داستانوں کے کسی دلچسب سے اک موڑ پر

یوں ہمیشہ کے لئے بھی کیا پچھڑتا ہے کوئی؟
***********************************
کھڑکیاں بند ہیں، دروازوں پہ بھی تالے ہیں
کیسے یہ خواب چلے آتے ہیں پھر کمرے میں

نیند میں کوئی تو روزن ہے، گھلا ہوا
***********************************

ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

ہفتہ، 2 اگست، 2014

رشتے

رشتے سب مان رکھتے ہیں
چاہے وہ رشتے خون کے ہو
دل کے  ہو،  پیار کے  ہویا درد کے
یہ سب رشتے اک ڈور سے جُڑے ہوتے ہیں
اور وہ   ڈور  ہے
محبت!
اسے محسوس کرو،اسے اپناؤ
اسے مان  دو،اسے دل میں بساؤ
پس تُم اسے کبھی آزمانا مت
کیونکہ آزمانے سے
اُن کے سارے راز عیاں ہو جاتے ہیں
اور یہ رشتے بکھرجاتے ہیں
پھر وہ چاہے کیسے ہی رشتے کیوں نہ ہو
خود بھی جلتے ہیں اور سب کو جلاتے ہیں
آزمانے سے سب رشتے
اپنا وجود کھو دیتے ہیں
اور کوئی رشتہ اپنا نہیں رہتا
دُکھ یہ نہیں کہ یہ رشتے پائدار نہیں
اُن کے درمیان محبتیں برقرار نہیں
اُن محبتوں کو کشیدنے کی خاطر
وجود ہمارا ریزہ ریزہہو جاتا ہے
دُکھ یہ ہے کہ
آزمانے سے یہ رشتے اور یہ محبتیں
اپنا مان کھو دیتے ہیں
اور پھر صرف دُکھ ہی دُکھ
ہمارے ہاتھ آتے ہیں


ثمینہ طارق

جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔


بدھ، 16 جولائی، 2014

وہ بچّہ کیسے معتبر ہوگا


وہ بچّہ کیسے معتبر ہوگا
درد سے جس کا سینہ خوگر ہوگا 

پانی پر نقش بنا کر
اپنے ہاتھوں سے مٹاتا ہے
کبھی کاغز پر منظر کھینچ کر
پانی میں اُس کو ڈبوتا ہے
وہ کیوں کر ان نقوش میں
ان مناظر میں
رنگ بھر پائے گا
مفلسی کی چادر تلے
جس کا اپنا چہرہ      
بے رنگ ہوگا
اس کی تو آنکھ کا ہر منظر ہی
بدرنگ ہوگا
وہ بچّہ کیسے معتبر ہوگا
درد سے جس کا سینہ خوگر ہوگا

کبھی اپنے جذبوں کو
لفظوں میں پرو کر تولتا ہے
کبھی لفظوں کی گہرائی میں خود اُتر کر
اپنے جذبوں کو ڈبوتا ہے
سارے لفظ مل کر بھی
اس کے اندر کو نہیں کھولتے
اُس درد کو نہیں ٹٹولتے
جو کہ
اُس کی آنکھ کا صرف
ایک آنسو بولتا ہوگا
وہ بچّہ کیسے معتبر ہوگا
درد سے جس کا سینہ خوگر ہوگا 

یہ نظم  میں نے ۲۰۰۵ میں کشمیر میں آنے والے زلزلے کے بعد لکھی۔ اُن دنوں میں ایک کمیونٹی اسکول سے وابستہ تھی اور بہت سے ایسے بچّے رابطے میں تھے جن کا معیارِ زندگی اسقدر بدتر تھا کہ وہ مفلسی اور محرومی کی انتہا پر تھے۔ ہمارا کمیونٹی سینٹر ایسے بچُوں کی  مفت تعلیم و تربیت کے لئے کام کر رہا تھا ۔ اسی سلسلے میں کچھ ورکشاپ منعقد کئے گئے تھے جن میں بچّو ں کو مختلف سرگرمیاں کرواتے ہوئے اُن کا تفصیلی مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم ہوا اور ایک سوچ مسلسل ذہن میں رہی کہ یہ بچّے آخر کس طرح اپنا مستقبل سنوار پائے گے جن کے پاس نہ صرف  تعلیمی سہولتوں کا فقدان  ہے بلکہ جنہیں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔  بہت سے ادارے  کوشش تو کر تے ہیں کہ انہیں بہترین تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ اُن کی زندگی کی بنیادی ضروریات کو بھی پورا کیا جائے لیکن ان بچوں کو نفسیاتی مدد کی بھی بے انتہا ضرورت ہوتی ہیں جو صرف محبت اور شفقت سے ہی فراہم کی جاسکتی ہے۔

انہی دنوں ۵ اکتوبر کو رمضان کے مہینے میں ہی  پاکستانی تاریخ کاایک  بڑا زلزلہ وقوع پزیر ہوا ۔ صبح جیسے ہی ٹی وی کھولا تو خبروں میں یہ سُن کرلرزہ طاری ہو گیا کہ زلزلہ سے بہت سے بچّے متاثر ہوئے ہیں کیونکہ وہ اسکول میں تھے اور اسکول کی عمارات کچی تھی وہ سب بچّے منوں مٹی تلے دب گئے- اس زلزلے نے جہاں لاکھوں لوگوں کی جانیں لی وہیں پر بے شمار لوگ معزور ہوگئے  جن میں بے شمار بچّے شامل تھے۔ ایک سوچ جو اُن بچوں کو دیکھ کر دل میں اُبھری وہ یہی تھی کہ ہم ان بچوں کی مفلسی کو دیکھ کر اسقدر افسردہ  ہوتے ہیں اب یہ بچّے جو اتنے بڑے حادثے سے گزرے ہیں اورنہ صرف اپنے ماں باپ اور رشتے داروں کو بلکہ  اپنے جسم کے اعضاء تک کھو بیٹھے ہیں آخر کس طرح اس دنیا میں اپنا مقام بنا پائے گے۔ اسی طرح جب ۲۰۱۰ میں سیلاب آیا تو بے شمار بچّے اپنوں سے بچھڑ گئے ، اپنے گھر بار، بہن بھائی اور ماں باپ کو کھوبیٹھے۔ کتنی بیماریوں کا شکار ہوئے اور پھر تھر میں قحط کا شکار ہونے والے بچے جنہیں   نہ تو خوراک مہیا تھی اور نہ ہی رہنے کا ٹھکانا۔ ان تمام قدرتی آفات میں تمام لوگ متاثر ہوتے ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ شکار بچّے ہوتے ہیں وہ نہ خود کو سنبھالنے کے قابل ہوتے ہیں نہ ہی ان آفات کو اور ان کے اثرات کو سمجھنے کے۔


آج اپنے اطراف میں نظر گھماؤ تو ہر طرف ایسی آفات موجود ہیں جو کہ بچّوں سے اُن کے جینے کا حق چھین رہی ہے اور افسوس تو یہ ہے کہ وہ صرف قدرتی آفات نہیں ہیں بلکہ انسانوں کے اپنے پیدا کردہ مسائل ہیں جن سے سب سے زیادہ متاثر بچّے ہوتے ہیں۔ چاہے وہ جنگ ہو یا دہشت گردی ہو بچّے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔شام ہو، عراق ہو یا فلسطین ہر طرف بے شمار بچّے اپنی جانوں کو کھو چکے ہیں اوربے شمار معزور ہو چکے ہیں۔کشمیر ہو یا وزیرستان یا دنیا کا کوئی بھی حصّہ جہاں دہشت گردی ہو رہی ہے وہاں بچّے متاثر ہو رہے ہیں اور ایسے بچّے  کس طرح زندگی کی ڈور کو کھینچ کر چل سکتے ہیں۔ جب ہم نے اسکول میں آنے والے غریب بچوں کا تجزیہ کیا تو ہمیں یہ جان کر بے حد دُکھ ہوا تھا کہ کوشش کے باوجود یہ بچّے نفسیاتی طور پر ایک پُر سکون اور پُر آسائش زندگی بسر کرنے والے بچّے کی طرح نہیں ہو سکتے ہیں۔

 تو سوچئے یہ جو بچے ان تمام آفات کی نظر ہو رہے ہیں ، جو دھماکوں میں نہ صرف اپنے گھر بار اور خاندان کو کھو بیٹھتے ہیں بلکہ اپنے ہی جسم کے اعضاء کو کھو کر ساری زندگی معذوری میں گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں وہ  کسطرح اپنی زندگی کو نارمل رکھ پائے گے۔ ہمیشہ ایک کمی کا شکار رہے گے اور اس کے زمّہ دار ہم بڑے ہیں کیونکہ اس جنگ و جدل کے محرک ہم ہی ہے جنگ بچّے نہیں کرتے مگر متاثر بچّے ہی ہوتے ہیں۔

آج ہمارے ملک کے ایک مایہ ناز مصنف مستنصر حسین تارڑ صاحب کے ایک انڑویو کا ایک حصْہ دیکھا جس میں اُنہو ں نے ایسے ہی بچّوں کے بارے میں بات کی ہے تو یہ نظم یاد آئی اور یہ سب تحریر ہوا اس لیے اُن کے انٹرویوں کا لنک دے رہی ہوں آپ بلاگ پڑھے تو یہ لنک ضرور دیکھئے گا۔


ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔


جمعرات، 3 جولائی، 2014

انا

انا کی جنگ بڑی کٹھن ہوتی ہے
اس راہ میں بڑی جلن ہوتی ہے
اس پر چلتے ہوئے
کبھی دل تڑپتا ہے تو
کبھی روح مچلتی ہے
اس کی جیت میں بھی کہیں
ہار چھپی ہوتی ہے
انا کی جنگ بڑی کٹھن ہوتی ہے

انا اور خودی کے درمیاں
اک باریک سی لکیر ہوتی ہے
آنسوؤں سے بھری
 اس کی تقدیر ہوتی ہے
خودی کو بچاتے ہوئے
اکثربڑی تکلیف ہوتی ہے
اور اس کو بھول جانے میں بھی
اپنی ہستی کی تحقیر ہوتی ہے
انا کی جنگ بڑی کٹھن ہوتی

ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔