Translate

اتوار، 13 ستمبر، 2015

خوشبو والا گھر. (افسانہ)




آنکھ کھُلتے ہی اُس نے اپنے ارد گرد ایک مانوس سی خوشبو محسوس کی اور اُس کے چہر ے پر مُسکان پھیل گئی۔ مگر اُسی لمحے اُسے محسوس ہو ا کہ آج وہ قبل از وقت جاگ گئی ہے۔ عموماً صبح کھڑکیوں کے پردے ہٹنے کے ساتھ ہی سورج کی کرنیں اُس کے لئے آلارم کا  کام انجام دیتی تھی۔ لیکن ابھی تو کافی اندھیرا تھا اور کھڑکیوں سے پردے بھی نہیں ہٹائے گئے تھے۔ اُس کے جاگنے کی وجہ وہ مانوس سی خوشبو تھی جو بستر کے ساتھ رکھی میز پر رکھے گلدستے سے آرہی تھی۔ اُسے گلاب بے انتہا پسند تھے اتنے کہ ایسے  ایک گلاب کے لئے وہ ساری زندگی اس گھر میں رہنے کو تیار تھی اور یہ تو پھر پورا گلدستہ تھا۔ اُس نے ہاتھ بڑھا کر گلدستہ اُٹھا لیا اور  اپنے چہرے تک لا کر اُس کی خوشبو سےمحظوظ ہونے لگی۔ اتنے میں  اُس کی نظر میز پر رکھے ایک خوبصورت کارڈ پر پڑی  جس پر جلّی حرفوں میں  'ہیپی   مدرز ڈے'  لکھا ہوا تھا۔ کارڈ تھامتے ہی اُس کی مُسکان  چند لمحوں کے لئے معدوم ہوگئی مگر پھر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ آج وہ اُس گھر میں تھی جس میں رہنےکی وہ بچپن سے منتظر تھی۔
 چھوٹے چھوٹےٹِن کے چھتوں والے  گھروں پر مشتمل ایک محلّہ جس کی چھتوں کی دراروں سے سورج کی کرنیں چھن چھن کرتی پورے گھر کو چمکاتی رہتی  اور برسات میں کچّی زمین کو جل تھل کرتی تھی ،میں   نچلے درجے کی آبادی اپنی زندگی  گزارنے پر مجبور  تھی۔ شام ہوتے ہی  ہر گھر سے ننگ دھرنگ بچّے نکل کر گلی میں کھیلتے نظر آتے تھے اور اُن کے ساتھ ماریا بھی نکل آتی تھی ۔ماریا  اس  محلّے کی سب سے صاف ستھری اور سلجھی ہوئی بچّی تھی۔ اُس کے والد ایک اسکول میں چپراسی  تھے  اور اُن کی کوششوں سے ماریا کو بھی ان ہی کے اسکول میں بغیر فیس کے داخلہ مل  گیا تھا اس لئے وہ  ایک اچھے  اسکول میں  تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ اس کے برعکس محلّے کے زیادہ تر لوگ سڑکوں کی صفائی یا  پھر  مزدوری کرتے تھے اور اس قابل نہ تھے کہ اپنے بچّوں کو تعلیم دلوا سکے۔تعلیم نے  ماریا کو  محلّے کے دوسرے بچّوں سے ممتازکردیا تھا۔چونکہ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی اس لئے اُسے محلّے کےبچّوں کے ساتھ ہی کھیلنا پرتا تھا۔ گلی میں کھیلتے ہوئے بھی وہ بچّوں کے درمیان نمایاں  نظر آتی ۔اس میں اُس کی والدہ کی سُلجھی طبیعت کا بھی ہاتھ تھا ۔ وہ محلّے کی دوسری خواتین کی طرح لوگوں کے گھروں میں کام کرنے نہ جاتی تھی بلکہ کپڑے سینے کا ہنر جانتی تھی اس لئے ماریا کے والد کے اسکول کے اساتزہ   اُنھیں کپڑےسینے  بھجوا دیتے  تھے ۔ اکژ بچے ہوئے کپڑوں  کو جوڑ کروہ  ماریا کے لئے خوبصورت فراک سی دیتی تھی۔ جس سے ماریا    محلّے کے تمام بچّوں میں منفرد نظر آتی تھی۔
چھوٹے چھوٹے گھروں پر مشتمل اس گلی کے  اختتام  پر ایک دو منزلہ پکّی چھت والی   عمارت بھی موجود تھی۔ جہاں سے کبھی کوئی بچّہ باہر نکلتے نہیں دیکھا گیا تھا لیکن ہر اتوار کو گلی میں کھیلنے والے تمام بچّے اس گھر کے دروازے کے آگے جمع ہو جاتے تھے کیونکہ اس گھر سے تھیلیوں میں بھر کر کھانے کی چیزیں بانٹی جاتی تھی اور محلّے کے تمام گھروں میں پہنچائی جاتی تھی اور یہ کام گلی میں کھیلنے والے بچّے ہی انجام دیتے تھے۔ ماریا بھی ان بچّوں میں شامل ہوتی تھی  اور اچھے اچھے کھانے لیتے ہوئے اُس کا جی چاہتا کہ وہ اس گھر میں رہنے چلی جائے  کیونکہ اُس  گھر میں  گلاب کے بہت سے پودے لگے ہوئے تھے جن کی خوشبو سے سارا محلّہ مہکتا تھا اور گلاب ماریا  کو بے انتہا پسند تھے۔ ماریا نے  اپنی اس خواہش کا ذکر کئی بار اپنی ماں سے کیا تھا اور خوب ڈانٹ کھائی تھی۔ 
اس محلّے میں کھیلتے ہوئے ماریا کا بچپن تمام ہوا اور اُس نےتعلیم مکمل کر کے اپنے ہی اسکول میں ملازمت حاصل کر لی۔ اب ان کا گھر بھی محلّے کے باقی گھروں سے بہت بہتر ہوگیا تھا مگر گلی کے آخر میں بنےہوئے اُس گھرمیں جانے کی خواہش اُس کے دل میں اب بھی تھی جسے اُس نے بچپن سے ہی خوشبو والا گھر کہنا شروع کر دیا تھا ۔ حالانکہ اب کئی سالوں سے اُس گھر سے کھانا نہیں بانٹا جاتا تھا بلکہ محلّے کے گھروں میں جو کچھ بھی پکتا وہ اُس گھر میں رہنے والوں کے لئے لے جاتے تھے۔ وہ گھر تو ویسا ہی تھا مگر اُس کے مکین بدل گئے تھے اور اب جو وہاں رہتے تھے وہ محلّے کے لوگوں سے بھی زیادہ ضرورت مند تھے۔ پہلے پہل تو ماریا کو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ ایسا کیوں ہوا لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ اُس نے جان لیا کہ مکان وہیں رہ جاتے ہیں لیکن مکین جہان سے گزر جاتے ہیں۔جیسے اُس کے والد اُسے اکیلا چھوڑ کر چل بسے تھے۔
والد کی وفات کےبعد ماریا کی والدہ نے بہت کوشش کی کہ ماریا شادی کرلے لیکن ماریا اپنی ماں کو اکیلا چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اس بات کو لے کر آئے دن دونوں میں بحث ہوتی رہتی۔جوزف کا رشتہ ماریا کے لئے آیا تو اُس کی ماں کی اُمید جاگ اُٹھی کیونکہ وہ ماریا کے بہترین دوستوں میں سے تھا اور ماریا اُسے پسند بھی کرتی تھی۔ماں نے بڑی اُمید سے ماریا سے کہا!
"ماریا   جوزف بہت اچھا لڑکا ہے ۔پڑھا لکھا بھی ہے اور اچھی ملازمت بھی ہے۔ ہم جیسے  غریب لوگوں کو  ایسے رشتے مقدر سے ملتے ہیں انھیں کھونا نہیں چاہئے۔"
"نہیں ماں!آپ نے یہ سوچا بھی کیسے کہ میں آپ کو چھوڑ کر چلی جاؤں گی۔ آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ جوزف نوکری کے لئے   ملک سے باہر  جا رہا ہے۔ مجھے بھی اُس کے ساتھ جانا پرے گا پھر آپ اکیلے کیسے رہے گی۔ " ماریا  اپنی ضد پر قائم تھی۔
" تو ایسا کرو مجھے اُس خوشبو  والے گھر میں چھوڑ آؤ میں وہاں آرام سے رہوں گی۔" یہ سنتے ہی ماریا کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے وہ کبھی خواب میں بھی نہیں  سوچ سکتی  تھی کہ وہ اپنی بیمار ماں کو اُس گھر میں چھوڑ کر شادی کرکے دوسرے مُلک  جا بسے۔
"نہیں میں ایسا نہیں کر سکتی میں آپ کے ہی پاس رہوں گی اور آپ فکر نہ کریں اگر یہیں کوئی مناسب رشتہ مل گیا تو شادی بھی کر لوں گی۔" ماریا نے اپنے اور اپنی ماں کے آنسو پونچھے اور مسکراتےہوئے اپنی ماں کو دلاسا دیا۔ 
ماں کو بیماری ہی ایسی لگی جو اُس کی جان لے کر گئی اور ماریا اس دنیا میں بلکل  تنہارہ گئی۔ جب تک اسکول میں پڑھاتی رہی اُس کا وقت گزرتا رہا لیکن ریٹائر منٹ کےبعد اُسے اس گھر میں اکیلے وقت گزارنا بہت مشکل لگنے لگا۔ ماریا نے  وقت گزاری کے لئے خوشبو  والے گھر میں جانا شروع کردیا  جہاں اُس جیسے تنہائی کے مارے بہت سے لوگ موجود تھے۔وہ اُن کے ساتھ رہتی ، اُن کے کام کرتی ، اُن کے ساتھ تفریح کرتی ،اُن کی باتیں سنتی اور پھر رات گئے گھر لوٹ آتی۔ ماریا کو وہاں رہنے والوں کی حالت  دیکھ کر بہت دُکھ ہوتا تھا۔ وہ تنہائی کے کرب سے واقف تھی لیکن اُس کے صبر کے لئے یہی کافی تھا کہ اُس کا کوئی اپنا اس دنیا میں موجود  نہیں ہے مگر وہاں بسنے والے لوگوں کے تواُن کے اپنے اس تنہائی کے اندھیرے غار میں دھکیل گئے تھے۔وہ اُن کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتی تھی مگر اُس کی پینشن  صرف اُس کی ضرورتوں کو پورا کر پاتی  تھی  وہ اتنی نہ تھی کہ وہ  اس سے کسی کی مدد کر سکتی۔
 ماریا کا دل اب گھر میں بلکل نہیں لگتا تھا۔ دن میں تو اُس کا وقت  خوشبو والے  گھر میں اچھا خاصا گزر جاتا تھا  مگر رات ہوتے ہی  گھر کی ہر چیز اُسے ماں کی یاد دلاتی تھی۔ رات کو سوتے میں اُسے ماں کی آواز سُنائی دیتی جیسے وہ پکار رہی ہو ۔ آخر کار اُس نے ایک اہم فیصلہ کیا اور اپنا گھر کرائے پر دے کر خود بھی  خوشبو والے گھر میں رہنے چلی گئی۔
گلاب کے پودوں کے درمیان بسے اس گھر میں ہر طرف خوشبو ہی خوشبو تھی جو صرف پھولوں کی خوشبو نہ تھی بلکہ اُس محبت اور احساس کی خوشبو بھی  تھی جو وہاں رہنے والوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے تھا۔ پھولوں کا گلدستہ ہاتھ میں لئے ماریا نے  کارڈ کو ایک بار پھر سے دیکھا اور اُن حسین لمحوں کا انتظار کرنے لگی جب نہ صرف محلّے کے بلکہ شہر کے بہت سے بچّے آج اس گھر میں بہت سے تحائف کے ساتھ آئے گے اور اُسے ماں نہ ہوتے ہوئے بھی ماں ہونے کاحسیں  احساس بخشے گے۔ وہ ایک دارلسکون میں موجود تھی، دارالسکون یعنی ایسا گھر جہاں سکون میسر ہو،  جو اُس کی گلی کے  اختتام پر بنے اُس گھر میں بنایا گیا تھا جسے وہ خوشبو والا گھر کہتی تھی اور   جس کے مکیں بے اولاد تھے اور موت  کے بعد اس گھر کو دارلسکون کے لئے وقف کر گئے تھے۔

نوٹ: یہ افسانہ فیس بُک کے اُردو افسانہ گروپ کے ایک ایوینٹ 'اکیسویں صدی کے افسانے' میں شامل ہوا جس کا لنک ذیل میں درج ہے۔


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

منگل، 30 جون، 2015

خدارا والدین کو وقت دیجئے، جو آپ پر اُن کا قرض ہے



جب ہمارے والدین ضعیف ہوجاتے ہیں تو بلکل ویسے ہی ہوجاتے ہیں جیسے ہم بچپن میں ہوا کرتے تھے۔ جب بھوک لگے کھانا مانگنے لگے، جب جی چاہا سوجائیں، اور جب دل کیا باہر جانے کی ضد کی۔ جب بچّے ایسی ضدیں کرتے ہیں تو والدین اپنی تمام تر مصروفیات کو ترک کرکے اپنے بچّوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ رات میں نہ جانے کتنی بار ماں اور باپ دونوں اُٹھ کر اپنے بچّے کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ جب بچّہ بیمار ہو تو والدین اُس کی تندرستی اور صحت کے لئے نہ دن دیکھتے ہیں نہ رات، وہ یہ نہیں سوچتے کے اتنی رات تک کیوں جاگوں صبح تو آفس بھی جانا ہے۔ جب بچّے سیر کو جانے کی ضد کرتے ہیں تو والدین نہیں سوچتے کہ ایک دن تو چھٹی کا ملا ہے کیوں نہ آرام کروں یا اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزاروں بلکہ وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اپنے بچّوں کے ساتھ چھٹی کا دن گزاریں، اور اِس سے بڑھ کر اُن کے لئے کوئی خوشی نہیں ہوتی۔
لیکن جب یہی والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں جنہوں نے اپنی حیثیت کے مطابق اپنی اولاد کو دنیا کی تمام تر نعمتوں سے مالا مال کیا، اچھی تعلیم  دلائی جس کی وجہ سے آج بچّہ ایک اعلیٰ مقام پر فائز ہے اور اتنا مصروف ہے کہ اُسے اب یہ دیکھنے کا وقت بھی نہیں کہ والدین کس حال  میں ہیں؟ اُسے اپنے دوستوں میں وقت گزارنا زیادہ اچھا لگتا ہے، اپنی مرضی سے اپنے وقت پر کھانا اور سونا اچھا لگتا ہے۔ یہ خیال نہیں آتا کہ کم از کم دن میں ایک وقت رات کا کھانا ہی ساتھ بیٹھ کر کھا لیا جائے۔ والدین کے سونے سے پہلے گھر آیا جائے تاکہ کچھ دیر اُن کے ساتھ وقت گزارا جائے اور کبھی کسی چھٹی کے دن اُنھیں بھی ساتھ لے کر جایا جائے۔
اکثر والدین اپنے بچّوں کی شکایت نہیں کرتے اور اپنے آپ کو بچّوں اور اُن کے بچّوں کے وقت کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی کبھی شکایت کر بیٹھے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ والدین اُن کی ترقّی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور اُنھیں آزادی میسر نہیں ہیں۔ ایسے وقت میں وہی والدین جنہوں نے اپنی ساری حیات اپنے بچّوں کے لئے تیاگ دی وہ اب اُن پر بوجھ بن جاتے ہیں اور وہ اُنہیں دارالسکون میں غیروں کے حوالے کر آتے ہیں۔ کچھ کو پاگل یا نفسیاتی مریض قرار دے دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنا حق نہ ملنے پر بچّوں کی طرح لڑنے اور جھگڑنے لگتے ہیں یا پھر رونے لگتے ہیں۔ وہ نفسیاتی مریض نہیں ہوتے ہیں لیکن جب اُنھیں اِس طرح غیروں میں چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ ضرور نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔
دارالسکون سے مراد ایک ایسا گھر ہے جس میں ہم سکون کی زندگی بسر کر سکتے ہیں اور یقیناً وہ گھر سب اپنوں سے مل کر ہی بنتا ہے لیکن اب یہ ایسا گھر بن چکا ہے جہاں بزرگوں کو رکھا جاتا ہے۔ پہلے تو مشرق میں دارالسکون کے نام سے کوئی واقف نہ تھا لیکن اب ہر ملک اور شہر میں ایسے گھر آباد ہوچکے ہیں۔ بہت سی این جی اوز اور نوجوانوں کے ٹولے یہاں آتے ہیں اور تمام تہوار منائے جاتے ہیں چاہے وہ ایسٹر ہو، ہولی ہو یا عید، ویلنٹائن ڈے یا پھر مدرز ڈے ہو۔ مختلف لوگ آکر مختلف قسم کی سرگرمیوں کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو اکیلے پن سے نجات دلائی جا سکے۔ لیکن اگر یہاں کوئی نہیں ہوتا تو اُن کی اپنی اولادیں جن کی خوشیوں کے لیے اُنہوں نے کیا کچھ نہیں کیا ہوتا۔
بوڑھے افراد کو بھی زندگی کو بھرپور طریقے سے جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ہم لوگوں کو لیکن فرق صرف یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی  زندگی میں یہ خوشیاں خود سے لانے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہیں۔ وہ عمر کے ساتھ اپنی خود اعتمادی کھو بیٹھتے ہیں اور کچھ بھی کرنے سے گھبراتے ہیں۔ اُنھیں ہر قدم پر ہماری اُسی طرح ضرورت ہوتی ہے جیسے بچپن میں ہمیں اُن کی ضرورت ہوتی تھی۔ وہ ہم سے کچھ نہیں مانگتے ہیں سوائے تھوڑا سا وقت اور پیار کے دو بول درکار ہوتے ہیں خوش رہنے کے لئے۔
کیا آپ کے گھر میں آپ کے والدین آپ کے ساتھ رہتے ہیں؟ کیا آپ اُنھیں اپنا وقت دیتے ہیں؟ اگر نہیں تو جائیے اور اپنے والدین کو وہ وقت دیجئے جو آپ پر اُن کا قرض ہے۔

ثمینہ طارق

نوٹ:میرا یہ بلاگ ۲۰ جون ۲۰۱۵ کو روز نامہ ایکسپریس میں مندرجہ ذیل لنک پر شائع ہوا ہے۔ اس بلاگ کو آپ پہلے میرے اس بلاگ پر دارالسکون کے نام  سے پڑھ چکے ہیں ۔ روزنامہ ایکسپریس میں شائع کرنے کے لئے لفظوں کی مقررہ تعداد میں بلاگ لکھنا لازمی ہوتا ہے اس لئے اسے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ لکھا گیا۔

جمعرات، 18 جون، 2015

تھیلیسیمیا


۸  مئی کو دنیا بھر میں تھیلیسیمیا  سے آگاہی کا دن منایا گیا ۔ اس دن کو منانے کا مقصد تھیلیسیمیا سے متعلق لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں مجھے بچّوں کے کینسر ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا  وہاں بھی تھیلیسیمیا کا ایک الگ وارڈ موجود تھا کیونکہ یہ بیماری بچّوں میں پائی جاتی ہے۔ اس سے آگاہی کے لئے  آگہی (افسانہ)لکھا جو میں یہاں پوسٹ کر چکی ہوں لیکن تھیلیسمیا سے متعلق مکمل معلومات اس مضمون میں لکھنے کی کوشش کروں گی۔ میں سائنس کی کسی فیلڈ سے تعلق نہیں رکھتی اس لئے معلومات جن ویب سائٹ سے لی گئی ہے اُس کے ریفرینس آخر میں درج کردئے جائے گے۔
 تھیلیسمیا کیا ہے؟ کیوں اور کب ہوتا ہے؟ کیسے اور کسے ہوتا ہے؟ اس کی احتیاط اور علاج کیسے ہو؟ اس کے خاندان بھر پر کیا اثرات ہوتے ہیں ؟ ہم اس کی آگاہی کے لئے کیا اقدام اُٹھا سکتے ہیں؟  اور سب سے اہم بات کہ ہم اس سے متاثرہ خاندان کی مدد کس طرح کر سکتے ہیں۔یہ چند اہم  باتیں ہیں  جسے ذیل میں  جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔


 تھیلیسیمیا کیا ہے؟



تھیلیسیمیا خون کی ایک موروثی جنیاتی بیماری ہے جو والدین کے ذریعے اولاد میں منتقل ہوتی ہیں اور اس کی وجہ سے خون کے سرخ خلیوں کی وافر مقدار میں  ٹوٹ پھوٹ کے باعث خون کی شدید کمی ہو جاتی ہے اور ایسے مریض کو تا حیات خون کی تبدیلی کی ضرورت رہتی ہے اور ہر ۷ سے ۱۰ روز بعد خون لگوانا پرتا ہے۔ ایسے مریض کے جسم میں خون کے سُرخ خلیے بہت کم مقدار میں بنتے ہیں اور  اُس کا ہیموگلوبن بھی ایک نارمل انسان کی بنسبت بہت کم ہوتا ہے ۔ ہیموگلوبن خون کے سُرخ خلیوں  میں پایا جانے والا وہ پروٹین ہے جس کے ذریعے ہمارے جسم کو آکسیجن کی فراہمی ہوتی ہے۔
جنیاتی طور پر تھیلیسیمیا کی دو بنیادی اقسام ہیں :
·       الفا تھیلیسیمیا
·       بیٹا تھیلیسیمیا
الفا تھیلیسیمیا مریضوں  میں ہیموگلوبین کی الفا زنجیر کم بنتی ہےجبکہ بیٹا تھیلیسیمیا مریضوں  میں ہیموگلوبین کی بیٹا زنجیر کم بنتی ہے۔۔ اس طرح خون کی کمی واقع ہوتی ہے۔
جب کہ مرض کی شدت کےحساب سے تھیلیسمیا کی تین بنیادی اقسام ہیں:
·       مائنر تھیلیسیما
·       انٹرمیڈیا تھیلیسیمیا
·       میجر تھیلیسیما
تھیلیسمیا کی شدید ترین قسم " میجر " کہلاتی ہیں، درمیانی کیفیت 'انٹر میڈیا" جبکہ  کم  شدت والی قسم "مائنر " کہلاتی ہیں۔ ایک قسم کا تھیلیسمیا کبھی بھی کسی دوسری قسم میں تبدیل نہیں ہوتا ہے۔

کیوں اور کیسے ہوتا ہے؟

یہ چونکہ موروثی بیماری ہے اس لئے یہ والدین سےاولاد میں منتقل ہوتی ہیں ۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک بھی تھیلیسیمیا کا مریض ہو تو اُن کے ۵۰٪ بچّے تھیلیسیمیا کا شکار ہونگے جبکہ اگر والدین میں سے کوئی بھی اس بیماری کا شکار نہ ہو تو تمام بچّے اس بیماری سے محفوط ہونگے۔ لیکن اس کا سب سے زیادہ خطرہ اُن بچّوں کو ہیں جن کے دونوں والدین میں یہ مرض پایا جاتا ہے۔ اگر دونوں والدین اس مرض کا شکار ہے تو ان کے ٪۲۵ فیصد بچّے نارمل جبکہ ۵۰٪بچّے تھیلیسیمیا مائنر اور ۲۵٪ بچّے تھیلیسیما میجر کا شکار ہونگے۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک بھی تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہو تو تمام بچّے اس بیماری کا شکار ہونگے اور اگر دونوں ہی والدین اس بیماری کا شکار ہے تو تمام بچّے تھیلیسیما میجر کا شکار ہونگے۔




تھیلیسیمیا مائنر اور میجر کےاثرات:
تھیلیسیمیا مائنر کے مریض کو عام طور پر کوئی شکایت نہیں ہوتی وہ ایک نارمل زندگی بسر کرتے ہیں اور اکثر اُنھیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہو ایک ایسی بیماری کو ساتھ لئے چل رہے ہیں جو اپنی اولاد کو منتقل کر سکتے ہیں۔ اس مرض میں مبتلا حاملہ خواتین خون کی شدید کمی کا شکار ہوتی ہے۔
تھیلیسیمامیجرصرف اُس صورت میں ہوتا ہے جب دونوں والدین اس بیماری کا کسی نہ کسی طرح شکار ہو۔ ایسے بچّے خون کی شدید کمی کا شکار ہوتے ہیں اور اُنھیں ہار دو ہفتے بعد خون کی بوتل چڑھانی پرتی ہےجس کے باعث وہ کمزوری کے ساتھ ساتھ بہت سی دوسری بیماریوں کا شکار بھی ہو جاتے ہیں اور اپنی زندگی  کو نارمل انداز میں نہیں گزار پاتے ہیں جس کے باعث خود اعتمادی سے محروم ہوتے ہیں اور ہر وقت کشمکش کا شکار رہتے ہیں۔ نہ کھیل کود میں حصّہ لے سکتے ہیں نہ ہی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ عام طور پر اس بیماری میں انسان ۳۰ سے ۴۰ سال کی عمر تک زندہ رہتا ہے لیکن پاکستان میں یہ افراد بمشکل ۱۰ سال کی عمر کو پہنچتے ہیں۔ اگر تھیلیسیمامیجر کے بالغ افراد شادی کریں تو اُٗن کی تمام اولاد اس مرض کا شکار ہوگی ۔

تھیلیسیما کے مرض کی عام نشانیاں:
·       منہ کی ہڈی کی معزوری
·       تھکاوٹ
·       سست نمو
·       دیر سے بالغ ہونا
·       سانس کی کمی
·       جلد کا یرقان
·       کمزوری
·       پیٹ میں سوجن
·       بھوک کا کم لگنا
·       اعضاء کا بڑا ہونا مثلاً   تلّی ، جگر اور دل
·       ہاتھ پاؤں سرد ہونا
·       ہڈیوں کا کمزور ہونا
·       انفیکشن ہونا

تھیلیسیمیا کی تشخیص:
عام طور پر تھیلیسیمیا کی تشخیص ایک عام سے خون کے ٹیسٹ سے کی جاسکتی ہیں۔ اگر تو اوپر موجود کسی بھی ایک  نشانی کو اپنے بچّوں میں پائے تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کیجئے ۔ ڈاکٹر خون کے ٹیسٹ اور ضرورت پرنے پر دوسرے ٹیسٹ بھی کروا سکتے ہیں جس میں تلّی کے بڑھنے کا ٹیسٹ بھی شامل ہے یہ بیماری کی نوعیت اور شدت پر منحصر ہے۔ 

احتیاطی تدابیر:
تھیلیسیمیا میجر چونکہ ایک موروثی بیماری ہے جو کہ والدین سے بچّوں میں منتقل ہوتی ہیں اور اس کا کوئی واضح علاج میسر نہیں ہے بلکہ  یہ ایک جان لیوا بیماری ہےتو بہتر یہ ہے کہ اس کی تشخیص پہلے سے کروالی جائے ۔  اگر تو شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں اپنے خون کے ٹیسٹ کروالیں تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ تھیلیسمیا کے شکار ہےیا نہیں اگر تو ایک فرد صرف تھیلیسمیا مائنر کا بھی شکار ہے تو اُسے ایسے فرد سے شادی کرنی ہوگی جو کہ اس میں مبتلا نہ ہو تاکہ یہ  مرض اولاد میں منتقل نہ ہو۔ اس کے علاوہ ایسے افراد اپنے خاندان میں شادی سے گریز کریں کیونکہ اسطرح دونوں افراد تھیلیسمیا مائنر بھی ہوئے تو اولاد میجر کا شکار ہوگی۔


علاج:
تھیلیسیما کا علاج اس مرض کی نوعیت اور سختی پر منحصر ہے جو ایک ڈاکٹر مکمل تشخیص کے بعد تجویز کرتا ہے۔
  عام طور پر اس کے علاج میں مندرجہ ذیل جیزیں شامل ہیں:
·       خون کی منتقلی
·       ہڈی کے گودے کی پیوندکاری
·       ادویات
·       تلی اور/یا پتّے  کو ہٹانے کے لیے ممکن سرجری

تھیلیسیما کے اثرات:
·       تھیلیسیما کے مرض میں مبتلا افراد روزانہ کی بنیاد پر موت سے لڑتے رہتے ہیں۔ خون کی منتقلی اُن کو مزید بیماریوں  کا شکار کرتی ہے جس  کے خلاف اُن میں قوتِ مدافعت نہیں ہوتی  ۔
·       اس کے علاوہ کمزوری  کو باعث وہ کسی بھی قسم کی سرگرمی میں حصّہ لینے سے محروم ہوتے ہیں اور اپنی خود اعتمادی اور زندگی سے اعتبار کھو بیٹھتے ہیں۔
·       مریض کے علاوہ خاندان بھر پر بھی اس کے مضر معاشی اور سماجی اثرات ہوتے ہیں۔
·       معاشی طور پر ایسے بچّے کے والدین بہت ہی پریشان کُن حالات کا شکار رہتے ہیں اور ادویات اور خون کی فراہمی کے لئے دوسروں کی مدد کے طالب رہتے ہیں۔
·       اگر تو نوبت سرجری تک آجائے تو پھر والدین کے لئے اور بھی مشکلات کھڑی ہوتی ہیں اور وہ مدد کی تلاش میں رہتے ہیں کیونکہ سرجری بہت مہنگی ہوتی ہیں جو ہر ایک کے بس میں نہیں ہوتی۔
·       ہڈیوں کے گودےکی تبدیلی کے لئے کسی نہ کسی بہن یا بھائی کا گودا میسر ہونا ضروری ہے ۔ اس صورت میں وہ بہن یا بھائی بھی سرجری کے عمل سے گزرتا ہے۔ یہ صورتِ حال تمام گھر والوں کے لئے نہ صرف پریشان کن بلکہ مایوس کن بھی ہوتی ہے۔
·       ایسے بچّے کو علاج کے علاوہ بھی مسلسل توجّہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ والدین اپنا زیادہ وقت ایسے بچّوں کے ساتھ گزارتے ہیں جس کے باعث اُس کے دوسرے بہن بھائی عدم توجّہ کا شکار ہو کر نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
·       ایسے خاندان معاشی طور پر غیر مستحکم ہوتے ہیں اور اپنی روزمرّہ کی ضروریات پوری کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے ۔


تھیلیسیما کےلئے ہمارا کردار:
ایک تخمینے کے  مطابق پاکستان میں یہ بیماری ۹۰ ہزار افراد میں پائی جاتی ہے۔ ۶ فیصد آبادی میں یہ بیماری بطور تھیلیسیمیا مائنر کے پائی جاتی ہے۔ اس سے بچاؤ کا واحد ذریعہ آگاہی ہے۔ اس کی آگاہی کے سلسلے میں ہم کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ 
·       تھیلیسیمیا سےمتعلق آگاہی مہم میں شامل ہو ۔ اس کے لئے اپنے سوشل میڈیا ٹویٹر ، فیس بک، گوگل پلس اور تمام اپلیکیشنس کا استعمال کریں اور اس کے ٹیسٹ سے متعلق آگاہی فراہم کریں۔
·       سب سے پہلے اپنا ٹیسٹ کروائے اور پھر اپنے گھر والوں ، دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی اس سے متعلق آگاہی فراہم کریں۔
·       تھیلیسمیا کی طرف ہمارا سب سے اہم کام یا کردار خون کا عطیہ ہے۔ چونکہ سائنس اتنی ترقی کے باوجود اب تک خون کا کوئی نعم البدل نہیں مہیا کر پائی ہے اس لئے اس بیماری سے لڑنے والوں کے لئے ہم صرف اپنے خون کا عطیہ دے کر مدد کر سکتے ہیں۔ رمضان مبارک قریب ہے اور ہم اپنے  زکواۃ  کے فرض کو پورا کرنے کی کوشش میں ہیں لیکن خون کا عطیہ آپ کے جسم کی زکواۃ ہے جو کبھی بھی دی جاسکتی ہے۔
·       کسی بھی تھیلیسیمیا فاؤنڈیشن کے ممبر بن کر ایک بچّے کو ایڈاپٹ کر سکتے ہیں۔چونکہ ایک انسان ہر تین  ماہ بعد خون کا عطیہ دے سکتا ہے تو اگر آپ ۱۲دوست مل کر ایک بچّے کے خون کی ذمہّ داری قبول کر لے تو ایک سال تک اُسے خون دیا جا سکتا ہے۔ 
·       تھیلیسیمیا کے مریضوں کے والدین کی ہر ممکن معاشی اور سماجی مدد میں حصّہ لیا جائے۔ اُن کی معاشی مدد کے ساتھ اُن کے ساتھ تھوڑا وقت گزار ا جائے تاکہ وہ اپنی مشکلات سے لڑنےکے قابل ہو سکے۔
·       تھیلیسیمیا کے مریض بچّوں کی تعلیم کا خرچ  اُٹھایا جا سکتا ہے اور ساتھ اُن کے بھائی بہنوں  کا خرچ کا بھی کسی طرح انتطام کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی اُن کےلئے روزمرّہ کی اشیاء کا انتظام کیا جائے تاکہ  وہ زندگی کی نعمتوں سے محرومی کا شکار نہ ہو۔
·       تھیلیسیمیا کے بچّوں اور اُن کے والدین کے لئے تفریح اور معاشرتی ہم آہنگی کا موقع فراہم کرنا۔




ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

تصاویر: گوگل اور فیس بُک
ریفرینسز :









جمعرات، 11 جون، 2015

جناب تارڑ صاحب کے لئے دعا کی درخواست

اسلامُ علیکم
آپ تمام لوگوں سے  جناب مستنصر حسین تارڑ صاحب کے لئے دعا کی درخواست کی جاتی ہے۔ پچھلے دنوں وہ ایک بڑے آپریشن سے گزرے ہیں اور اب دوبارہ ایک آپریشن سے گزرنے والے ہیں ۔  اللہ اُنھیں  اپنی حفظ و اماں میں رکھے اور جلد از جلد مکمل صحتیابی  عطا فرمائے اور تندرستی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے ۔ آمین!


We are requesting prayers for our beloved Mustansar Hussain Tarar for his speedy and complete recovery. He recently underwent a major surgery and is undergoing another one. Our humble request for Duas and prayers. 
Regards, 
Tarar Family
(Copied from Official Face book Page)
May ALLAH grant him good health and a speedy recovery...aameen




منگل، 2 جون، 2015

آگہی (افسانہ)

مئی کی چلچلاتی دھوپ میں میلوں بس کا سفر طے کرکے آنا اور پھر مسلسل گھنٹی بجانے پر کسی کا دروازہ نہ کھولنا اسے کوفت میں مبتلا کر رہا تھا۔ وہ پچھلے دس منٹ سے وقفوں وقفوں سے گھنٹی بجا رہی تھی لیکن جواب ندارد ۔ شدید گرمی کی وجہ سے اُس کے اوسان خطا ہو رہے تھے ۔آخر کار اُس نے تنگ آکر اپنا ہاتھ گھنٹی پر ہی جما دیا اور اب گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔ چند ہی لمحوں میں اُسے سارہ کی آواز سُنائی دی 
"
اُف کون ہے بھئی ؟ کیوں مسلسل گھنٹی بجائے جا رہے ہیں؟ اتنی کیا جلدی پڑی ہے دروازے تک تو آنے دیں۔" باہر کھڑی سبین پر سارہ کی آواز سنتے ہی پر مزید کوفت طاری ہونے لگی۔ 
سارہ کی موجودگی ہمیشہ کسی نہ کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی تھی اور آج تو سبین کا کسی بھی مصیبت کو جھیلنے کا زرّہ برابر موڈ نہ تھا۔ سبین نے اسی سال ایم فل مکمل کیا تھا اور اب پی ایچ ڈی کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی میں پڑھا بھی رہی تھی۔ سارا دن یونیورسٹی میں سر کھپانے کے بعد اُس کا دل کرتا کہ جیسے ہی گھر پہنچے فوراً بستر پر جائے اور تھوڑا آرام کرنے کے بعد اپنے اگلے روز کے لیکچر پر کام کرے۔ لیکن سارہ کی موجودگی ظاہر کر رہی تھی کہ اُس کی ساری  پلاننگ دھری کی دھری رہ جانے والی ہے۔ 
"
آپا میں ہوں سبین دروازہ کھولیں"۔ سبین نے نہایت اُکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔
"
ارے لڑکی زرا ٹہر بھی جایا کرو تُم تو گھنٹی پر ہاتھ رکھ کر ہٹانا بھول ہی جاتی ہو۔"سارہ نے دروازہ کھولتے ہی غصّیلی آنکھوں سے سبین کو گھورا۔ 
"
احسن کہاں ہے اُس نے دروازہ کیوں نہیں کھولا؟" سبین نےٹشو پیپر سے اپنے چہرے کو صاف کرتے ہوئے اپنے چھوٹے بھائی کے بارے میں پوچھا۔
"
احسن باہر گیا ہے کچھ سامان لینے۔ آج شام مہمان آرہے ہیں تم جلدی سے کھانا کھا کر تیّار ہو جاؤ۔" سارہ نےسبین کے غصّے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اُسے حکم دیا
"
مہمان؟ پھر سے مہمان؟ آپا آپ جانتی ہے کچھ نہیں ہونے والا پھر یہ سب کیوں کرتی ہیں؟" سبین کی آنکھوں میں نا اُمیدی  جھلک رہی تھی۔ سارہ جانتی تھی کہ اگر سبین  کے ساتھ  زرا بھی سختی برتی تو وہ کسی صورت مہمانوں کے سامنے آنے کو تیّار نہ ہوگی اس لئے اُس نے سبین کو نرم لہجے میں کہا ۔ "تم جانتی ہو کہ امّی تمھاری وجہ سے کتنی پریشان ہے۔ پلیز اس بار ایسا کچھ نہ کرنا کہ وہ لوگ واپس چلے جائے۔ "
سبین کی والدہ رابعہ بیگم  نہایت ہی سلجھی طبعیت کی مالک تھی ۔اُن کی خوش اخلاقی کے باعث نہ صرف خاندان بلکہ محلّے کے سب لوگ بھی اُن کی بہت عزت کرتے تھے۔ شوہر کی وفات کے بعد اُنہوں نے اپنے بچّوں کو کبھی کسی قسم کی محرومی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ بچّوں کی کفالت کی ذمّہ داری اُنہوں نے اسکول میں پڑھا کر پوری کی، ساتھ ساتھ وہ ان کی بہترین دوست بھی تھی۔ بچّے کوئی بات اُن سے کرنے سے نہ گھبراتے تھے۔ سارہ نے بی اے مکمل کیا اور اُس کا رشتہ اُن کی بچپن کی سہیلی نے اپنے بیٹے کے لئے مانگا تو وہ انکار نہ کر سکی کیونکہ لڑکا پڑھا لکھا ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین اخلاق کا مالک بھی تھا اور آج وہ اپنے فیصلے پر پوری طرح مطمئن تھی کیونکہ عادل نے داماد ہونے سے زیادہ ایک بیٹا ہونے کا فرض نبھایا اور ہر اچھے بُرے وقت میں اُن کے لئے ڈھال بن کر کھڑا رہا۔ رابعہ بیگم کو اب صرف سبین کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ 
سبین گندمی رنگ کی ایک کومل سی لڑکی تھی۔ وہ بہت خوبصورت تو نہ تھی مگر اُس کے نین نقش ایسے تھے کہ جو ایک بار دیکھ لے اُس کی نظر بے اختیار اُس کی جانب دوبارہ اُٹھتی تھی۔ سبین کے سیاہ بال اور سیاہ آنکھیں اُسے جازبیت بخشتے تھے۔ جب سے سبین نے بی ایس مکمل کیا تھا تب سے ہی اُس کے رشتے آرہے تھے اور اُن میں کئیں ایک بہت بھلے بھی تھے اور سبین کو پسند بھی آئے۔ لیکن سبین نے بھی ایک ایسی ضد پکڑی ہوئی تھی جو کہ اُس کی شادی میں رکاوٹ کا باعث بن رہی تھی اور یہی بات رابعہ بیگم کو پریشان کئے ہوئے تھی۔ وہ جانتی تھی کہ سبین کی ضد بے جا نہیں ہے ۔ وہ ایک باشعور انسان کی طرح فیصلہ کر رہی ہیں مگر ہر کوئی اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھا۔
سبین فارغ ہو کر کچن میں چلی آئی جہا ں سارہ مہینے بھر کے راشن کو آج کی تاریخ میں ختم کرنے کے موڈ میں نظر آرہی تھی۔ سبین یہ سب دیکھ کر مذید اُلجھن کا شکار ہوگئی وہ اپنے آپ کو ان تمام اخراجات کا ذمّہ دار ٹہرا رہی تھی جس کے بعد کچھ حاصل ہونے کی اُسے قطعئ اُمید نہ تھی۔ "آپا یہ کیا ہے؟ ایسے کونسے خاص لوگ آرہے ہیں جو آپ نے اتنا سب بنا لیا ہے اور پھر احسن کو بھیج کر جو منگوایا ہے وہ کس کھاتے میں ہیں؟ سبین کے لہجے میں پنہاں دُکھ کو سارہ بخوبی محسوس کر چکی تھی مگر اُس کا دھیان بٹانے کےلئے بڑے شگفتہ لہجے میں کہا!
"
آخر کو تمھیں دیکھنے لوگ آرہے ہیں اور وہ بھی کوئی عام لوگ نہیں ہے شہر کے معززین میں شمار ہوتا ہے اُن کا ۔ مسز ارشاد اپنے بیٹے فرحان کے لئے تمھارا رشتہ لے کر آرہی ہے اور تم انہیں اور اُن کی فیملی کو بخوبی جانتی ہو کہ کس قدر رکھ رکھاؤ والے لوگ ہیں۔ میری تو فقط یہ کوشش ہیں کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے اُن کی خاطر داری میں" مسلسل بات کرتےہوئے بھی سارہ کے ہاتھ سموسے تلنے میں مصروف تھے۔ سبین سوچنے لگی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والے لوگ بھی ہمیشہ کی طرح واپس چلے جائے اور وہ اپنے جی جان سے بڑھ کر پیار کرنے والوں کو ایک بار پھر دُکھ کے اندھیر ے غارمیں دھکیل دے۔
آخر کار وہ وقت بھی آ ہی گیا جب مسز ارشاد اپنی گاڑی میں سے اُتر کر اپنی بیٹی انعم اور بیٹے فرحان کے ساتھ اُن کے گھر میں داخل ہوئی۔ سبین نے کھڑکی کی اوٹ سے سب کو گھر میں آتے دیکھا تو اُسے فرحان ایک قبول صورت نوجوان دکھائی دیا۔ سارہ اسے پہلے ہی بتا چکی تھی کہ فرحان نے اُسے پچھلےہفتے اُس کی دوست مریم کی شادی پر دیکھا تھا اور اُسی وقت  اپنی امّی سے سبین کے لئے پسندیدگی کا اظہار کر چکا تھا۔ فرحان کے والد مریم کے والد کے بہترین دوستوں میں سے ہیں اسی لئے مریم کی والدہ نے امّی سے اُن کے آنے کی اجازت لی تھی۔ فرحان نے فائننانس میں ایم بی اے کیا ہوا ہے اور وہ سائنس سے بلکل بھی دلچسپی نہیں رکھتا ہے اس لئے اُس سے سائنسی باتوں کا تزکرہ کرکے اپنے لئے مصیبت نہ مول لیں۔ مگر سبین اسی سوچ میں غلطاں تھی کہ اب وہ کیا کرے؟ فرحان اگر اس بارے میں کوئی معلومات نہیں رکھتا ہے تو یقیناً وہ بھی اور تمام لوگوں کی طرح اُسے بیمار ٹہرا کر اس رشتہ کو ٹھکرا کر چلا جائے گا۔
وہ آگہی کا عذاب جھیل رہی تھی خاموش رہنے سے بھی دکھ ہاتھ آنا تھا اور کہہ دینے سے بھی ۔ وہ ایک عجیب سی کشمکش کا شکار تھی۔
جب بی ایس کے فائنل ائیر میں تھی تب ایک پریکٹیکل کے دوران اُن کے تھیلیسیمیا کے کچھ ٹیسٹ لئے گئے تھے۔ اس ٹیسٹ میں سبین کی رپورٹ مثبت آئی تھی اور اُس پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ تھیلیسیمیا مائنر ہے۔ اب اسے کسی ایسے ہی شخص سے شادی کرنا تھی جس میں تھیلیسیمیا موجود نہ ہو تاکہ ان کی اولاد اس سے محفوظ رہ سکے۔ سبین اس وجہ سے کئی رشتے یا تو خود ٹھکڑا چکی تھی کیونکہ لڑکے والے لڑکے کا خون کا ٹیسٹ کروانے پر راضی نہ ہوتے تھے اور کبھی یہ جان کر انکاری ہو جاتے تھے کہ وہ تھیلیسیمیا مائنر ہے۔ وہ اسے بہت خطرناک بیماری سمجھتے تھے۔ 
سبین کو ایک بار پھر چائے کی ٹرے لے کر سب کے سامنے آنا پرا جو اُسے کبھی بھی نہ بھایا تھا مگر مجبوراً یہ سب کرنا پرتا تھا۔ مسز ارشاد نے سبین کو اپنے پاس ہی بٹھا لیا اور اُس سے پڑھائی کے متعلق پوچھنے لگی اس وقت سارہ کی جان پر بنی ہوئی تھی اور اس کی یہ حالت تھی کہ کاٹو تو خون نہ نکلے۔ وہ خوفزدہ تھی کہ سبین سب کچھ نہ کہہ دے۔ لیکن سبین آج خلافِ معمول خاموش رہی اور صر ف وہی کچھ بتایا جو اُنہوں نے پوچھا۔ فرحان ایسے تو عادل سے باتوں اور ان کے بچوں کے ساتھ شرارتوں میں مشغول تھے لیکن گاہے بگاہے نظر اُٹھا کر سبین کو دیکھتے رہتے تھے جیسے اُس کا ہر انداز نوٹ کر رہے ہو اور سبین کو یہ دیکھ کر الجھن ہور ہی تھی۔ آخر وہ اجازت لے کر اپنے کمرے میں چلی آئی۔تھوری دیر بعد سب چلے گئے۔ 
سبین اپنے کمرے میں بند ہو گئی اور کسی نے اُسے پکارا بھی نہیں کہ تھک گئی ہے آرام کرنے دیں۔ سارہ نے بھی جاتے ہوئے اُسے پریشان کرنا مناسب نہ خیال کیا۔ سبین کے زہن میں ایک شور بپا تھا جو اُسے سکون نہ لینے دے رہا تھا۔ اُسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس شور سے اُس کے دماغ کی نسیں پھٹ جائے گی۔ وہ کوشش کر رہی تھی کہ اس سے نجات حاصل کرے مگراس پر قابو پانا اُس کے لئے دشوار ہو رہا تھا۔ اس کی حالت غیر ہونے لگی اور اُس نے اپنے کانوں کو زور سے داب لیا۔ اب ایک ہی راستہ تھا کہ وہ عادل سے مدد مانگے۔
"
عادل بھائی میں بہت تکلیف میں ہوں ۔بہت شور ہے میرے اندر جس پر قابو پانا میرے اختیار میں نہیں۔" سبین نے عادل کا نمبر ملایا اور روہانسی ہوکر اُس سے اپنی کیفیت بیان کر دی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ صرف وہی ہے جو سمجھ پائے گے۔
"
آگہی کا در کُھل جائے تو اپنے اندر شور تو ہوتا ہی ہے۔ خود کو اس شور میں ڈبو دو لیکن آگہی کا در کھلا رہنے دو۔ اسے بند نہ ہونے دینے ورنہ عذاب کے کئی ایسے در کھلےگے جن پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔" عادل کی بات سن کر سبین پُر سکون ہو گئی۔
"
جی یہ در کھلا ہے تو اب ایسے بند نہیں ہوگا۔ جسے داخل ہونا ہے اسی در سے ہونا ہے اور کوئی راستہ نہیں کسی کے لئے میری زندگی میں داخل ہونے کا۔" سبین کے چہرے پر اطمینان اور ہونٹوں پر بھر پور مسکراہٹ تھی۔
تھوری دیر بعد سبین اپنے سیل فون پر فرحان کا نمبر ملا رہی تھی جو عادل نے اُسے دیا تھا۔ 
"
میں نے آپ کو سب کچھ بتا دیا ہے اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔" سبین نے فرحان کوسب کچھ بتانے کے بعد کہا اور ایک جھٹکے سے فون بند ہونے کی آواز سنائی دی جسے سن کر سبین سُن ہوگئی۔ فرحان کےاس رویےکے بعداب اُسے کہیں بھی اُمید کا کوئی چراغ جلتا نظر نہیں آرہا تھا۔
اس واقعے کو گزرے پندرہ روز ہو چکے تھے اور سبین ہمیشہ کی طرح اسے بھولنے کی ناکام کوشش جاری رکھے ہوئے تھی۔ نہ ہی سارہ اور امّی نے اُس سے اس سلسلے میں کوئی بات کی تھی۔ آج یونیورسٹی سے آکر اُس نے احسن سے کہہ دیا تھا کہ جب تک وہ خود نہ اُٹھے اُسے اُٹھایا نہ جائے کیونکہ مسلسل کلاسس لے کر وہ بہت تھکی ہوئی تھی۔ وہ نہ جانے کب تک سوتی رہی کہ اُس کی آنکھ موبائل کی گھنٹی بجنے پر کھُلی اور اُس نے نمبر دیکھے بنا ہی نیند میں ہیلو کہا۔ 
"
محترمہ آپ نے جاگنا ہے یا ہم آپ کو انگوٹھی پہنائے بغیر ہی واپس چلے جائے؟" فرحان کی چہکتی ہوئی آواز سُن کر وہ پوری طرح سے ہوش و حواس میں آگئ ۔
"
انگوٹھی! کیسی انگوٹھی؟" حیرانی میں اس کے منہ سے صرف یہی نکلا اور اتنے میں اسے آپا کی آواز سنائی دی وہ غصّے سےکہہ رہی تھی "کیا اُٹھتے برابر فون لے کر بیٹھی ہو جلدی سے تیار ہو جاؤ مسز ارشاد آئی ہے ہم نے تمھاری بات پکّی کر دی ہے اور وہ بضد ہے کہ آج ہی انگوٹھی پہنائے گی۔ خوب اچھے سے تیار ہونا میں زرا کچن دیکھ لوں۔اب سبین کے ہوش ٹھکانے آچکے تھے، وہ تیار تو ہو رہی تھی لیکن ایک خوف اب بھی اُس کے ساتھ تھا کہ نہ جانے فرحان نے ٹیسٹ کروایا بھی ہے یا نہیں۔ ۔
جیسے ہی وہ بیٹھک میں داخل ہوئی اُس کی نظر فرحان کی جانب اُٹھی اور دونوں کی نظر ٹکڑا ئی تو سبین نے جاننے کی کوشش کی کہ اُس نے ٹیسٹ کروائے ہیں یا نہیں لیکن فرحان نے فوراً نظر پھیڑ لی۔ تھوڑی دیر میں منگنی کی رسم ادا کر دی گئی اور سبین کی انگلی میں انگوٹھی پہنانے کے ساتھ ہی فرحان نے ایک لفافہ بھی تھما دیا  اور مسکراتے ہوئے کہا " نیگیٹو" اب سبین کے چہرے پر بھی وہی دلکش مسکراہٹ تھی۔
ثمینہ طارق

نوٹ:
یہ افسانہ فیس بک کے گروپ " افسانہ فورم " پر پوسٹ کیا گیا تھا اور اب اساتزہ کی ہدایت کی روشنی میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ اس بلاگ پر پوسٹ کیا جا رہا ہے۔  فیس بک کے گروپ کا لنک ذیل میں درج ہے۔
آگہی

تھیلیسیمیاکے بارے میں اگر آپ نہیں جانتے ہیں تو گوگل پر سرچ کیجئے یا اس بلاگ کو وزٹ کرتے رہئے۔  کچھ روز میں اس بلاگ پر بھی ایک پوسٹ تھیلیسمیاسے متعلق لگائی جائے گی۔

تھیلیسیمیا پر لکھا گیا بلاگ مندرجہ ذیل لنک پر دیکھئے۔
تھیلیسیمیا



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔