Translate

اتوار، 14 جولائی، 2013

سفرشرط ہے!! حصّہ دوئم

اس خوشبو کے سفر میں ساری کائنات ہماری ہم سفر ہے۔شمس و قمر، پہاڑ و میدان، دریا و سمندر،  جنگل و بیاباں ، پھول ، رنگ و خوشبو ،پودے، درخت، پرندے ،بادل، ہوا     غرضدنیا کی ہر شئے۔

جس طرح سفر کے دوران سفر کرنے والے دو لوگوں کا کسی بھی شئے یا مقام کے بارے میں نظریہ مختلف ہوتا ہے -دو اشخاص کسی شئے یا مقام کے بارے میں مختلف اندازمیں سوچتے ہیں کوئی سفر کو صرف اک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے ہی اختیار کرتا ہے تو کوئی سفر کو سیر و تفریح کے طور پر اور کوئی اسے سیکھنے کے عمل سے گزرنے کی خاطر یا شوقیہ  اختیار کرتا ہے- جو لوگ سفر صرف اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ اُنہیں اک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچنا ہوتا ہے وہ سفر کو باریک بینی سے نہیں دیکھتے ، سفر کے دوران آنے والے مقامات کو سرسری طور پر دیکھتے ہیں اور صرف اپنی منزل سے متعلق سوچتے ہیں کہ جلد از جلد اپنے طے شدہ مقام تک پہنچ جائے- جب کہ سیر و تفریح کی خاطر سفر اختیار کرنے والے لوگ ہر شئے اور ہر مقام سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اُن اشیاء یا مقامات کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرتے ہیں اور اس سے محظوظ ہوتے ہیں- وہ لوگ جو سفر کو شوقیہ یا محض سفر کی خاطر اختیار کرتے ہیں  وہ سیاح  کہلاتے ہیں اور وہ کبھی اپنی منزل کے متلاشی نہیں ہوتے ہیں – وہ ہمیشہ سفر میں رہنا پسند کرتے ہیں-ایسے  لوگ ہر مقام اور ہر شئے سے نہ صرف یہ کہ لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ انہیں ان مقامات سے عشق ہو جاتا ہے اور وہ گاہے بگاہے اُن مقامات پر جانے کے لئیے بیتاب رہتے ہیں -وہ ہر نئی جگہ کو کھوجنے کے لئے مضطرب رہتے ہیں -انہیں پھر چاہے کتنی ہی دُشواریوں کا سامنا کیوں نہ کرنا پرے وہ اپنا سفر جاری رکھتے ہیں اور اس سے نہیں گھبراتے-

زندگی کا سفر بھی کچھ اسی طرح ہے ہم سب اک ساتھ زندگی گزارتے ہیں لیکن ہم سب کا زندگی سے متعلق نظریہ مختلف ہوتا ہے- کچھ لوگ زندگی کو صرف آخرت کے لیے اک موقع گردانتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ زندگی کا سفر بخوبی انجام پائے اور وہ آخرت میں سزا سے بچ جائے اور جزا کے مستحق ٹہرے- وہ بڑے نپے تُلے انداز میں زندگی کو گزارتے ہیں- جبکہ کچھ لوگ زندگی سے پوری طرح ے لُطف اندوز ہوتے ہیں اور اپنے اس سفر کے دوران اللہ کی بنائی ہوئی تمام چیزوں سے متاثر تو ہوتے ہیں مگر اُن کی اصلیت کو کھوجنے کی جستجو نہیں رکھتے-وہ ان سے تمام فوائد تو حاصل کرتے ہیں لیکن یہ کوشش نہیں کرتے کہ اس کے بات کو جانے کہ یہ سب سہولیات انسان کو کیوں اور کس مقصد کے لئے عطا کی گئی ہے جبکہ کچھ لوگ مسلسل اس سوچ میں مُبتلا رہتے ہیں کہ کیا ہماری زندگی کا مقصد صرف دنیا کی آسائشات سے لُطف اندوز ہونا ہی ہے ؟ اور یہ سب کچھ انسان کو کیوں اور کس لئے عطا کیا گیا ہے؟ ہم ان تمام نعمتِ خداوندی سے کس طرح فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور  اس کا شکر ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

یعنی کے لوگ زندگی کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں اور اسے بسر کرنے کا طریقہ بھی سب کا مختلف ہوتا ہے- کچھ لوگ شدت سے مزہب پر عمل پیرا ہوتے ہیں جبکہ کچھ مزہب سے یکسر منکر ہوتے ہیں  اور کچھ میانہ روی اختیار رکھتے ہیں وہ دنیا اور مزہب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں- نہ دین کے لئے دنیا کو ترک کرتے ہیں نہ ہی دنیا کے لئے دین کو ترک کرتے ہیں ، یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو کہ دنیا کی ہر شئے میں خدا کے وجود کو تلاشتے ہیں اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ وہ زاتِ پاک ہر جگہ ہر شئے میں موجود ہیں-ایسا سفر اختیار کرنا ہر اک کے لئے ممکن  نہیں ہے آج کے اس تیزرفتار دور میں ہم اکثر اپنی نہایت اہم ضروریات کو بھی فراموش کر جاتے ہیں یا بہت سے قریبی رشتوں کو بھی کھو بیٹھتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہیں کہ ہم ہر کام میں ، ہر مقام پر، یا ہر شئے میں کسی نادیدہ وجود کو تلاشتے رہے-

سفر کے دورا ن انسان کو تھکاوٹ کا احساس بھی ہوتا ہے اور بھوک اور پیاس بھی لگتی ہیں لیکن کوئی بھی شخص سفر کرتے ہوئے اُس وقت تک کھانے یا پینے میں وقت ضائع نہیں کرتا جب تک اُسے شدید بھوک یا پیاس نہ لگے-حالانکہ کھانا اور خاص کر کے پانی انسان کی زندگی کی اہم ضرورت ہیں-تو پھر زندگی کے سفر میں کوئی بھی انسان سچ کی تلاش کا سفر کیسے اختیار کر سکتا ہے جب تک کہ اُسے اس کی پیاس نہ ہو- جو پیاسا ہوتا ہے وہ ہی یہ جستجو کرتا ہے اور جو جستجو رکھتا ہے اُسے ہی اس راہ کا مسافر بنایا جاتا ہے اور وہ بوند بوند کرکے اپنی  روح   کو اس  دریا کے میٹھے پانی سے سیراب کرتا ہے اور ہر بوند کی لزت سے آشنا ہوتا ہے- مگر صرف وہی جو جستجو رکھتا ہے اس سفر کی کٹھن راہوں  سے نہیں گھبراتا اور سفر جاری رکھتا ہے-

سچ کے تلاش کے سفر کی نہ ہی ابتداء انسان کے اختیار میں ہیں اور نہ ہی انتہا –  رب جسے چاہے اس سفر پر لگا دے اور جسے چاہے تھکا دے – اُس کے اِذن کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں- اُسے پانا یا نہ پانا  دور کی بات ہیں لیکن اس سفر کی اپنی ہی ایک لزت ہے اور جو اس لزت سے آشنا  ہو جائے وہ پھر سفر کی کٹھنائیوں سے گھبرا کر سفر منقطع نہیں کرتا بلکہ اس کی خوشبو سے اپنی روح کو معطر کرتا ہے اور سفر جاری رکھتا ہے-


بدھ، 3 جولائی، 2013

سفر شرط ہے!! حصہ اوّل

 زندگی سفر ہے ۔۔۔۔ سفر زندگی ہے۔۔۔

یہ دونوں ہی جملے بارہا کبھی کسی گاڑی کے پیچھے تو کبھی کسی ٹرک یا رکشا کے پیچھے لکھے ہوۓ یا کبھی کسی دیوار یا سائن بورڈ پر لکھے دیکھے ہیں، لیکن جب کبھی ان پر نظر پڑی تو پہلا خیال ذہن میں آیا کہ کیا واقع سفر کرنا کسی کے لئے زندگی ہو سکتا ہے؟ یا زندگی کو کوئی سفر کہ سکتا ہیں؟؟ دیکھا جائے تو دونوں جملوں میں مماثلت پائی جاتی ہیں. چاہے سفر کرنا کسی کے لئے زندگی ہو یا کسی کی زندگی سفر ہو ان دونوں معملات میں دوباتیں مشترک ہیں اور وہ ہے 'تسلسل' اور 'تحرک ' کا پایا جانا-

کسی بھی طرح کے سفر میں تسلسل کا ہونا ایک لازمی جزو ہے- سفر کا تسلسل ہی اسے سفر بناتا ہے اور اس کا اختتام منزل پر ہوتا ہے- جہاں ٹہراؤ آ جاتا ہے اور تسلسل ختم ہو جاتا ہے- اسی طرح ہماری زندگی بھی ایک سفر ہی ہے جس میں تسلسل کا پایا  جانا  ایک اہم جزو  ہے اور اس کا اختتام بھی ٹھہراؤ یعنی موت پر ہے- ہماری زندگی میں تسلسل کے پاے جانے کی واضح مثال ہماری سانسوں کے چلتے رہنےکے عمل سے ملتی ہے- سانس کا جسم میں داخل ہونا اور خارج ہونا ایک مسلسل عمل ہے جس کے باعث ہم زندہ رہتے ہیں اور ہماری سانسوں کے چلتے رہنے کا عمل ہمیں اس تسلسل سے جڑے رہنے پر مجبور کرتا ہے جس کے باعث ہم مسلسل سفر میں رہتے ہیں اور اس طرح ہم زندگی کو سفر کا نام دے سکتے ہیں-

دوسرا جزو 'تحرک' ہے یعنی حرکت میں رہنا- سفر کے دوران ہم مسلسل متحرّک رہتے ہیں چاہے وہ سفر جہاز کا ہو، بس کا ہو یا پیدل ہو، سفر ہمیں متحرّک رکھتا ہے اسی طرح زندگی بھی ہمیں متحرّک رکھتی ہے- انسان جب تک زندہ رہتا ہے کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے وہ اپنے آپ کو حرکت میں رہنے سے روک نہیں پاتا ہے اس کی واضح مثال پلکوں کا جھپکنا اور خیالات کا دماغ میں آنا جانا ہے- یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی زندہ انسان اپنے آپ کو حرکت میں رہنے سے روک پاے، ایک معذور شخص بھی مسلسل اپنی سوچ کے ذریے ہی سہی حرکت میں رہتا ہے. زندگی میں 'تحرک' کا ہونا ضروری ہےجب کہ 'جمود'' موت ہے اسی لئے زندگی بھی سفر ہے-
اس طرح یہ دونوں ہی جملے ایک دوسرے سے جڑے محسوس ہوتے ہیں ایک مسافر کے لئے اگر تو سفر زندگی ہے تو ایک عام انسان کے لئے اس کی زندگی ہی سفر ہے- ایک انسان کے لئے جتنا سانس لینا ضروری ہے اتنا ہی ایک مسافر کے لئے سفر کرنا لازم ہے اور ہم اپنے ارد گرد کے ماحول سے روابط رکھتے ہوے اس سفر کو انجام دیتے ہیں-

سفر کے دوران ایک مسافر مسلسل اپنے ارد گرد کا جائزہ لیتا رہتا ہے اور اپنے اس پاس کے  لوگوں کا مشاہدہ کرتا ہے اسے اور اس سے بہت کچھ سیکھتا ہے اسی طرح ہمارے ذہن میں خیالات کا آنا جانا ہمیں تسلسل سے جڑے رہنے پر مجبور کرتا ہے اور یہ تو ممکن ہی نہیں کہ انسان سوچنے کے عمل کو منقطع کر دے اسے محدود تو کیا جا سکتا ہے لیکن منقطع نہیں کیا جا سکتا اور اگر خیال کے آنے جانے کو اور سوچ کو منقطع کرنا ممکن نہیں ہے تو پھرہم اس دنیا میں رہنے والے لوگوں کو سوچنے اور ان کے اعمال پر نگاہ رکھنے کے علاوہ دنیا کی تمام چیزوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوتے ہے اور یہی سوچ ہمیں ان تمام چیزوں کے خالق کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے-

جب ہمارے خیال کی پروازاُس خالق تک جا پہنچے تو ہم اس راز کو پانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ  اُس رب نے یہ دنیا کیوں بنائ؟؟ ہمارا وجود اس دنیا میں کیوں موجود ہے ؟؟؟ کیا ہم اس دنیا میں صرف کمانے، کھانے پینے، پڑھنےلکھنے ، سونے جاگنے اور عیاشیاں  کرنے کے لیےآئے ہی؟؟یا زیادہ سےزیادہ   زندگیوں کو اپنےمن پسند طریقے سے  گزارتے ہوئے لحد میں جا کر سونے کے لئے؟؟؟ لیکن یہ ممکن نہیں کہ ہم زندگی کی تمام تر اسائشوں سے فائدہ اُٹھانے کے باوجود  اسکے خالق کی حقیقت کہ پانا نہ چاہے، یہ نہ سوچے کے اُس رب العزت نے ہمیں یہ تمام ترعنایات عطا کی ہے تو اس کے بدلے میں ہم  کیا کر سکتے ہیں؟ ہم اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح وہ مقصد پا لیا جائےجس کی وجہ سےہم اس دنیا میں آئے ہیں اور یہی سوچ  ہمیں اپنے  وجود سے قریب کر دیتی ہیں اور نہ صرف اپنے وجود سے بلکہ اپنے سے وابستہ تمام ہستیوں سے قریب تر کر دیتی ہیں اور ہم پوری شدت  سے اس راز سے پردا اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم دنیا میں کیوں آئے ہیں؟؟؟

انسان جب اس دنیا میں آتا   ہے تو وہ اپنے رب سےقریب تر ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ دنیا کے کاموں میں مشغول ہوتا ہے وہ اس احساس سے غافل ہو جاتا ہے لیکن زندگی میں کبھی نا کبھی کسی نہ کسی مقام پر پہنچ کر ہم اپنے آپ میں اک خلا محسوس کرنے لگتے ہیں اور  یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ زندگی میں تمام تر اسائیشوں کو پانے کے باوجود ہماری زندگی میں یہ خلا کیوں اور کس وجہ سے  ہے؟؟ اسے ہم کس طرح پُر کر سکتے ہیں ؟؟؟؟

سفر چاہےاک شہر سے دُوسرے شہر کا  ہو یا اک ملک سے دُوسرے ملک کا یا پھر اپنے گھر سے کسی اپنے کے گھر تک کا ہو ، نیز سفر چاہے چھوٹا ہو یا لمبا، سفر کے دوران ہم اپنے اطراف کا مشاہدہ  کرتے ہوئے سیکھنے کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں اور کائنات کے بہت سے رازوں سے واقیت حاصل کرتے ہیں اسی طرح زندگی کا سفر بھی ہمارے لیے آگہی کا باعث بنتا ہے اور ہمارے دلوں سے پردہ  ہٹانے  اور آنکھوں سے جالے صاف کرنے میں مددگار ثابت ہوتا  ہے  اورہم  اس کائنات کے خالق تک پہنچنے کی جدوجہد میں مشغول ہو جاتے ہیں اور یہاں سے سوچ کا اک نیا باب کھلتا ہےاور زندگی کے اک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے اور وہ سفرسوچ کا سفر یا روح کا سفر کہلاتا ہے-

سفر شرط ہے!! سفر جسمانی ہو یا زہنی، سفر خیال کا ہو یا پھر روح کا- خیال کی پرواز پر سوچ کا سفر روح کی منزل پر پہنچنے میں مددگار  ثابت ہوتا ہے اور روح کا سفر مشکل ترین سفر ہونے کے باوجود تسکین کا باعث بنتا ہے اس سے ہمارا پورا وجود معطر ہو جاتا ہے  اور ےیہ سفر خوشبو کا سفر کہلاتا ہے-



جمعہ، 28 جون، 2013

شمع جلائے رکھنا

ہماری  زندگی میں لوگوں کا آنا جانا کسی نہ کسی مقصد کے تحت ہوتا ہے- ہماری زندگی میں شامل ہونے والا ہر شخص کسی اہم کام یا کوئی اہم مقصد لےکر  ہماری زندگی میں شامل ہوتا ہے- جب یہ مقصد پورا ہو جاتا ہے تو وہ ہماری زندگی سے نکل جاتا ہے- اس مقصد کو جان  لینا ہی ہمارے رشتے کی بنیاد بنتا ہے-
رشتے جزبات سے وابستہ ہوتے ہیں اور اگر ہم اپنے جزبات پر قابو پانے کا فن سیکھ لے تو رشتوں کو سنبھالنا آسان ہو جاتا ہے- کسی کے لیے کچھ بھی کرنے کے لئے ہم میں برداشت اور ہمت کا موجود ہونا ضروری ہے – لوگوں کی ہم سے وابستگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم اُن کے لئے ہر ممکن بہتری  کی اُمید بن سکے – اپنے اختیار میں  رہتے ہوئے جو بھی اُن کے لئے کرنا ممکن ہو کیا جائے مگر اُن سے کسی بھی قسم کی کوئی اُمید نہ رکھی جائے کیونکہ بدلے کی اُمید سے سوائے درد کے کچھ حاصل نہیں ہوتا- جو کچھ بھی کیا جائے بے غرض ہو  کر کیا جائے اس سے دلی سکون اور خوشی میسر آتی ہے-
بعض اوقات ہم لوگوں کے لئے بہت کچھ کر جاتے ہیں اور وہ اس سے مستفید بھی ہوتے ہیں لیکن اس بات کو ماننے  سے انکاری ہوتے کہ یہ سب ہماری وجہ سے ممکن ہوا ہے- بنسبت اس کے کہ ہم اُن پر یہ ظاہر کرے کہ اُن کی اس کامیابی کی بنیاد ہماری توجہ یا ہمارا کوئی کام بنا ہے خاموشی سے مدد کی جائے اور جب ہمیں محسوس ہو کہ اب اُن کی زندگی میں ہماری ضرورت باقی نہیں رہی اور وہ اس قدر مضبوط ہو چکے ہے کہ اپنے لئے خود کامیابی کی راہ تلاش کر سکتے  ہیں تو اسی خاموشی کے ساتھ اُن کی زندگی سے باہر آجائے -
جو لوگ بھی ہماری زندگی میں شامل ہوتے ہے ، طویل یا مختصر عرصے کے لئے ،  ہماری اُن سے جزباتی وابستگی ہو جاتی ہے اور اُن کا ہماری زندگی سے نکل جانا ہمارے لئے دُکھ کا باعث بنتا ہے- لیکن ہم اگر اس بات کو اپنی گرہ سے باندھ لے کے جو کوئی بھی ہماری زندگی میں شامل ہوا ہے اُسے ہم سے جُدا ہونا  ہی ہے تو ہم اپنے جزبات پر قابو رکھ سکتے ہیں اور اُن کے زندگی سے نکل جانے کو اک فطری عمل گردانتے ہوئے اُن سے مایوس ہو کر نفرت کرنے کے بجائے اُنہیں ہمیشہ کے لئے اپنے دل میں بسا لیتے ہیں اور جو لوگ دل میں بسے ہو وہ چاہے ہم سے کتنے ہی دُور کیوں نہ ہو جائے، ہمارا اُن سے رابطہ ٹوٹ ہی کیوں نہ جائے اُنہیں ہمیشہ اپنی دُعاوں میں یاد  رکھتےہیں کیونکہ یہی دُعائیں  ہماری زندگی میں اُن کی کمی کو اور اُن کی زندگی میں ہماری کمی کہ پورا کر سکتی ہیں-
لوگوں کا زندگی میں آنا اور جانا اک فطری عمل ہیں – اک انسان ہماری زندگی سے باہر جاتا ہے تو کوئی اور ہماری زندگی میں شامل ہو جاتا ہے- کچھ بھی ہو جائے اپنے حصٌے کی شمع ہمیشہ جالائے رکھے –  نہ جانے اس کی روشنی سے کتنے قدم اپنی منزل  پا لے- اپنے لفظوں سے اور اعمال سے لوگوں کی مدد جاری رکھے مگر کسی کو بے جا خواب نہ دکھائے اور سچائی کے ساتھ اُن کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اُن پر آشکار کرنے میں اُن کی مدد کریں-
ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

پیر، 24 جون، 2013

محبت اور نفرت

نفرت انسان اس وقت کرتا ہے جب اس کا دل مردہ ہو جاتا ہے اور اُس کا اپنے آپ پر سے اعتماد اُٹھ جاتا ہے- وہ کسی کی کوئی بھی تکلیف یا درد محسوس نہیں کر سکتا ہے. وہ شخص جس کا دل مردہ ہو چکا  ہو وہ ایک روز اپنے آپ سے بھی نفرت کرنے لگتا ہے اور اسے اپنے سے وابستہ ہر شخص اور چیز سے نفرت ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی زندگی کو بھی حقیر جاننے لگتا ہے اور ایسے ہی لوگ نا امید ہو کر خودکشی کے مرتکب ہوتے ہیں جو نہ صرف ان کی زندگی کو ختم کر دیتی ہے بلکہ ان سے وابستہ تمام لوگوں کے لئے زندگی بھر کا غم اور دکھ چھوڑ جاتی ہے.
اس کے برعکس اپنے آپ پر اور اپنے سے وابستہ تمام لوگوں پر بھرپور اعتماد رکھنے والے لوگوں کے دلوں میں جا بجا محبت کی کونپلیں پھوٹتی ہیں اور آہستہ آہستہ یہ پودے تناور درخت بن کر اپنے اطراف پیار اور نرمی ایسا احساس پھیلاتے ہیں- جو لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتا ہے اور یہی احساس ان سب کو آپس میں جوڑ کر رکھتا ہے وہ ایک دوسرے کی خوشی کو بھی اپنی ہی خوشی سمجھتے ہیں اور ان میں خوش ہوتے ہیں اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کی تکلیف اور دکھ کو بھی اپنا ہی دکھ جانتے ہوے اس کا مداوا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں جس کے باعث ان کے دکھ کی شدت کم ہو جاتی ہیں.

ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

جمعہ، 21 جون، 2013

کوئی تنہا نہیں ہوتا...




ہم میں سے اکثر اپنے آپ کو زندگی کے کسی نہ کسی مقام پر تنہا محسوس کرتے ہیں، اور کبھی کبھی تو یہ حال ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کے بے تحاشا ہجوم میں بھی خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں اور اس تنہائی کو دُور کرنے کے لئے نہ جانے کیا کچھ نہیں کرتے رہتے ہیں، کتنے ہی دوُست بناتے ہیں اور اُن کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں، کبھی اپنے رشتے داروں سے ملنے چلے جاتے ہیں، کبھی دُوستوں کو اپنے گھر بُلاتے ہیں، جب تنہائی محسوس ہوئی فون اُٹھایا اور اپنے دُوستوں رشتے داروں سے بات کرلی اور اب تو انٹرنیٹ ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے باعث تنہائی کا تصور ہی معدوم ہو رہا ہے۔کمپیوٹر کھولا اور  بات کر لی، اور اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی دنیا اتنی وسیع ہے کہ ہم میں سے اکثر اپنی تنہائیوں کو اس میں ڈبونے کی کوشش میں مُبتلا رہتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود ہم اپنے لوگوں میں رہ کر بھی تنہائی کا شکار رہتے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ کوئی اک شخص بھی ایسا نہیں کہ جو ہمیں سمجھ سکے، ہمارے دل کا حال سُن پائے، محسوس کرے اور ہمارا ہمدم بنے۔ اس کے لئے ہمیشہ ایسے دوست کی تلاش میں رہتے ہیں جو ہمیں اچھی طرح سے سمجھ سکے اور اپنا زیادہ سے زیادہ وقت ہمیں دے پائے، لیکن اس مصروف دُور میں یہ ناممکن ہی لگتا ہے، مگر پھر بھی ہمیں کوئی نہ کوئی ایسا ساتھی ضرور ملتا ہے جس سے بات کر کے، جس سے اپنے دل کا احوال کہہ کر ہمیں سکون ملتا ہے لیکن ایسی دوستی کو قائم رکھنے کے لئے کیا ضروری ہے؟ میرے خیال میں دوستی کے دُو اہم اصول ہیں۔


1. دوستی کا پہلا اہم اصول یہ ہے کی جس سے دوستی کرنا چاہتے ہو اُس سے ذیادہ سے ذیادہ ملاقات رہے ہا اُس سے ذیادہ سے ذیادہ باتیں کریں، کچھ اپنی کہیں کچھ اسکی سُنی جائے۔ اس طرح ایک دوسرے سے میل ملاپ ہمیں قریب کر دیتا ہے۔
2. دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ اپنے دوست کا خاص خیال رکھیں۔ یعنی کوئی ایسی بات نہ کریں جو اسے بُری لگے، اسکا دل دُکھے اور وہ ہم سے ناراض ہو جائے۔
جب ہم کسی سے دوستی کرتے ہیں تو ہم کتنے حساس ہو جاتے ہیں اور اسکا بے انتہا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن کب تک آخر کب تک؟ اس مصروف دُور میں کوئی کب تک ساتھ نبھاتا ہے یا نبھا سکتا ہے؟ سب کی اپنی مصروفیت ہوتی ہیں۔ ہماری زندگی میں بہت سے دوست آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر ایسے ہیں جو اپنے ان دوستوں کو کبھی نہیں بُھلا پاتے ہیں اور اپنے آپ کو پھر سے تنہائیوں مین دھکیل دیتے ہیں، اور یہی بات ہمارے لئے مشکل کا باعث بنتی ہے۔ اور دوستی پر سے ہمارا اعتبار اُٹھ جاتا ہے۔ تو کیوں نا ایسا دوست ہو جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے، جس کو ہم سے بے انتہا محبت ہو، جو ہمارا خیال رکھے تو بغیر کسی غرض کے، جس سے ہمیں اپنے دل کی کوئی بات کہنے میں کوئی عار محسوس نہ ہو، جس سے ہم اپنے لئے سب کچھ مانگ سکیں، اور جس کا احساس ہمیں اکیلے پن سے آذاد کر دے۔
میری زندگی کا المیہ ہی سمجھ لیں کہ اپنی کچھ خامیوں ک باعث میرے دوستوں کی تعداد ہمیشہ محدود ہی رہی، وجہ فقط یہی تھی کہ مجھے کبھی دوستی پر اعتبار نہیں رہا اور ہمیشہ لوگوں کو پرکھنے کی عادت رہی جس کے باعث میں نے ہمیشہ ہی بہترین دوستوں کو کھویا ہے اور ان کو کھونے کا احساس ان کے بچھڑنے کے بعد ہی ہوا اور اسے میری ضد یا انا ہی کہا جا سکتا ہے کہ میں نے دوبارہ کبھی مڑ کر ان کی جانب نا دیکھا۔ کسی کو پرکھنے سے صرف درد ہی ملتے ہیں۔ کیونکہ بے غرض دوستیاں شاذ و نادر ہی لوگوں کو میسر آتی ہیں۔ میری بہترین دوست صرف میری ماں تھی اور وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ بیٹا میں تمہارے  ساتھ ہوں، تم خود کو کبھی تنہا نہیں سمجھنا اور ایسا ہی تھا امی کے ہوتے ہوئے مجھے کبھی کسی دوست کی تمنا نہیں رہی کیونکہ وہ واحد ہستی تھیں جن سے میں نے ہمیشہ بچپن سے لے کر اُس وقت تک جب تک میں خود ماں نہ بن گئی سب کچھ بِلا جھجھک شیئر کیا۔ کوئی دُکھ کوئی خوشی، کوئی پریشانی ایسی نہ تھی جو مجھے امی سے شیئر کرنے میں جھجھک محسوس ہوتی اور جب امی کا انتقال ہوا تو اس کے بعد بھی جب میں خود کو تنہا محسوس کرتی تو امی سے باتیں کرتی، گھنٹوں آنکھیں بند کر کے بیٹھی رہتی اور مجھے محسوس ہوتا کہ وہ اب بھی میرے پاس ہیں اور میری ساری باتیں سُن رہی ہیں، مجھے ہمیشہ تسلی رہی کہ میں اکیلی نہیں ہوں۔ اکثر سوچتی ایسا کیوں ہوتا ہے، وہ ساتھ نہ ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ میرے ساتھ کیوں ہوتی ہیں۔ آج میری بیٹیاں بھی مجھ سے اتنی ہی قریب ہیں، اور کہتی ہیں 'امی آپ ہماری بیسٹ فرینڈ ہیں۔' تو خیال کی پرواز اس بات کو چھوتی ہے کہ ماں ہی ایسی ہستی ہے جو ہم سے سب سے ذیادہ محبت کرتی ہے شاید اِسی لئے وہ ہماری سب سے اچھی دوست ہوتی ہے اور ہمیشہ اُسکی دعاؤں کا سایہ ہم پر رہتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ظاہر میں بھی ہمارے ساتھ ہوں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ماں جس نے ہمیں جنم دیا اُسے ہم سے اتنی شدید محبت ہے کہ وہ اپنے آپ کو فنا کر کے ہماری خوشیوں کے لئے زندگی گزار دیتی ہے، ہماری ساری تنہائیوں کو بانٹ لیتی ہے، تو پھر خیال اتا ہے کہ وہ ہستی جس نے ہمیں زندگی بخشی اُسے ہم سے کتنی محبت ہوگی؟ تو پھر ہماری تنہائیوں کا ساتھی وہ کیوں نہیں ہے؟ یہی بات اسکی گواہی ہے کہ 'کوئی تنہا نہیں ہوتا' اک ہستی، اک زات ہے جو ہر پل، ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم سب کا اس بات پر  پختہ  یقین ہے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے، ہمارے پاس،  ہر شئے میں خُدا کی موجودگی کا ہمیں یقین ہے تو پھر اس بات پر بھی یقین ہونا چاہئے کہ خُدا کی ذات ہمارے وُجود میں بھی موجود ہے، وہ ہر پل ہمارے ساتھ ہے، پھر ہم تنہا کیسے ہو سکتے ہیں؟ اگرتو ہم اس بات پر پختہ  یقین رکھتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم خود کو تنہا محسوس کریں، کبھی کسی لمحے میں ہم تنہا ہو ہی نہیں سکتے ہیں۔
جیسا کہ دوستی کا پہلا اصول ہے کہ دوست سے زیادہ سے زیادہ ملاقات رہے یا اس سے زیادہ سے زیادہ باتیں کریں، ہمیں تو فقط اس کے ساتھ کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے، دوستی کرنے کے لئے اس کے قریب ہونا ضروری ہے، اور قریب ہونے کے لئے اس سے باتیں کرنا ضروری ہے۔ خدا سے دوستی کرنے کیلئے، اس سے باتیں کرنے کیلئے ہمیں اپنی عبادتوں میں باقاعدگی رکھنی ہے۔ خدا سے قریب تر ہونے کیلئے اس کا ذکر کرنا ہے، اسے سب کچھ کہنا ہے، اپنے دل کا حال اسکے سامنے بیان کرنا ہے اور اسے اپنا بہترین دوست سمجھنا ہے۔
اللہ کو دوست بنانے کیلئے دُوسرا اصول بھی اپنانا ہے کہ اپنے دوست کا خاص خیال رکھیں، یعنی کوئی ایسی بات نہ کریں جو اسے بُری لگے، ہمیں اپنے ہر کام کو اسکی رضا کیلئے انجام دینا ہے، اپنی ذات سے نکل کر اسکو تلاش کرنا ہے، اس کیلئے اپنا ہر عمل اسکے احکامات کی روشنی میں انجام دینا ہے۔ کوئی ایسا کام نہ کریں جو رَب کو بُرا لگے، اپنے ہر عمل سے رب کی خوشی (رضا) حاصل کرنی ہے۔
جب ہم یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ خدا ہمارے قریب ہے، وہ ہمیں دیکھ رہا ہے، ہمارا کوئی بھی عمل اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اور جب ہم اس کے ذکر سے اپنی تنہائیوں کو آباد کرتے ہیں تو اکیلا پن خود با خود ختم ہو جاتا ہے، ہمارا وقت اس کے ذکر میں گُزرتا ہے اور ہر عمل خود با خود اسکے احکامات کی روشنی میں ہوتا ہے اور ہم انجانے میں کتنی ہی بُرائیوں سے بچ جاتے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم ہر وقت عبادت میں مصروف رہیں، اسلام ہمیں معتدل زندگی کی تاکید کرتا ہے، ہمیں اپنے دُنیاوی کاموں کو سرانجام دیتے ہوئے اپنی عبادت میں باقاعدگی رکھنی ہے۔ ذکر تو دل و زبان سے کرنا ہے۔ ۔ ۔ ۔ وہ تو کام کے دوران بھی کیا جا سکتا ہے۔
میرے خیال میں اللہ سے بہترین دوستی کوئی اور نہیں، وہ ہر پل ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہے، ہم اسکی موجودگی کا یقین کر کے تنہائی کے احساس سے نجات پاسکتے ہیں۔ وہ ہماری ہر بات سُنتا ہے اور ہر لمحہ ہماری مدد کرتا ہے، فقط اس بات پر یقین رکھا جائے کہ ہم جو دعا کرتے ہیں وہ قبول ہوگی تو یقیناَ، دُعائیں قبول ہوتی ہیں۔
اللہ ہم سب کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہمارے جو قدم اپنی ذات کی تلاش میں اُٹھتے ہیں اس کا رُخ اُسکی تلاش کی جانب مڑ جائے۔ ۔ ۔ ہم اُس ذات کو اپنے ساتھ محسوس کر سکیں، اُس کو اپنا ساتھی بنا سکیں۔ آمین!!

ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔


خوشی ۔۔۔۔ اقتباس خوشی

 ہم اکثر اوقات دنیا کی آسائشات کو ہی خوشی گردانتے ہیں اور بہت سی ایسی باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمیں بے انتہا خوشی دے سکتی ہے. خوشی تو ہر انسان کے دل میں ہی بستی ہے فقط ہمیں اس خوشی کو پہچاننا ہے اور اسی کی تلاش کرنی ہے. خوشی کو اپنے اندر تلاش کرے نہ کہ اپنے حالات اور واقعات میں جو لوگ زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوشیاں کشدنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ اپنے ارد گرد ایک ایسا ہالہ قائم کر لیتے ہیں جس سے خوشیوں کی لہر پھوٹتی رہتی ہیں اور ارد گرد کے جتنے بھی لوگ جب جب اس ہالے سے گزرتے رہتے ہیں وہ اپنے دلوں کو ان خوشیوں سے منور کرتے رہتے ہیں اور اپنے دکھ درد بھول جاتے ہیں.
خوشی کو اپنے اندر سے کشیدنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے خیالات اور احساسات کی راہ گزر پر شک اور نفرت کے گھوڑوں کو سوار کرنے کے بجاے اعتماد اور محبت کی سواری کا خیر مقدم کرے کیونکہ شک کسی سے بھی نفرت کی پہلی وجہ ہے جو دکھ کا باعث بنتا ہے جب کہ اعتماد محبت کی طرف پہلا قدم ہے جو کسی کو بھی خوشی کشیدنے میں مدد کرتا ہے.

ثمینہ طارق

'خوشی'     مکمل

اتوار، 16 جون، 2013

سفر شرط ہے- اقتباس

سفر چاہےاک شہر سے دُوسرے شہر کا ہو یا اک ملک سے دُوسرے ملک کا یا پھر اپنے گھر سے کسی اپنے کے گھر تک کا ہو ، نیز سفر چاہے چھوٹا ہو یا لمبا، سفر کے دوران ہم اپنے اطراف کا مشاہدہ کرتے ہوئے سیکھنے کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں اور کائنات کے بہت سے رازوں سے واقیت حاصل کرتے ہیں اسی طرح زندگی کا سفر بھی ہمارے لیے آگہی کا باعث  بنتا ہے اور ہمارے دلوں سے پردہ  ہٹانے اور آنکھوں سے جالے صاف کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اورہم  اس کائنات کے خالق تک پہنچنے کی جدوجہد میں مشغول ہو جاتے ہیں اور یہاں سے سوچ کا اک نیا باب کھلتا ہے اور زندگی کے اک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے اور وہ سفرسوچ کا سفر یا روح کا سفر کہلاتا ہے-
سفر شرط ہے!! سفر جسمانی ہو یا زہنی، سفر خیال کا ہو یا پھر روح کا- خیال کی پرواز پر سوچ کا سفر روح کی منزل پر پہنچنے میں مددگارثابت ہوتا ہےاور روح کا سفر مشکل ترین سفر ہونے کے باوجود تسکین کا باعث بنتا ہے اس سے ہمارا پورا وجود معطر ہو جاتا ہے  اور یہ سفر خوشبو کا سفر کہلاتا ہے-



ثمینہ طارق


جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔