Translate

اتوار، 20 اکتوبر، 2013

شبِ ماہِ کامل





 20 October 2013th Full Moon Captured by +Salim M.P. Nensi
شبِ ماہِ کامل


خدا نے اس کائنات کو بے پناہ حُسن سے نوازا ہے تو ساتھ ساتھ انسان کو حُسن پرست بھی بنایا ہے- انسان خدا کی تخلیقات سے متاثر ہوئے بِنا نہیں رہ سکتا۔ قدرت کے مناظر انسان کے دل کو تسخیر کرتے ہے تو وہ ان کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے اور پھر اس سے دور رہنا اس کے لئے ممکن نہیں رہتا۔میری زندگی میں ان میں سے دو چیزیں بے انتہا اہمیت کا حامل رہی ہے ۔ ایک سمندر اور دوسرا ماہِ کامل یعنی پورا چاند۔ شبِ ماہِ کامل میں سمندر کے ساحل پر چہل قدمی کرنا یا گھنٹوں اپنے گھر کی بالکونی میں بیٹھ کر چاند کو تکنا اور اس کی کرنوں سے محظوظ ہونا میرا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے اور  یہی لمحات  میری حیات کے بہترین اور یادگار لمحات رہے ہیں۔کل  ایسی ہی ایک شب تھی اور میں اپنی ایک پُرانی دائری کی ورق گردانی کر رہی تھی کہ میری نظر ایک ایسی تحریر پر پڑی جو  ایسی ہی ایک شب میں لکھی تھی  وہ  ذیل میں درج کر رہی ہوں اور اسے اپنی خالہ دولت بانو کو منسوب کرتی ہوں کیونکہ یہ اُنہی کی یاد میں تحریر کی گئی تھی۔

                                                                                                                                                                                  
پورے چاند کی رات


پورے چاند کی رات  ہو

آسمان پر  چاند
 اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا  ہو
اور  اپنی کرنوں کا نور بکھیر رہا ہو
ایسے میں اکثر گھنٹوں
کھُلے آسمان تلے بیٹھ کر میں
چاند کو تکتی رہتی تھی
چاند کی کرنوں سے
کچھ حسیں یادوں کے عکس
میری آنکھوں میں اُتر کر
میرے وجود کو سرشار کرتے تھے
آج بھی ایسی ہی ایک
پورے چاند کی رات تھی
اور
آسمان چاند کی کرنوں سے
اُجیالا تھا
لیکن آج جب میں نے
چاند کو دیکھا تو
ا س کی کرنوں سے کوئی بھی
حسین عکس میری آنکھوں میں
اُتر نہ پایا
اور صرف
ایک ہی منظر
میری نگاہوں میں  اُبھرتا رہا
اک بے جان اور بے حس وجود
جس کے چہرے پر میں نے ہمیشہ
اُس ہستی کا احساس پایا
جس کو میں نے برسوں پہلے کھو دیا تھا
جس کی آواز کا ترنم
میری سماعت میں
میری ماں کی آواز بن کر گونجتا تھا
اور آج چاند کا یہ حُسن
یہ حسیں منظر
میرے وجود کو گھائل کر گیا
کیونکہ!
وہ ایک ایسی ہی
پورے چاند کی رات تھی
جب میں نے اپنی ماں کو
اک بار پھر سے کھو دیا
اور اب کی بار
ہمیشہ کے لئے کھو دیا
16 October 2005


 ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔



ہفتہ، 19 اکتوبر، 2013

دعا: اے میرے خدا


اے میرے خدا!

مانگوں کیا میں تجھ سے

کہ میرے ہاتھ اُٹھانے سے قبل

تُو نے اپنے کرم کی نوازشوں سے

میری ہر حاجت کو پُر کیا ہے


اے میرے خدا!!

مانگوں کیا میں تجھ سے

 کہ میری ہر طلب سے پہلے

تُو نے اپنی رحمتوں کی کثرت سے

میرے دامن کو بھر دیا ہے


اے میرے خدا !!

مانگوں کیا میں تجھ سے

فقط اپنے کرم کی اتنی نظر کر دے

میرے دل کے صحرا کو  اب تُو

اپنی طلب کے ابر سے سمندر کردے
 
 ثمینہ طارق


 
 

منگل، 3 ستمبر، 2013

خوف

کھو دینے یا کھو جانے کا خوف انسان کی فطرت میں شامل ہوتاہے چاہے وہ کسی چیز کے کھو جانے کا خوف ہو یا کسی اپنے کے کھو جانے کا خوف ہو- ہم اپنی عزیز ترین چیزوں کی حفاظت دل و جان سے کرتے ہیں کیونکہ ہمیں ان کے کھو جانے یا بچھڑ جانے کا خوف ہوتا ہے اور یہ خوف ہمارے ازہان پر کچھ اس طرح غالب رہتا ہے کہ ہم یہ محسوس ہی نہیں کر پاتے ہیں کہ اُس چیز یا شخص کا جُدا ہونا ہمارے مفاد میں  بھی ہو سکتا ہے یا ہمارے لئے خوش آئند ثابت ہوسکتا ہے- ممکن ہے ہماری زندگی میں اُس سے بہتر کوئی شخص وارد ہو یا ہم اُس سے بہتر کوئی شئے خرید لیں-
ہم اپنی چیزوں سے اس قدر محبت رکھتے ہیں کہ اُن کے کھو جانے کا خوف ہمارے اعصاب پر طاری رہتا ہے چاہے پھر وہ کوئی معمولی سی چیز ہی کیوں نہ ہو مثلًاً  ایک مصنف کے لئیے اُس کا قلم اور اک قاری کے لیے اُس کی کتاب۔ جب چیزیں کھو جاتی ہیں تو اُن کی جگہ نئی چیزیں لے لیتی ہیں اور ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہم پہلے کی بنسبت بہتر یا قیمتی شئے خریدے  یعنی کہ ہم بہتری کی جانب مائل رہتے ہیں – پھر آہستہ آہستہ ہم اپنی پُرانی چیزوں کو اکثر فراموش کر بیٹھتے ہیں کیونکہ انسان نسیان کا مریض ہے اور ہر چیز کو بھولنے کا شرف رکھتا ہے- نسیان کا مرض بھی انسان کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں کیونکہ اگر ہم اپنی کھوئی ہوئی چیزوں کو بھول نہ پاتے تو یہ عمر بھر کا روگ بن جاتا-
لیکن ہم سے کوئی ہمارا اپنا بچھڑ جائے تو یہ دُکھ نا قابلِ برداشت ہوتا ہے- ہم اپنوں کو بھولنے کی کوشش کرنے میں جلد کامیاب نہیں ہوتے لیکن یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ہم اپنوں کو بھی دُنیا کی تیز رفتاری میں بُھلا بیٹھتے ہیں لیکن جب کبھی وہ یاد آتے ہیں تو پھر سے دُکھی ہو جاتے ہیں- ان میں سے کچھ رشتے تو ہمارے بہت قریب ہوتے ہوئے بھی ہمیں دکھائی نہیں دیتے ہیں اور کچھ ہمیں چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے اس دُنیا سے چلے جاتے ہیں- قُدرتی طور پر بچھڑنے والے کو کو بھولنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا ہے لیکن ہم اکثر اپنے رشتوں کو بھی چیزوں کی طرح کہیں رکھ کر بھول جاتے ہیں اور ایک دن آتا جب یہ رشتے ہم سے کھو جاتے ہیں - انسان کو اپنی چیزوں کی بنسبت رشتوں کے بچھڑنے کا احساس بڑی دیر میں ہوتا ہے ور اُس وقت تک وہ ہم سے اس قدر دُور ہو جاتے ہیں کہ اُنہیں دوبارہ اپنی زندگی میں لانا ممکن نہیں رہتا- ہم چاہتے ہوئے بھی نہ تو انہیں دوبارہ ڈھونڈ پاتے ہیں اور نہ ہی بھُلا پاتے ہیں اور یہ رشتے درد بن کر ساری زندگی ہمارے دل میں رہتے ہیں-چیزوں  اور رشتتوں دونوں ہی کے کھودینا دردناک ثابت ہوتا ہے لیکن انسان بآسانی اس عمل سے گزر جاتا ہے- کبھی پیچھے مُڑ کر دیکھے اور اپنی زندگی کا جائزہ لے تو تھوڑی دیر کو دُکھی ضرور ہوتا ہے لیکن پھر سے اپنی زندگی کے کاموں میں مشغول ہو کر سب کچھ بھلا دیتا ہے۔
انسان صرف اپنی چیزوں اور رشتوں کے کھونے کے ڈر میں ہی مبتلا نہیں رہتا بلکہ وہ خود کو کھو دینے سے سب سے زیادہ خوفزدہ رہتا ہے۔خود کو کھودینے کا  خوف انسان کے لئے سب سے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہےاور یہ خوف ان تمام خدشات پر ہاوی ہوتا ہے جس سے ہمیں زندگی میں واسطہ پرتا ہے مثلاً  نہ پسند کئے جانے کا خوف، مسترد کئے جانے کا خوف، تعلقات کے ٹوٹنے کا خوف، پسندیدہ اشیاءکے کھونے کا خوف- یہاں تک کے اُن حالات  کے کھودینے کا خوف جس میں ہم خوش اور مطمئن ہے- ہم یہ جانتے ہیں کہ انسان فانی ہے، ایک نہ ایک دن اسےاس دنیا سے چلے جانا ہے ۔ کوئی بھی ہمیشہ نہیں رہنے والا نہیں پھر بھی موت کا خوف ہرشخص پر مسلط رہتا ہے-ہم ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ نہ جانے کون سا لمحہ ہمارے لئے قزاقِ اجل کا پیغام لے آئے- خوف انسان کی فطرت کا اک حصّہ ہے-اس کے باعث ہم بہت سے ایسے کام کرنے سے قاصر رہتے ہیں جس سے ہمارے دل و دماغ کو سکون اور اطمینان میسر آتا ہے-موت سے پہلے بھی انسان اکثر و بیشتر اپنے آپ کو کھودینے کے عمل سے گزر جاتا ہے اور اس کا اچھایا     بُرا ہونا اس بات پرمنحصر ہے کہ ہم نے خود اپنے آپ کو کب، کہاں اور کن حالات میں کھویا ہے- کبھی انسان اپنے غموں اور دکھوں سے نجات پانے کے لئے اپنے آپ کو لوگوں کے ہجوم میں کھونے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی دنیا سے بیزار ہو کر سناٹوں میں ،کبھی کسی کے لفظوں میں تو کبھی کسی کے خیال میں، کبھی کسی سوچ میں تو کبھی کسی خواب میں- غرض انسان اپنی تمام  عزیز ترین  اشیاء اور رشتوں کی طرح موت سے پہلے خود کوبھی کھودیتا ہے-اگر خود کو کھونے کا یہ عملاپنی ذات کی تلاش کے سلسلے میں ہو تو پھر انسان کے لئے سفراور بھی مشکل ہوجاتا ہے اور خوف بھی زیادہ رہتا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اپنی تلاش کا یہ سفر اُسے کہاں تک لے جائے گا اور پھر وہ خود کو ڈھونڈ بھی پائے گا یا مزید اس کی گہرائی میں اُترتا جائے گا-
 اپنے یقین کو ہمیشہ اپنے خوف سے بلند رکھیں اور خوف کو کبھی بھی اپنے یقین پر مسلط نہ ہونے دیں- جو لوگ اپنے خوف کو اپنےیقین  پر مسلط نہیں ہونے دیتے ہیں وہ ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں اور ایسے کام کر جاتے ہیں جو عام طور پر ناممکن نظر آتے ہیں – اپنی تلاش کے سفر پر نکلنے والے وہ لوگ جن کا یقین پختا ہو او ر اللہ پر ایمان مضبوط ہو وہ اس تلاش کے سفر کو جاری رکھتے ہے اور اس کے ذریعے روح کے سفر کا انتخاب کرتے ہیں- روح کا سفر خوشبو کا سفر ہے اور یہ اپنا راستہ خود بناتا ہے اور اس راستے پر سفر کرنے والا دنیا کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہےاور خود کو کھونے کے لئے ہر لمحہ تیار رہتا ہے- وہ اپنے آپ کو اُس ذاتِ پاک میں ڈبو دینا چاہتا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ خود کو کھونے کا یہ عمل اس کی فنا ہے- لیکن انسان اپنی اس فنا میں بھی خوش ہے کیونکہ وہ اس کھودینے کے عمل کے دوران وہ سب کچھ پا لیتا ہے جس کی اُسے عمر بھر تلاش رہی ہے اور انسان کا اسطرح خود کو کھونے کا عمل اس کی زندگی کا سب سے مثبت عمل ثابت ہوتا ہے-وہ خود کو کھو کر بھی یہ بھول جاتا ہے کہ اُس نے خود کو کھویا ہے -یاد رہتا ہے تو فقط وہ جسے خود اپنے آپ کو کھوکر اُس نے پایا ہے-
کھو دینے کا ڈر تو انسان کی فطرت میں شامل ہے لیکن عشقِ خدا ایک ایسا دریا ہے جس میں ڈوبنے کے ڈر سے بار بار بار اُبھڑنے والا فقط تیرتا ہی رہ جاتا ہے جبکہ  ڈوب جانے والا پار اُتر جاتا ہے- ڈوبنے والا خود کو کھونے سے نہیں ڈرتا اور خود کو فنا کر کے بقا کا سفر بخوبی طے کر پاتا ہے-
 ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

جمعہ، 9 اگست، 2013

خو شی


زندگی کیا ہے ؟؟ یہ سوال اکثر ہم اپنے آپ سے کرتے رہتے ہیں اور اس کے کے مختلف جوابات ہمیں اپنے ذہن سے یا اپنے اس پاس کے لوگوں سے ملتے رہتے ہیں ۔کوئی کہتا ہے زندگی چیلنج ہے ، کوئی کہتا ہے زندگی درد ہے اور کوئی زندگی کو خوشی گردانتا ہے۔غرض کہ ہر شخص کا زندگی سے متعلق ایک الگ نظریہ ہے۔  زندگی چاہے کچھ بھی کیوں ہو، کیسی ہی کیوں نہ ہو ہمیں تو فقط اس سے سکوں اور خوشی کی تلاش رہتی ہے اور اس سکوں اور خوشی کو حاصل کرنے کے لئے نہ جانے ہم کیا کچھ نہیں کر جاتے ہیں۔دولت مند ہے تو اپنی خوشی کے لئے ہر ممکن آسائشات جمع کر کے رکھتے ہیں، اپنی زندگی کو آسان بنانے کے لئے دنیا کے ہر کونے سے کچھ نہ کچھ خرید کر لے آتے ہیں۔ اپنے بچوں کے لئے بےشمارکھلونے خریدتے ہیں اور ساتھ ساتھ انہیں ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، اور اگر دولت پاس نہیں تو یہی خوشی ہم اپنوں میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا اپنے رشتوں میں بے شمار دوست بناتے ہیں اور ان کے ساتھ محفلیں جماتے ہیں کہ ان کے ساتھ وقت گزارنے میں ہمیں خوشی ملتی ہے اور ہم اپنا درد بھول جاتے ہیں۔

 ہم ایک آسان سی بات نہیں سمجھ پاتے ہیں کہ خوشی تو ہمارے دل میں بستی ہیں. یہ نہ تو دولت و آسائش میں میسر ہے نہ ہی خوبصورت لوگوں کی سنگت میں۔ جب ہم یہ جانتے ہیں کہ الله رب العزت ہی ہمیں دنیا میں سب سے زیادہ چاہنے والا ہے اور وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ہماری زندگی کو صرف درد اور دکھ سے بھر دیں۔ ہر شخص کو اس کی برداشت کے مطابق ہی درد اور تکلیف ملتی ہے اور اسی طرح سے ہر انسان کو اس کی ضرورت کے مطابق خوشی بھی ملتی ہے اور سکون بھی ملتا ہے۔

لیکن ہوتا کچھ یوں ہے کہ ہم اکثر اوقات دنیا کی آسائشات کو ہی خوشی گردانتے ہیں اور بہت سی ایسی باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمیں بے انتہا خوشی دے سکتی ہے۔ خوشی تو ہر انسان کے دل میں ہی بستی ہے فقط ہمیں اس خوشی کو پہچاننا ہے اور اسی کی تلاش کرنی ہے۔ خوشی کو اپنے اندر تلاش کرے نہ کہ اپنے حالات اور واقعات میں جو لوگ زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوشیاں کشیدنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ اپنے ارد گرد ایک ایسا ہالہ قائم کر لیتے ہیں جس سے خوشیوں کی لہر پھوٹتی رہتی ہیں اور ارد گرد کے جتنے بھی لوگ جب جب اس ہالے سے گزرتے رہتے ہیں وہ اپنے دلوں کو ان خوشیوں سے منور کرتے رہتے ہیں اور اپنے دکھ درد بھول جاتے ہیں۔

ہم اپنے بچپن میں کتنے خوش ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت نہ تو ہمارے پیار میں کوئی غرض شامل ہوتی ہے اور نہ ہی ہماری محبتوں میں کوئی بناوٹ ہوتی ہیں۔ہم دوستوں کی مدد کرکے یا اپنی چیزیں ان سے بانٹ کر بھی وہ خوشی حاصل کر لیتے ہیں جو ہمیں اب پر آسائش زندگی میں بھی مہیا نہیں ہوتی ہے۔ اگر تو ہم خوشی کو اپنے اندر سے کشیدنےمیں کامیاب رہتے ہیں تو ہمارا ہر ادا کیا ہوا لفظ اور کیا جانے والا ہر عمل دوسروں کی خوشی کا باعث بنے گا اور ہم ہر دل عزیز شخصیت کے ملک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے لئے بھی سکون کا انتظام کر لے گے۔

خوشی کو اپنے اندر سے کشیدنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے خیالات اور احساسات کی رہگزر پر شک اور نفرت کے گھوڑوں کو سوار کرنے کے بجاے اعتماد اور محبت کی سواری کا خیر مقدم کرے کیونکہ شک کسی سے بھی نفرت کی پہلی وجہ ہے جو دکھ کا باعث بنتا ہے جب کہ اعتماد محبت کی طرف پہلا قدم ہے جو کسی کو بھی خوشی کشیدنے میں مدد کرتا ہے۔

 نفرت انسان اس وقت کرتا ہے جب اس کا دل مردہ ہو جاتا ہے اور وہ کسی کی کوئی بھی تکلیف یا درد محسوس نہیں کر سکتا ہے۔ وہ شخص جس کا دل مردہ ہو چکا ہو وہ ایک روز اپنے آپ سے بھی نفرت کرنے لگتا ہے اور اسے اپنے سے وابستہ ہر شخص اور چیز سے نفرت ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی زندگی کو بھی حقیر جاننے لگتا ہے اور ایسے ہی لوگ نا امید ہو کر خودکشی کے مرتکب ہوتے ہیں جو نہ صرف ان کی زندگی کو ختم کر دیتی ہے بلکہ ان سے وابستہ تمام لوگوں کے لئے زندگی بھر کا غم اور دکھ چھوڑ جاتی ہے۔ اس کے برعکس اپنے آپ پر اور اپنے سے وابستہ تمام لوگوں پر بھرپور اعتماد رکھنے والے لوگوں کے دلوں میں جا بجا محبت کی کونپلیں پھوٹتی ہیں اور آہستہ آہستہ یہ پودے تناور درخت بن کر اپنے اطراف پیار اور نرمی ایسا احساس پھیلاتے ہیں۔ جو لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتا ہے اور یہی احساس ان سب کو آپس میں جوڑ کر رکھتا ہے وہ ایک دوسرے کی خوشی کو بھی اپنی ہی خوشی سمجھتے ہیں اور ان میں خوش ہوتے ہیں اور انہیں اپنی خوشی کی تلاش میں بھٹکنا پڑتا ہے خوشی خود انہیں ڈھونڈ لیتی ہیں. ساتھ ساتھ ایسے لوگ جو بھر پر اعتماد اور محبت کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں وہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کی تکلیف اور دکھ کو بھی اپنا ہی دکھ جانتے ہوے اس کا مداوا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں جس کے باعث ان کے دکھ کی شدت کم ہو جاتی ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم پہلے تو خود اپنے آپ پر اعتماد رکھے کہ ہم زندگی کے جس میدان میں قدم رکھے گے انشاللہ کامیاب ہونگے اور دوسروں کو بھی یہ یقین اور اعتماد دلاے اس سے ان کے دلوں میں ہمت اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور وہ ایسے کام بھی کر جاتے ہیں جو ان کو ناممکن لگتے ہو۔

ہم چاہے زندگی کو کسی بھی پیرائے میں جانچتے ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم زندگی کو سکون سے گزرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے خدا کو اپنا دوست سمجھتے ہیں تو اس سے دوستی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس کے احکامات کی پابندی کرے تو پھر ان احکامات میں سے ایک حقوق العباد بھی ہے اور اس کو پورا کرنے کے لئے ہمیں اپنے دلوں کی مٹی کو نم کرنا ہوگا اور اپنے ارد گرد بسنے والے لوگوں سے سچے دل سے محبت کرنی ہو گی نہ کہ صرف اپنا مذہبی فریضہ پورا کرنے کے لئے کوئی عمل کیا جائے۔ اپنے دلوں سے شک اور نفرت کے زہر کو نکال کر اعتماد اور محبت کے چراغ روشن کرے جو ہمارے آنے والی نسل کی راہ میں روشنیاں بکھیر دے اور انہیں ان روشنیوں میں اپنی منزل تلاش کرنی مشکل نہ محسوس ہو۔
 
ثمینہ طارق




جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

 

ہفتہ، 3 اگست، 2013

سفر شرط ہے!! حصّہ سوئم


سفر شرط ہے کے پہلے دو حصّوں میں زندگی کو اک سفر سے اور سفر کو زندگی سے مشابہت دی گئی ہے- ضروری نہیں کہ جو کچھ میں نے لکھا اُس سے تمام لوگ متفق ہو جیسا کہ پہلے بھی لکھ چکی ہوں کہ ہر اک کا سوچ کا انداز  اور زندگی سے متعلق نظریہ مختلف  ہوتا ہے – اس باب میں قرانی آیات کی مدد سے سچ کی تلاش کے اس سفر کو بیان کرنے کی اک ادنیٰ سی کوشش کی ہے-

دنیا کی ہر شئے سے ہمیں باری تعالیٰ کے وجود کے اشارات ملتے ہیں- اس کائنات کی ہر شئے کو اُس کی رحمت نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے جس سے ہم مستفید ہوتے رہتے ہیں  لیکن  اپنی دُنیاوی مصروفیات میں گم ہو کر یا پھر اپنی کوتاہئوں کے باعث وہ سب دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے ہیں ۔اپنے دلوں کو اس روشنی سے منوّر کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ اس سفر کو صرف اک سفر کے تحت گزار دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ آخر ہمیں لوٹ کر اُسی طرف جانا ہے اور واپسی کے اس سفر کے لئے تو ہم نے زادِ راہ تیّار ہی نہیں کیا-قرانِ پاک میں کئی جگہ واضح اشارات موجود ہیں اگر اُن پر غور کیا جائے تو ہم پر اس دُنیا کے کئی راز آشکار ہو سکتے ہیں اور اس کے لئے قرانِ پاک کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنا اور سمجھنا بے حد ضروری ہے-

القران

 قرانِ پاک میں ارشادِ باری تعالی ہے-
"بلاشبہ (بدل بدل کر) آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں بھی) جو کچھ پیدا کیا الله نے آسمانوں اور زمین میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں واسطے ان لوگوں کے جو ڈرتے ہیں-"
(سورۃ یونس (10)آیت 6)

" کیا اُنہوں نے کبھی اپنےدلوں میں غور نہیں کیا؟ اللہ تعا لیٰ نے آسمانوں اور زمین   اورجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے برحق اور اک مقررہ مدت کے لئے پیدا کیا ہے- مگر اکثر لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں-"( سورۃ الروم (30)آیت8)

"پس کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ اُن کے دل ایسے ہو جاتے جن سے وہ سمجھتے  یااُن کے کان اہسے ہوجاتے جن سے سُنتے- پس تحقیق آنکھیں اندھی نہیں ہوتی لیکن دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں-" (سورۃ الحج (22) آیت 46)

 "اور میری رحمت ہر شئے کو گھیرے ہوئے ہے-" (سورۃ الاعراف  (7) آیت 156)

"کیا تم نے غور نہیں کیا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے تابع کر رکھا ہے اور اُس نے تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں کر رکھی ہیں-" (سورۃ لقمٰن(31 )آیت 20)


"اور جو اس (دنیا) میں اندھا رہا، پس وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور راہراست سے بہت زیادہ بھٹک گیا ہوگا-" (سورۃ بنی (اسرائیل(17) آیت 72)

"اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی راہ پر لگا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے- اور اللہ تعالیٰ ہر شئے کو خوب جاننے والا ہے-"(سورۃ النور(24) آیت 35)

سچ کا بیان لفظوں میں ممکن ھی نہیں- اس کا صرف تجربہ کیا جا سکتا ہے جو اس کی طلب رکھتا ہے وہ  کوشاں رہتا ہے اور کبھی نہ کبھی جواہرات کے اس ڈھیر سے وہ موتی پا ہی لیتا ہے جو اُس کی حیات کو تابندہ کرتا ہے-

 ثمینہ طارق

اتوار، 14 جولائی، 2013

سفرشرط ہے!! حصّہ دوئم

اس خوشبو کے سفر میں ساری کائنات ہماری ہم سفر ہے۔شمس و قمر، پہاڑ و میدان، دریا و سمندر،  جنگل و بیاباں ، پھول ، رنگ و خوشبو ،پودے، درخت، پرندے ،بادل، ہوا     غرضدنیا کی ہر شئے۔

جس طرح سفر کے دوران سفر کرنے والے دو لوگوں کا کسی بھی شئے یا مقام کے بارے میں نظریہ مختلف ہوتا ہے -دو اشخاص کسی شئے یا مقام کے بارے میں مختلف اندازمیں سوچتے ہیں کوئی سفر کو صرف اک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے ہی اختیار کرتا ہے تو کوئی سفر کو سیر و تفریح کے طور پر اور کوئی اسے سیکھنے کے عمل سے گزرنے کی خاطر یا شوقیہ  اختیار کرتا ہے- جو لوگ سفر صرف اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ اُنہیں اک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچنا ہوتا ہے وہ سفر کو باریک بینی سے نہیں دیکھتے ، سفر کے دوران آنے والے مقامات کو سرسری طور پر دیکھتے ہیں اور صرف اپنی منزل سے متعلق سوچتے ہیں کہ جلد از جلد اپنے طے شدہ مقام تک پہنچ جائے- جب کہ سیر و تفریح کی خاطر سفر اختیار کرنے والے لوگ ہر شئے اور ہر مقام سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اُن اشیاء یا مقامات کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرتے ہیں اور اس سے محظوظ ہوتے ہیں- وہ لوگ جو سفر کو شوقیہ یا محض سفر کی خاطر اختیار کرتے ہیں  وہ سیاح  کہلاتے ہیں اور وہ کبھی اپنی منزل کے متلاشی نہیں ہوتے ہیں – وہ ہمیشہ سفر میں رہنا پسند کرتے ہیں-ایسے  لوگ ہر مقام اور ہر شئے سے نہ صرف یہ کہ لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ انہیں ان مقامات سے عشق ہو جاتا ہے اور وہ گاہے بگاہے اُن مقامات پر جانے کے لئیے بیتاب رہتے ہیں -وہ ہر نئی جگہ کو کھوجنے کے لئے مضطرب رہتے ہیں -انہیں پھر چاہے کتنی ہی دُشواریوں کا سامنا کیوں نہ کرنا پرے وہ اپنا سفر جاری رکھتے ہیں اور اس سے نہیں گھبراتے-

زندگی کا سفر بھی کچھ اسی طرح ہے ہم سب اک ساتھ زندگی گزارتے ہیں لیکن ہم سب کا زندگی سے متعلق نظریہ مختلف ہوتا ہے- کچھ لوگ زندگی کو صرف آخرت کے لیے اک موقع گردانتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ زندگی کا سفر بخوبی انجام پائے اور وہ آخرت میں سزا سے بچ جائے اور جزا کے مستحق ٹہرے- وہ بڑے نپے تُلے انداز میں زندگی کو گزارتے ہیں- جبکہ کچھ لوگ زندگی سے پوری طرح ے لُطف اندوز ہوتے ہیں اور اپنے اس سفر کے دوران اللہ کی بنائی ہوئی تمام چیزوں سے متاثر تو ہوتے ہیں مگر اُن کی اصلیت کو کھوجنے کی جستجو نہیں رکھتے-وہ ان سے تمام فوائد تو حاصل کرتے ہیں لیکن یہ کوشش نہیں کرتے کہ اس کے بات کو جانے کہ یہ سب سہولیات انسان کو کیوں اور کس مقصد کے لئے عطا کی گئی ہے جبکہ کچھ لوگ مسلسل اس سوچ میں مُبتلا رہتے ہیں کہ کیا ہماری زندگی کا مقصد صرف دنیا کی آسائشات سے لُطف اندوز ہونا ہی ہے ؟ اور یہ سب کچھ انسان کو کیوں اور کس لئے عطا کیا گیا ہے؟ ہم ان تمام نعمتِ خداوندی سے کس طرح فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور  اس کا شکر ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

یعنی کے لوگ زندگی کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں اور اسے بسر کرنے کا طریقہ بھی سب کا مختلف ہوتا ہے- کچھ لوگ شدت سے مزہب پر عمل پیرا ہوتے ہیں جبکہ کچھ مزہب سے یکسر منکر ہوتے ہیں  اور کچھ میانہ روی اختیار رکھتے ہیں وہ دنیا اور مزہب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں- نہ دین کے لئے دنیا کو ترک کرتے ہیں نہ ہی دنیا کے لئے دین کو ترک کرتے ہیں ، یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو کہ دنیا کی ہر شئے میں خدا کے وجود کو تلاشتے ہیں اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ وہ زاتِ پاک ہر جگہ ہر شئے میں موجود ہیں-ایسا سفر اختیار کرنا ہر اک کے لئے ممکن  نہیں ہے آج کے اس تیزرفتار دور میں ہم اکثر اپنی نہایت اہم ضروریات کو بھی فراموش کر جاتے ہیں یا بہت سے قریبی رشتوں کو بھی کھو بیٹھتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہیں کہ ہم ہر کام میں ، ہر مقام پر، یا ہر شئے میں کسی نادیدہ وجود کو تلاشتے رہے-

سفر کے دورا ن انسان کو تھکاوٹ کا احساس بھی ہوتا ہے اور بھوک اور پیاس بھی لگتی ہیں لیکن کوئی بھی شخص سفر کرتے ہوئے اُس وقت تک کھانے یا پینے میں وقت ضائع نہیں کرتا جب تک اُسے شدید بھوک یا پیاس نہ لگے-حالانکہ کھانا اور خاص کر کے پانی انسان کی زندگی کی اہم ضرورت ہیں-تو پھر زندگی کے سفر میں کوئی بھی انسان سچ کی تلاش کا سفر کیسے اختیار کر سکتا ہے جب تک کہ اُسے اس کی پیاس نہ ہو- جو پیاسا ہوتا ہے وہ ہی یہ جستجو کرتا ہے اور جو جستجو رکھتا ہے اُسے ہی اس راہ کا مسافر بنایا جاتا ہے اور وہ بوند بوند کرکے اپنی  روح   کو اس  دریا کے میٹھے پانی سے سیراب کرتا ہے اور ہر بوند کی لزت سے آشنا ہوتا ہے- مگر صرف وہی جو جستجو رکھتا ہے اس سفر کی کٹھن راہوں  سے نہیں گھبراتا اور سفر جاری رکھتا ہے-

سچ کے تلاش کے سفر کی نہ ہی ابتداء انسان کے اختیار میں ہیں اور نہ ہی انتہا –  رب جسے چاہے اس سفر پر لگا دے اور جسے چاہے تھکا دے – اُس کے اِذن کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں- اُسے پانا یا نہ پانا  دور کی بات ہیں لیکن اس سفر کی اپنی ہی ایک لزت ہے اور جو اس لزت سے آشنا  ہو جائے وہ پھر سفر کی کٹھنائیوں سے گھبرا کر سفر منقطع نہیں کرتا بلکہ اس کی خوشبو سے اپنی روح کو معطر کرتا ہے اور سفر جاری رکھتا ہے-


بدھ، 3 جولائی، 2013

سفر شرط ہے!! حصہ اوّل

 زندگی سفر ہے ۔۔۔۔ سفر زندگی ہے۔۔۔

یہ دونوں ہی جملے بارہا کبھی کسی گاڑی کے پیچھے تو کبھی کسی ٹرک یا رکشا کے پیچھے لکھے ہوۓ یا کبھی کسی دیوار یا سائن بورڈ پر لکھے دیکھے ہیں، لیکن جب کبھی ان پر نظر پڑی تو پہلا خیال ذہن میں آیا کہ کیا واقع سفر کرنا کسی کے لئے زندگی ہو سکتا ہے؟ یا زندگی کو کوئی سفر کہ سکتا ہیں؟؟ دیکھا جائے تو دونوں جملوں میں مماثلت پائی جاتی ہیں. چاہے سفر کرنا کسی کے لئے زندگی ہو یا کسی کی زندگی سفر ہو ان دونوں معملات میں دوباتیں مشترک ہیں اور وہ ہے 'تسلسل' اور 'تحرک ' کا پایا جانا-

کسی بھی طرح کے سفر میں تسلسل کا ہونا ایک لازمی جزو ہے- سفر کا تسلسل ہی اسے سفر بناتا ہے اور اس کا اختتام منزل پر ہوتا ہے- جہاں ٹہراؤ آ جاتا ہے اور تسلسل ختم ہو جاتا ہے- اسی طرح ہماری زندگی بھی ایک سفر ہی ہے جس میں تسلسل کا پایا  جانا  ایک اہم جزو  ہے اور اس کا اختتام بھی ٹھہراؤ یعنی موت پر ہے- ہماری زندگی میں تسلسل کے پاے جانے کی واضح مثال ہماری سانسوں کے چلتے رہنےکے عمل سے ملتی ہے- سانس کا جسم میں داخل ہونا اور خارج ہونا ایک مسلسل عمل ہے جس کے باعث ہم زندہ رہتے ہیں اور ہماری سانسوں کے چلتے رہنے کا عمل ہمیں اس تسلسل سے جڑے رہنے پر مجبور کرتا ہے جس کے باعث ہم مسلسل سفر میں رہتے ہیں اور اس طرح ہم زندگی کو سفر کا نام دے سکتے ہیں-

دوسرا جزو 'تحرک' ہے یعنی حرکت میں رہنا- سفر کے دوران ہم مسلسل متحرّک رہتے ہیں چاہے وہ سفر جہاز کا ہو، بس کا ہو یا پیدل ہو، سفر ہمیں متحرّک رکھتا ہے اسی طرح زندگی بھی ہمیں متحرّک رکھتی ہے- انسان جب تک زندہ رہتا ہے کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے وہ اپنے آپ کو حرکت میں رہنے سے روک نہیں پاتا ہے اس کی واضح مثال پلکوں کا جھپکنا اور خیالات کا دماغ میں آنا جانا ہے- یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی زندہ انسان اپنے آپ کو حرکت میں رہنے سے روک پاے، ایک معذور شخص بھی مسلسل اپنی سوچ کے ذریے ہی سہی حرکت میں رہتا ہے. زندگی میں 'تحرک' کا ہونا ضروری ہےجب کہ 'جمود'' موت ہے اسی لئے زندگی بھی سفر ہے-
اس طرح یہ دونوں ہی جملے ایک دوسرے سے جڑے محسوس ہوتے ہیں ایک مسافر کے لئے اگر تو سفر زندگی ہے تو ایک عام انسان کے لئے اس کی زندگی ہی سفر ہے- ایک انسان کے لئے جتنا سانس لینا ضروری ہے اتنا ہی ایک مسافر کے لئے سفر کرنا لازم ہے اور ہم اپنے ارد گرد کے ماحول سے روابط رکھتے ہوے اس سفر کو انجام دیتے ہیں-

سفر کے دوران ایک مسافر مسلسل اپنے ارد گرد کا جائزہ لیتا رہتا ہے اور اپنے اس پاس کے  لوگوں کا مشاہدہ کرتا ہے اسے اور اس سے بہت کچھ سیکھتا ہے اسی طرح ہمارے ذہن میں خیالات کا آنا جانا ہمیں تسلسل سے جڑے رہنے پر مجبور کرتا ہے اور یہ تو ممکن ہی نہیں کہ انسان سوچنے کے عمل کو منقطع کر دے اسے محدود تو کیا جا سکتا ہے لیکن منقطع نہیں کیا جا سکتا اور اگر خیال کے آنے جانے کو اور سوچ کو منقطع کرنا ممکن نہیں ہے تو پھرہم اس دنیا میں رہنے والے لوگوں کو سوچنے اور ان کے اعمال پر نگاہ رکھنے کے علاوہ دنیا کی تمام چیزوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوتے ہے اور یہی سوچ ہمیں ان تمام چیزوں کے خالق کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے-

جب ہمارے خیال کی پروازاُس خالق تک جا پہنچے تو ہم اس راز کو پانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ  اُس رب نے یہ دنیا کیوں بنائ؟؟ ہمارا وجود اس دنیا میں کیوں موجود ہے ؟؟؟ کیا ہم اس دنیا میں صرف کمانے، کھانے پینے، پڑھنےلکھنے ، سونے جاگنے اور عیاشیاں  کرنے کے لیےآئے ہی؟؟یا زیادہ سےزیادہ   زندگیوں کو اپنےمن پسند طریقے سے  گزارتے ہوئے لحد میں جا کر سونے کے لئے؟؟؟ لیکن یہ ممکن نہیں کہ ہم زندگی کی تمام تر اسائشوں سے فائدہ اُٹھانے کے باوجود  اسکے خالق کی حقیقت کہ پانا نہ چاہے، یہ نہ سوچے کے اُس رب العزت نے ہمیں یہ تمام ترعنایات عطا کی ہے تو اس کے بدلے میں ہم  کیا کر سکتے ہیں؟ ہم اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح وہ مقصد پا لیا جائےجس کی وجہ سےہم اس دنیا میں آئے ہیں اور یہی سوچ  ہمیں اپنے  وجود سے قریب کر دیتی ہیں اور نہ صرف اپنے وجود سے بلکہ اپنے سے وابستہ تمام ہستیوں سے قریب تر کر دیتی ہیں اور ہم پوری شدت  سے اس راز سے پردا اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم دنیا میں کیوں آئے ہیں؟؟؟

انسان جب اس دنیا میں آتا   ہے تو وہ اپنے رب سےقریب تر ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ دنیا کے کاموں میں مشغول ہوتا ہے وہ اس احساس سے غافل ہو جاتا ہے لیکن زندگی میں کبھی نا کبھی کسی نہ کسی مقام پر پہنچ کر ہم اپنے آپ میں اک خلا محسوس کرنے لگتے ہیں اور  یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ زندگی میں تمام تر اسائیشوں کو پانے کے باوجود ہماری زندگی میں یہ خلا کیوں اور کس وجہ سے  ہے؟؟ اسے ہم کس طرح پُر کر سکتے ہیں ؟؟؟؟

سفر چاہےاک شہر سے دُوسرے شہر کا  ہو یا اک ملک سے دُوسرے ملک کا یا پھر اپنے گھر سے کسی اپنے کے گھر تک کا ہو ، نیز سفر چاہے چھوٹا ہو یا لمبا، سفر کے دوران ہم اپنے اطراف کا مشاہدہ  کرتے ہوئے سیکھنے کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں اور کائنات کے بہت سے رازوں سے واقیت حاصل کرتے ہیں اسی طرح زندگی کا سفر بھی ہمارے لیے آگہی کا باعث بنتا ہے اور ہمارے دلوں سے پردہ  ہٹانے  اور آنکھوں سے جالے صاف کرنے میں مددگار ثابت ہوتا  ہے  اورہم  اس کائنات کے خالق تک پہنچنے کی جدوجہد میں مشغول ہو جاتے ہیں اور یہاں سے سوچ کا اک نیا باب کھلتا ہےاور زندگی کے اک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے اور وہ سفرسوچ کا سفر یا روح کا سفر کہلاتا ہے-

سفر شرط ہے!! سفر جسمانی ہو یا زہنی، سفر خیال کا ہو یا پھر روح کا- خیال کی پرواز پر سوچ کا سفر روح کی منزل پر پہنچنے میں مددگار  ثابت ہوتا ہے اور روح کا سفر مشکل ترین سفر ہونے کے باوجود تسکین کا باعث بنتا ہے اس سے ہمارا پورا وجود معطر ہو جاتا ہے  اور ےیہ سفر خوشبو کا سفر کہلاتا ہے-