Translate

ہفتہ، 14 فروری، 2015

ریڈیو کا عالمی دن کچھ یادیں

۱۳ فروری ریڈیو کےعالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ ۱۴اگست ۱۹۴۷جب پاکستان ایک نئے ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آیا  پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کے طور پرریڈیو پاکستان کارپوریشن وجود میں آئی ۔ پاکستان کی آزادی کا اعلان ریڈیو پاکستان کے ذریعے ۱۳اگست ۱۹۴۷کو شب کے ۱۱:۵۹پر اردو اور انگریزی میں مصطفی علی ہمدانی مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا:
السلام علیکم!

"پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔ تیرہ اور چودہ اگست، سنہ سینتالیس عیسوی کی درمیانی رات۔ بارہ بجے ہیں۔ طلوع صبح آزادی۔" (Source: Wikipedia)


ریڈیو سے میری بہت سی یادیں وابستہ ہے۔  ریڈیو سننے کی عادت  بچپن سے ہی رہی کیونکہ اُس دور میں ریڈیو صرف تفریح کا ذریعہ یا گانے سننے کے لئے ہی نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ تربیت کا بھی ایک اہم ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ بچپن سے اتوار کو ہونے والے بچوں کے پروگرام سنا کرتے تھے ۔ اُس دور میں ٹی وی گھر میں ہوتے ہوئے بھی ریڈیو کی اپنی ایک الگ اہمیت ہوتی تھی۔ ہر پروگرام کا اپنا ایک الگ مزہ ہوتا تھا۔ ڈرامے بہت پسند تھے خاص کر اطہر شاہ خان (جیدی) صاحب کا  ڈرامہ 'حامد میاں کے ہاں' کے بہت سے ڈائلاگ اب بھی ذہن نشین ہے۔ ایک آواز جو کبھی نہ بھولی  اور آج بھی میری سماعت میں گونجتی ہے وہ حسن شہید مرزا کی ہے۔ ۲۰۱۳ میں وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے ۔ اللہ اُنہیں اپنے جواہرِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔

ریڈیو سے وابستگی شائد اس لئے بھی زیادہ رہی کہ میرے ابّو کو بھی ریڈیو کا جنون تھا۔ صبح سویرے  ریڈیو پر خبروں کے ساتھ ہی ہماری اسکول کی تیاری ہوتی تھی۔ خبریں ہو یا تفریحی پروگرام تمام ہی بڑے شوق سے سُنے جاتے تھے۔ چاہے وہ ریڈیو پاکستان ہو یا ریڈیو سیلون ہو  یا پھر رات کو چترہال پر پُرانے گانے ہو ۱۱ سے ۱۲ تک۔ بہت عرصہ ریڈیو کا ساتھ رہا پھر وہ چاہے چھوٹا سا  ٹرانزسٹر ہو یا  بڑا سا ریڈیو گرام ۔

ریڈیو مواصلات  کے ذرائعے میں ایک قدیم ذریعہ ہونےکے باوجود آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں اب بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔آج کے دور میں جہاں تفریح کے بہت سے ذرائعے  موجود ہے وہاں ریڈیو نے بھی خوب ترقی کی ہے۔ FMکے شروع ہونے کے بعد ریڈیو کے پروگراموں میں بہت تبدیلی ضرور آئی ہے لیکن اب بھی بہت معیاری کام ہو رہا ہے۔ بہت سے چینلز پر معلوماتی ، تعلیمی اور تفریحی پروگرام نشر کئے جاتے ہیں۔ ریڈیو مستقبل کا ایک اہم  مواصلاتی ذریعہ ہے کیونکہ  یہ  نوجوانوں کے لئے نہ صرف سامع کے طور پر ایک اہم ذریعہ تفریح ہے بلکہ اُن کے لئے  اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لانے میں بھی ایک اہم کردار ادا کررہا ہے۔ تمام چیزوں کے دو پہلو ہوتے ہیں اچھے اور بُرے اور اسی طرح ریڈیو بھی ہے۔اب کون اس کا استعمال کس طرح کرتا ہے یہ اُس پر منحصر ہے۔

میری زندگی میں ریڈیو کا ایک اہم کردار رہا ہے اور اس سے بہت سی یادیں وابستہ رہی  ہیں ۔کتابیں پڑھنے کا شوق بھی ریڈیو پر کہانیاں سن کر ہی شروع ہوا تھا اور اب تک ساتھ ہے۔ کیا آپ ریڈیو سننے کے شوقین ہیں؟
 ثمینہ طارق
 جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں