Translate

بدھ، 7 مئی، 2014

چہرے

بچہ  جب سے اس دنیا میں وارد ہوتا ہےاور پہلی بار آنکھ کھولتا ہےاُسی وقت سے اپنے اِرد گرد کئ چہروں کو رواں دیکھتا ہے۔ آہستہ آہستہ ان چہروں میں اضافہ ہوتا چلاجاتا ہے۔ پہلے گھر کے افراد ، پھر خاندان بھر کےاور پھر باہر کی دنیا میں روزانہ ہزاروں چہروں سے متعارف ہوتا ہے۔

چہرے ساخت کی مناسبت سے مختلف ہوتے ہیں مثلاً لمبے، گول، چبوترے، پھولے ہوئے ، پچکے ہوئے وغیرہ۔ اسی طرح  تاثرات بھی انسان کے چہرے کو مختلف بناتے ہیں مثلاً خوش، خطرناک، خوفناک ، اُداس، پُر جوش وغیرہ۔ انسان کا چہرہ اس کے اندرونی حالات کی  نشاندہی کرتا ہے یعنی چہرہ انسان کی نہ صرف اس لئے پہچان بنتا ہے کہ وہ اک مخصوص چہرہ ہوتا ہے اور ہر کسی کا چہرہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ، بلکہ انسان کا چہرہ اُس کے جزبات و احساسات کا ترجمان بھی ہوتا ہے۔ انسان چاہے یا نہ چاہے اُس کے جزبات و احساسات کا اظہار اُس کے چہرے سے ہو جاتا ہے اور چہرہ اندازِ گفتگو کی اک قسم  بن جاتا ہے۔ زبان سے لفظ ادا ہو یا نہ ہو انسان کا چہرہ اُس کا دُکھ، خوشی ، محبت، نفرت غرض ہر قسم کے جزبات کو ظاہر کر دیتا ہے فقط اُس کو پڑھنے والی نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔

 انسان کا دماغ ہر وقت کسی نہ کسی سوچ میں مبتلا رہتا ہے اور اُس کی یہی سوچ اُس کے چہرے پر لفط بن کر بکھر جاتی ہے۔ ایک عام انسان اپنے جزبات کو اپنے چہرے پر ظاہر ہونے سے نہیں روک پاتا ہے لیکن جو بہت مضبوط اعصاب کے مالک لوگ ہوتے ہیں وہ اکثر اپنے چہروں پر خول چڑھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے درد کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن اس درد کو بھی پڑھنے والی آنکھ پڑھ اور محسوس کر لیتی ہے اور وہ یہی سوچتا رہتا ہے کہ وہ سب سے چھپ کر رہنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

بعض اوقات انسان  جو کچھ محسوس کرتا ہےاُس کا اظہار لفظوں میں کرنا اُس کے لئے ممکن نہیں ہو پاتا ہے اور وہ ہی سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ سامنے والے کو کس طرح بتایا جائے جب کہ انجانے میں اُس کا چہرہ وہ سب کچھ کہہ جاتا ہے جو اُس کی زبان کہنے سے گھبراتی ہے اسی لئے اکژ اوقات جب ہمارے کچھ کہے بناکوئی  ہمارے دل کا حال جان لیتا ہیں تو ہم حیران رہتے ہے کہ اس نے کس طرح جانا۔ایسے لوگ چہرے پڑھنے کا فن رکھتے ہیں اور وہ دلوں میں چھپی محبت، نفرت، حسد ، بدگمانی اور کینہ جیسی تمام کیفیات کو ہمارے چہروں پر پڑھ لیتے ہیں۔

اکثر  لوگ  اپنے اوپر ایک خول چڑھا کر  رکھتے ہیں ۔ دلوں میں کینہ اور حسد رکھتے ہوئے بھی  چہروں پر مسکراہٹ رکھتے ہیں لیکن اُن کے چہرے اُن کے اندر کے مکروہ پن کو ظاہر کر ہی دیتے ہیں ۔اسی طرح کچھ لوگ  ہوتے تو بہت نرم دل ہیں اور آپ کے لیے دل میں نرمی اور محبت کے جزبات رکھتے ہیں لیکن مصلحتً اُنہیں ظاہر نہیں کرتے ہیں اور اُنہیں دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بہت غصیلے ہیں اور ابھی لڑ پرے گے لیکن حقیقتً وہ خود کو ہی دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں کیونکہ اُن کے چہرے اُن کے دلوں کا حال واضح کر دیتے ہیں۔

لیکن ان تمام لوگوں کے درمیان ایسے لوگ بھی موجود ہے جن کا ظاہر اور باطن یکساں ہوتا  ہے جو دلوں میں محبتیں رکھتے ہیں تو اُن کے چہرے بھی ان محبتوں کے نور سے روشن رہتے ہیں اور  ظاہر اور باطن کی ہیں یکجہتی انہیں سب میں ممتاز کر دیتی ہیں ۔ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق انسان کی یاداشت میں خوبصورت چہرے باقی نہیں رہتے ہیں وہ خوبصورت  چہروں کی بنسبت ایسےچہروں کو زیادہ اچھی طرح یاد رکھ سکتا ہے جس میں کچھ نمایاں بات یا مخصوص نشانات موجود ہو۔ تو ظاہر و باطن کی یہی یکجہتی انسان کے چہرے کو مخصوص بنا دیتی ہےاور سب میں نمایاں کر دیتی ہیں پھر  ایسے چہروں کو ایک بار دیکھنے کے بعد  اُس کو بھول جانا ممکن نہیں ہوتا۔

زندگی ایک سفر ہے اور اس سفر کے دوران ہم ہزاروں چہروں سے متعارف ہوتے ہیں  اور اُن کا مشاہدہ بھی کرتے ہوئے اُن سے بہت کچھ سیکھتے ہیں اور اگر زندگی میں ہمیں ایک بھی ایسا چہرہ نظر آجائے جس کے لئےہمارا دل گواہی دے کہ اس کا ظاہر و باطن یکساں ہے تو پھر اس چہرے کو بھولنا ممکن نہیں رہتا  اور اگر ایک بار اس چہرے کو دیکھنے کے بعد ہم دوبارہ کسی مقام پر اُسے دیکھ لے تو کوشش کے باوجود اپنی نگاہوں کو اُس کی طرح اُٹھنے سے روک نہیں سکتے ہیں۔ ایسے اُجلے اور بولتے چہرے سے  اپنے آپ کو بچانا ممکن ہی نہیں ہے اور اُنہیں دیکھ کر دل کو جو راحت میسر آتی ہے اُس کا کوئی مول نہیں۔

ایسا ہی ایک چہرہ کچھ عرصہ قبل فیس بک پر ایک فرینڈ کی کسی پوسٹ کے کمینٹ پڑھتے ہوئے دیکھنے کو ملا اور ایک ہی نظر میں دل میں اُترے اُس چہرے کو کبھی نہ بھول پائی ۔ پچھلے دنوں سفر سے واپسی پر ہوائی جہاز میں اُس چہرے پر اُس وقت نظر پڑی جب میں اپنی سیٹ پر بیٹھنے جا رہی تھی اور نظر ملتے ہی اُن کے چہرے پر کھلتی مسکراہٹ نے مجھے بھی پورے دل سے مسکرانے پر مجبور کر دیا اور سارا سفر اس احساس کے ساتھ بہترین گزرا کہ ایک  ایسی ہستی میری سیٹ کے پیچھے براجمان ہے جس کا  چہرہ  اُس کے دل کی زبان بولتا ہے۔ ایئر پورٹ پر اُتر کر بھی میری نطر اُس چہرے سے  نہ ہٹ پائی ۔ ایک بار دیکھنے پر میں اُس چہرے کو نہ بھول پائی تھی تو اب دو گھنٹے ساتھ سفر کرنے پر کبھی نہ بھولوں گی۔میں اُن کے بارے میں اُن کے نام کے سوائے کچھ نہیں جانتی اور شاید جاننا بھی نہیں چاہتی کیونکہ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ وہ یقیناً ایک زندہ دل ، محبت اور شفقت سے پیش آنے والی خاتون ہے ۔ بہت ساری نیک خواہشات اور دعایئں   اس پیاری ہستی  میڈم رحمت ابراہیم  کے نام۔

ثمینہ طارق




جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

پیر، 28 اپریل، 2014

سفر زندگی ہے!

سفر زندگی ہے اور زندگی سفر ہے۔ یہ دونوں ہی جملے ہمیشہ میرے قلم کی زد میں رہے ہیں۔ سفر شرط ہے پھر وہ زندگی کا سفر ہو یا زندہ رہنے کے لئے سفر ہو۔ زندگی کو میں نے کئ پیرایوں میں جانچنے کی کوشش کی ہے اور ہر طرح سے مجھے زندگی اک سفر کی مانند ہی لگی چاہے وہ سوچ کا سفر ہو، زہنی سفر ہو، جسمانی سفر ہو یا روح کا سفر ہو غرض میں نے زندگی کو سفر ہی پایا۔
کسی بھی سفر پر نکلنے سے پہلے ہم زادِ راہ ضرور تیار کرتے ہیں ورنہ سفر میں دشواری کا سامنا کرنا پرتا ہے اور ہم سفر میں در آنے والی مشکلات کے باعث اس کی لذت سے یکسر محروم رہتے ہیں۔ سفر کی نوعیت چاہے کچھ بھی ہو اس کو اپنانے سے پہلے ہمیں اس میں درپیش مشکلات کے خوف کو اپنے سے جدا کرنا نہایت ہی ضروری ہیں کیونکہ خوف کے ساتھ کچھ بھی کرنا ممکن نہیں ہے۔اپنے یقین کو ہمیشہ اپنے خوف سے بلند رکھتے ہوئے جو بھی کام کیا جائے وہ ضرور تکمیل کو پہنچتا ہے اور خوشی کا باعث بنتا ہے۔ جو لوگ سفر کی کٹھنائیوں سے گھبراتے نہیں ہے وہ اس کی لذت سے محظوظ ہوتے ہیں اور اس کی خوشبو سے اپنی حیات کو معطر کرتے ہیں۔
 یہ  زندگی جو ہمیں ملی ہے اسے ہر کوئی گزارتا ہی ہیں چاہے اس کی بہتری کے لئے کوشا ں ہو یا پھراسے قسمت کے رحم وکرم پر سونپ کر لگی بندھی ہی گزار دے لیکن زندگی درحقیقت اک سفر ہی ہے۔ پیدائش سے لے کر موت تک کا سفر، بہتری کا سفر ، تبدیلی کا سفر، سیکھنے اور جاننے کا سفر ، روح کے درجات کا سفر۔زندگی ساکت ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ متحرک رہنے کا نام ہے اور یہ حرکت ہی اسے سفر بناتی ہے جبکہ موت اسے ساکت کر دیتی ہے۔
یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان اپنی  زندگی میں کبھی سفر نہ کرے کیونکہ سفر صرف ایک ملک سے دوسرے ملک یا اک خطہء زمیں سے دوسرے خطے میں جانے کا نام نہیں ہے سفر متحرک رہنے کا نام ہے اور انسان ساری زندگی سفر میں ہی رہتا ہے چاہے وہ  گھر سے اسکول تک کا سفر ہویا دفتر تک کا یا اپنے گھر سے کسی اپنے کے گھر تک کا، سفر چھوٹا ہو یا لمبا انسان کو متحرک رکھتا ہے اور وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے آشنا ئی پاتا ہے ۔سفر چاہے بس کا ہو، ریل کاہو یا جہاز کا ہو وہ خوشی اور اطمینان کا باعث ضرور بنتا ہے ۔
سفر انسانی زندگی میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے عمل میں ثاکت و منجمد   زندگی متحرک ہو جاتی ہے اور  بہت سے تجربات سے گزرتی ہے اور تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔ سفر کے دوران انسان کی ہر سانس اک نئی کھوج میں رہتی ہے اور وہ نہ صرف اپنے اردگرد کے ماحول  کو پرکھ کر اپنے علم  اور تجربہ میں اضافہ کرتا ہے بلکہ  اس میں بسنے والے لوگوں کی زندگی ، ان کی عادات، مشاغل اور رہن سہن کے انداز کا  مشاہدہ کرتا ہے اور اس بہت کچھ سیکھتا ہے۔
سفر کے دوران انسان  اپنی ذات سے باہر نکل کر دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ دنیا صرف اس کی ذات کا ہی محور نہیں ہے اور نہ ہی صر ف اس کے خاندان، ملک یا خطے کا محور ہے بلکہ یہ مختلف قسم کے لوگوں  سے بھری  پری ہے   جن کی زندگی مختلف پیرائے میں گردش کر رہی ہے ۔اُن کے مشاغل  ، عادات،  ترجیحات اور مسائل مختلف ہے اور اُن کو حل کرنے کے انداز واطوار بھی مختلف ہے۔ اس طرح سفر کے دوران انسان اپنے آپ کو باہر کی دنیا سے روشناس کرواتا ہے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
سفر زندگی ہے!! جی ہاں سفر زندگی ہےکیونکہ سفر ہی انسان کو متحرک رکھتا ہے لیکن روز مرّہ کے عام سفر سے ہٹ کر سفر کا ارادہ کیا جائے تو ڈر کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ دعا کا در بھی کھول دیا جائے کیونکہ سفر اُسی کو میسر آتا ہے جسے اذنِ سفر مل جائے ورنہ انسان  اپنی زندگی میں صرف انگریزی والا  سفر (suffer) ہی کرتا ہے۔

ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

منگل، 15 اپریل، 2014

ہفتہ، 15 مارچ، 2014

وقت


وقت کبھی  ٹہرتا نہیں ، کہیں رُکتا نہیں، کسی کا انتظار وہ کرتا نہیں۔ لمحے منٹوں میں ، منٹ گھنٹوں میں ، گھنٹے دنوں اور دن مہینوں  اور مہینے سالوں  میں اس طرح  تبدیل ہوتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وقت کا اسطرح بدلنا کبھی ہم محسوس کر پاتے ہیں اور کبھی اپنی زندگی میں اسقدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ ہمیں اس کے گزرنے کا احسا س ہی نہیں ہوتا ہے۔ ہم اسے محسوس کرے یا نہ کرے اس سے کوئی فرق نہیں پرتا کیونکہ وقت کو چلتے ہی رہنا ہے اسے کہیں بھی کسی کے لئے بھی نہیں ٹہرنا۔ کیونکہ وقت پیمائشی نظام کا ایک ایسا جزو ہے جس سے دو واقعات کے درمیانی وقفہ کو معلوم کیا جاتا ہے ۔ یہ واقعات کا ایک ایسا تسلسل ہے جسے واپس نہیں پلٹا جا سکتا ہے۔

وقت کے گزرنے کی کیفیت کو ہم اپنے حالات اور واقعات اور اپنی   زندگی کے پیرائے میں دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ جب ہمیں کسی کا انتظار ہو تو وقت کاٹے نہیں کٹتا ہے اور ہم سوچتے ہیں کہ آج وقت کیوں اتنی آہستگی سے گزر رہا ہے  لیکن جب ہمارے پاس کسی کام کو کرنے کے لئے مقررہ وقت ہو تو محسوس ہوتا ہے کہ وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے اور ہم وہ کام وقت پر مکمل نہیں کر پائے گے۔ اسی طرح  جب ہم خوش ہوتے ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا وقت اچھا چل رہا ہے اس لئے ہمیں خوشی اور کامیابی حاصل ہو رہی ہے لیکن اگر تو کسی کام میں ناکامی ہمارے ساتھ ہو تو ہم دُکھی ہو جاتے ہیں اور اس دُکھ کی ذمہ داری بھی وقت کے سر ڈال دی  جاتی ہے کہ ہمارا وقت ہی بُرا چل رہا ہے اس لئے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اپنی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کی ذمہ داری کے پیچھے جو  عوامل کارفرما ہوتے ہیں اُنہیں ہم یکسر فراموش کر دیتے ہیں کہ ہماری کامیابی میں ہماری محنت، توجّہ ، مستقل مزاجی اور لگن بھی شامل ہے جبکہ ہماری کسی بھی ناکامی میں کچھ ہماری کوتاہی تو کچھ کم ہمتی اور  خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہیں۔

وقت سے متعلق دو جملے بہت مشہور ہیں اور دونوں ہی ہماری زندگی میں نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں اس لئے ان پر خاص توجّہ دینے کی ضرورت ہے۔
۱-ہر کام اپنے وقت پر اچھا لگتا ہے
۲-گیا وقت کبھی واپس نہیں لوٹتا۔

ہم زندگی میں کرنا تو بہت کچھ چاہتے ہیں لیکن ہم میں سے اکژ  لوگ سب کچھ کر لینے کی خواہش رکھتے ہوئے بھی کچھ بھی کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ صرف خواب دیکھنے اور منصوبے بنانے سے کچھ بھی ممکن نہیں ہوتا اس کے لئے عمل کی ضرورت ہوتی ہیں۔ پہلا قدم اُٹھانے میں خوف ضرور محسوس ہوتا ہیں لیکن اگر اس خوف پر قابو پا لیا جائے تو پھر کچھ بھی کرنا ناممکن نہیں ہوتا۔اکثر ہم کچھ کرنے سے پہلے یہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ یہ وقت اس کام کے لئے مناسب ہے یا نہیں؟ ہمیں اسوقت اس کام  کی ابتداء کرنی چاہئے یا نہیں؟ یہی سوچیں ہمیں کسی بھی کام کو کرنے سے روکتی رہتی ہے اورہم  اپنی زندگی کے بہترین لمحات کو کھو دیتے ہیں جس میں ہم وہ سب کچھ کر سکتے تھے جو ہمارا دل کرنے کو چاہتا ہے اور فقط وقت کے درست ہونے نہ ہونے کا سوچ کر ہم اپنی زندگی کے بہت قیمتی لمحات کو کھو بیٹھتے ہیں اور جب ہمیں اس کا احساس ہوتا ہے تو پھر یہی خیال آتا ہے کہ اب تو وقت ہاتھ سے نکل گیا اب کیا ہو سکتا ہے اور پھر ہمت ہار کر وہ سب کبھی نہیں کر پاتے ۔لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اب آپ کچھ نہیں کر سکتے ۔ کسی بھی کام کو سر انجام دینےکے لئے وقت کی قید نہیں ہوتی اور نہ ہی عمر کی فقط ہمت اور لگن کی ضرورت ہوتی ہیں اور کامیابیا ں ساتھ ہوتی ہے صرف اُن کے جو اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے خوف کو ترک کر کے قدم بڑھاتے ہیں اور مستقل مزاجی سے اس کام کو  سرانجام دیتے ہیں۔

لیکن یہ بھی درست ہے کہ کچھ کام وقت رہتے ہی کر لئے جائے تو بہتر ہے ورنہ اُن کی اہمیت باقی نہیں رہتی او ر جس کی وجہ سے اکثر ہم بہت سے اپنوں کو کھو بیٹھتے ہیں۔ کسی اپنے کی خوشی میں وقت پر شریک ہونا، یا کسی کی تکلیف میں اُس کا ساتھ دینا نہایت اہمیت رکھتا ہے ۔ ایسے خاص اوقات میں ہم صرف یہ سوچ کر کہ ہمارے کام اور ہماری مصروفیت زیادہ اہم ہے شرکت نہ کر کے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرتے ہیں پھر چاہےاس کے لئے کتنی معذرت کر لی جائے نہ تو اُن کو تسلّی ہوتی ہے اور نہ ہمیں تشّفی ہوتی ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی اپنا روٹھ جائے یا ناراض ہو جائے تو اپنا محاسبہ کرنے میں اتنا وقت صرف نہ کردے کہ پھر معذرت کا موقع ہی ہاتھ سے نکل جائے اور ہماری زندگی ان پرخلوص دوستو ں اور رشتوں سے خالی ہوجائے ۔دل سے قریب رہنے والے لوگوں سے جُدائی کا دکھ ہمیشہ کا دُکھ ہوتا ہےاور اک گہرا زخم بھی۔یہ سچ ہے کہ وقت ہر زخم کا مرہم بن جاتا ہے۔ کوئی بھی زخم کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو وقت کا بہاؤ اسے بہا لے جاتا ہے۔  لیکن کچھ زخم ایسے  بھی  ہوتے ہیں جو وقت کے دھارے میں بہہ کر بہل تو  جاتے ہیں اور  وقت کا مرہم کچھ دیر کو تو  انہیں خشک کر دیتا ہے ۔مگر آہستہ آہستہ اُس پروقت کی کھڑند جم جاتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ سخت ہو جاتی ہے. پھر جب اسی بے رحم وقت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہم ایسے زخموں کو کھرچے لگتے ہیں تو اُن  سے دوبارہ لہو رسنے لگتا ہے اور وہ زخم ہمارے دل کا ناسور بن جاتے ہیں۔

وقت واقعات کا ایک تسلسل ہے جو   ماضی، سےحال اور پھر  مستقبل کی جانب رواں رہتا ہے۔گیا وقت کبھی واپس لوٹ کر نہیں آتا ہے اور آنے والا وقت کیسا ہوگا اس کی ہمیں کچھ خبر نہیں اس سے صرف ربِ کریم کی ذات واقف ہے۔ ہم اپنے لئے کچھ بھی سوچ لیں، کچھ بھی منصوبہ بنا لیں لیکن ہونا وہی ہے جو رب کی مرضی اور منشاء ہو گی پھر گزرے وقت کی کوہتائیوں پر کفِ افسوس ملنے  اور آنے والے وقت کے خوف سے اپنے آج کو ضائع  کرنےکے بجائے  گزرے وقت سے سبق حاصل کرے اور آنے والے وقت کو بہتر بنانے کے لئے کوشش اور دعا کرےکیونکہ یہ جو لمحہ ہم اس وقت جی رہے ہیں وہیں سب سے قیمتی ہے کل ہوتے ہی وہ ماضی بن کر افسوس بن جائے گا۔

جب تک ہماری سانسیں چل رہی ہیں، زندگی ہمارے وجود میں باقی ہے   ۔دن، مہینے،اورسال یونہی گزر تے جائے گے فقط لمحہ موجود ہی ہمارے اختیار میں ہے اس لئے اس کا استعمال سوچ سمجھ کر اور مناسب طریقے سے کرنا ہی عقلمندی کی نشانی ہے اور اسی میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ہے تو کیوں نہ اس کا استعمال اس طرح کیا جائے کہ اس سے اپنے ساتھ اپنے اطراف میں بسنے والے کچھ اپنوں کا بھی بھلا ہو جائے۔جس طرح وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اسی طرح موت بھی کسی کا انتظار نہیں  کرتی ۔ نہ جانے آنے والا کونسا لمحہ ہماری زندگی کا آخری لمحہ ہوتو کیوں نہ اس لمحے کو ہی اپنی گرفت میں رکھتے ہوئے آنے والی زندگی کےسفر کے لئے کچھ زادِ سفر حاصل کر لیا جائےاور اپنا مقصدِ حیات پا لیا جائے۔

ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

جمعہ، 21 فروری، 2014

میری ڈائری کا تازہ ورق

۱۸-۲-۲۰۱۴
آج
میرے سر پر سایہ کئے آسمان سے
ایک  اور تارا
ٹوٹ کر گر گیا!!
شفقت، محبت، توجّہ اور اپنائیت کا وہ احساس جو والدین کی وفات کے بعد بھی مجھ سے جدا نہ ہوا وہ اب جدا ہو گیا۔  میرے سب سے بڑے ماموں جان جو میری والدہ کے لئے بھی والد کی طرح قابلِ احترام تھے ہم سے جدا ہو گئے۔ اللہ انہیں اپنی جواہرِ رحمت میں جگہ عطا فرمایئے اور اُن کے درجات بلند فرمائے۔ آمین!
ثمینہ طارق



جملہ حقوق بحقِ خوشبو کا سفر©محفوظ ہے۔

منگل، 18 فروری، 2014

ذکر------- اقتباس

جھنجھلاہٹ اور بے چینی کا سب سے مؤثرعلاج ذکر ہے اور اگر اس ذکر کے دوران ہماری آنکھ پُرنم ہوجائے  تو ہم سکون کی ایسی  لذت سے آشنا ہو جاتےہیںجس کا کوئی نعم البدل نہیں کیونکہ رب سے بہترین دوست کوئی ہو نہیں سکتا اور جس کو یہ دوست میسر آجائے اُسےکسی دوسرے کی تلاش نہیں رہتی۔

  ثمینہ طارق